ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ حالیہ جنگ میں ایرانی قوم کی دلیرانہ مزاحمت نے ثابت کر دیا کہ ملک امریکا اور اسرائیل کے خلاف مزید مضبوط اور متحد ہوچکا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران میں یومِ تحفظِ زبانِ فارسی اور جشنِ عظیم فارسی شاعر ابو القاسم فردوسی کے موقع پر مجبتیٰ خامنہ ای نے خصوصی بیان جاری کیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایرانی عوام نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ میں مقدس دفاع کے دوران یہ ثابت کیا کہ فردوسی کی شاہکار رزمیہ نظم ’’شاہ نامہ‘‘ صرف داستان نہیں بلکہ ایرانی قوم کی حقیقی زندگی اور بہادری کی عکاسی ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر نے مزید کہا کہ نظم ’’شاہ نامہ‘‘ میں بیان کیے گئے قرآنی اور بہادرانہ تصورات ایرانی معاشرے کے تمام نسلی اور سماجی طبقات کو اتحاد، آزادی اور قومی شناخت کے تحفظ کے لیے ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتے ہیں۔
انھوں نے اپنے بیان میں ایرانی اساطیر کے ظالم کردار “ضحاک” کا حوالہ دیتے ہوئے امریکا اور اسرائیل کو “ضحاک جیسے جارحین” قرار دیا۔
سپریم لیڈر نے کہا کہ حالیہ جنگ نے ایرانی قوم کے حوصلے اور مزاحمتی صلاحیت کو مزید مضبوط کیا ہے اور بیرونی دباؤ کے باوجود قوم متحد ہے۔
ضحاک ایران کی تاریخ کا ظالم و جابر ترین بادشاہ تھا۔ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے دونوں شانوں پر دو سانپ پیدا ہو گئے تھے۔
ان سانپوں کی غذا انسان کا گوشت تھی چنانچہ ضحاک ہر روز کسی نوجوان کو مار کر اس کا گوشت سانپوں کو پیش کیا کرتا تھا۔
جابر حکمراں ضحاک بعد ازاں فریدون کے ہاتھوں مارا گیا۔ جس کے بعد سے فریدون بہادری اور جرات کا استعارہ بن گیا۔
یاد رہے کہ فروری کے آخری روز اسرائیلی و امریکی حملے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد مارچ کے وسط میں ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر مقرر کیا گیا ہے۔
اپنی تقرری کے بعد نئے سپریم لیڈر تاحال منظرعام پر نہیں آئے اور نہ ہی ان کی تصاویر یا ویڈیو بیان سامنے آیا ہے۔ ان کے بیانات بھی سرکاری چینل پر پڑھ کر سنائے جا رہے ہیں۔ جس کے باعث ان کی زندہ ہونے سے متعلق افواہیں زیر گردش ہیں۔
امریکا متعدد بار دعویٰ کرچکا ہے کہ جس حملے میں آیت اللہ خامنہ ای شہید ہوئے تھے اس میں مجتبیٰ خامنہ ای بھی زخمی ہوگئے تھے اور ان کے ٹانگ پر گہری چوٹ آئی تھی جس کے بعد وہ نامعلوم مقام پر زیر علاج رہے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے بتایا تھا کہ نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای مکمل ہوش و حواس میں ہیں اور تیزی سے روبہ صحت ہیں۔ وہ پاسداران انقلاب کے چند کمانڈرز کے ذریعے اپنے فرمان اور مشورے جاری کرتے ہیں۔