بھارت؛ برکس وزرائے خارجہ اجلاس اختلافات کے باعث مشترکہ اعلامیہ جاری کیے بغیر ختم

رکن ممالک کے اختلاف کے باعث صرف چیئرمین اسٹیٹمنٹ جاری کیا گیا


ویب ڈیسک May 15, 2026

بھارت میں ہونے والا برکس ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ختم ہوگیا لیکن اس اہم اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ اختلافات کی نذر ہوگیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برکس اجلاس کے بعد روایت کے برخلاف صرف میزبان ملک بھارت کی جانب سے چیئرمین اسٹیٹمنٹ ہی جاری کیا جا سکا۔

دو روزہ اجلاس کے اختتام پر رکن ممالک مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے میں ناکام رہے جس کی وجہ ایران جنگ اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر شدید اختلافات بتایا جا رہا ہے۔

نئی دہلی میں ہونے والے برکس اجلاس میں میزبان بھارت کے علاوہ متحدہ عرب امارات، ایران، روس، چین، جنوبی افریقا اور برازیل کے وزرائے خارجہ شریک تھے۔

اجلاس میں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ نے غزہ جنگ، آبنائے ہرمز کی صورتحال، بحری تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا۔

سفارتی ذرائع کے مطابق ایران چاہتا تھا کہ برکس کھل کر امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف کارروائیوں کی مذمت کرے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے متحدہ عرب امارات کا نام لیے بغیر الزام عائد کیا کہ ایک رکن ملک نے اعلامیے کے بعض حصوں کو روک دیا۔

انھوں نے مزید کہا کہ ایران نے موجودہ جنگ میں صرف امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا چاہے وہ اڈے متحدہ عرب امارات کی سرزمین پر موجود ہوں۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے ایرانی الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی خودمختاری اور سلامتی کے خلاف کسی بھی حملے کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

اماراتی نائب وزیر خارجہ خلیفہ شاہین المرر نے ایران پر الزام لگایا کہ اس نے 28 فروری سے اماراتی شہری تنصیبات اور اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا اور آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری راستوں میں رکاوٹیں پیدا کیں۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری چیئرمین اسٹیٹمنٹ میں کہا گیا کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر رکن ممالک کے درمیان مختلف آرا موجود تھیں۔

چیئرمین بیان میں جلد آبنائے ہرمز اور مشرق وسطیٰ کے سفارتی حل، علاقائی خودمختاری کے احترام، بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور عالمی بحری تجارت کے تحفظ پر زور دیا گیا۔

اجلاس میں غزہ کی صورتحال بھی زیر بحث آئی۔ برکس ممالک نے غزہ کو فلسطینی علاقوں کا حصہ قرار دیتے ہوئے مغربی کنارے اور غزہ کو فلسطینی اتھارٹی کے تحت متحد رکھنے کی حمایت کی تاہم اس معاملے پر بھی ایک رکن ملک نے بعض نکات پر تحفظات ظاہر کیے۔