کراچی کی عدالت نے منشیات کیس میں گرفتار ملزمہ پنکی کا 22 مئی تک جسمانی ریمانڈ منظورکرلیا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ سینٹرل کی عدالت نے ملزمہ انمول عرف پنکی کا 22 مئی تک جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔
دوسری جانب جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت نے قتل کیس میں ملزمہ پنکی کے جسمانی ریمانڈ میں 2 دن کی توسیع کردی۔ ملزمہ کو پیر کو دوبارہ پیش کرنےکا حکم دیا گیا ہے۔عدالت نے ضلع جنوبی کے دیگر 13 مقدمات میں ملزمہ کاجوڈیشل ریمانڈ دے دیا۔
ادھر ملیر کی عدالت نے سچل تھانے کے کیس میں انمول عرف پنکی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے تفتیشی افسر سے 14 روز میں چالان طلب کرلیا۔ اس حوالے سے پراسیکویشن کا کہنا ہےکہ عدالتی فیصلہ چیلنج کریں گے۔
سٹی کورٹ میں انمول عرف پنکی نے کمرہ عدالت میں کسی بابا نامی شخص کا انکشاف کیا۔ انمول عرف پنکی کسی بابا کے بندے سے ملنے کی متمنی دکھائی دی۔
کمرہ عدالت میں موجود ایک وکیل سے انمول عرف پنکی نے سوال کیا کہ کیا تمہیں بابا نے بھیجا ہے۔ وکیل کے کہنے پر پنکی کمرہ عدالت میں بابا کا بندہ تلاش کرتی رہی، ملزمہ نے کمرہ عدالت میں کہا، ’’ہم تو ڈوبے ہیں صنم، تمہیں بھی لے ڈوبیں گے‘۔
وکیل صفائی میر ہدایت اللہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ ملیر سے عدالتی ریمانڈ حاصل کرلیا گیا ہے۔ یہاں بھی جج صاحب کی صوابدید ہے کہ وہ کیا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مؤقف یہی ہے کہ جھوٹے مقدمات بنائے گئے ہیں۔
دوسری جانب سٹی کورٹ میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے باعث انمول عرف پنکی کے جسمانی ریمانڈ یا جیل بھیجنے سے متعلق احکامات میں رکاوٹ پیش آئی۔
جوڈیشل مجسٹریٹ ساؤتھ نے کہا کہ بجلی آنے کے بعد کریکشن کرکے پھر درخواستوں کا فیصلہ کروں گا۔ سٹی کورٹ میں گزشتہ ایک گھنٹے سے بجلی کی آنکھ مچولی جاری رہی۔
ڈیوٹی مجسٹریٹ ضلع وسطی نے انمول عرف پنکی کے خلاف منشیات کے مقدمے میں جسمانی ریمانڈ سے متعلق تحریری فیصلہ جاری کردیا۔
ایس آئی یو کے تفتیشی افسر کے مطابق مقدمے میں پہلے ایک ملزم بلال عرف کاشف جیل میں ہے۔ تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ملزمہ نے پولیس کسٹڈی میں تشدد کی شکایت کی، تاہم بظاہر تشدد کے نشانات موجود نہیں ہیں۔
تحریری حکم نامے کے مطابق تفتیشی افسر نے ملزمہ کا میڈیکو لیگل افسر سے معائنہ کراکر رپورٹ پیش کرنے کی تجویز دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ ملزمہ مقدمے میں مفرور تھی اور مختلف سنگین نوعیت کے مقدمات میں بھی ملوث ہے۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ تفتیشی افسر نے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، جبکہ ملزمہ انمول مقدمے میں نامزد ہے اور ایس آئی یو نے پہلی بار ریمانڈ کی درخواست دی ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ ملزمہ کے خلاف اسی نوعیت کے دیگر اضلاع میں بھی مقدمات درج ہیں، لہٰذا ملزمہ کا 6 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا جاتا ہے۔
تحریری فیصلے کے مطابق 22 مئی کو ملزمہ کو متعلقہ عدالت میں پیش کیا جائے گا، جبکہ تفتیش کی پیش رفت رپورٹ بھی عدالت میں جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔