بچوں میں ورچوئل آٹزم

بچوں کی ذہنی اور جذباتی نشوونما ایک نہایت حساس اور مرحلہ وار عمل ہے



ڈیجیٹل دور نے انسانی زندگی کے تقریباً ہر شعبے کو گہرے اور ہمہ گیر انداز میں متاثر کیا ہے، مگر سب سے نمایاں اور حساس تبدیلی بچوں کی نشوونما، تربیت اور سماجی رویوں میں دیکھی جا رہی ہے۔ زیادہ اسکرین ٹائم بچوں میں ’’ورچوئل آٹزم‘‘ کا باعث ہو سکتا ہے۔

اسمارٹ فونز، ٹیبلٹس یا دیگر اسمارٹ ڈیوائسز پر کافی زیادہ وقت گزارنے والے بچوں میں ’’ورچوئل آٹزم‘‘ میں مبتلا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ یہ ذہنی کیفیت بچوں کو ساری عمر کے لیے دماغی و جذباتی طور پر مفلوج بنا سکتی ہے۔

آج کے بچے کھیل کے کھلے میدانوں، ہم عمر دوستوں کے ساتھ جسمانی سرگرمیوں اور روایتی سماجی میل جول کے بجائے موبائل فون، ٹیبلٹ، کمپیوٹر اور ٹیلی ویژن اسکرینوں کے سامنے زیادہ وقت گزار رہے ہیں۔

یہی تبدیلی ایک ایسے رجحان کو جنم دے رہی ہے جس پر ماہرین نفسیات اور ماہرین اطفال کے درمیان سنجیدہ بحث جاری ہے اور اسی تناظر میں ایک اصطلاح’’ ورچوئل آٹزم‘‘ استعمال کی جا رہی ہے۔

تاہم اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ یہ کوئی باقاعدہ طبی تشخیص نہیں اور نہ ہی اسے عالمی طبی درجہ بندی جیسے DSM-5 یا ICD-11 میں ایک تسلیم شدہ بیماری کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ DSM-5 اور ICD-11 دراصل ذہنی اور جسمانی بیماریوں کی تشخیص اور درجہ بندی کے بین الاقوامی مستند نظام ہیں جو عالمی سطح پر طبّی تحقیق، کلینیکل تشخیص اور صحت کے اعداد و شمار کو یکساں بنانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

 DSM-5 (Diagnostic and Statistical Manual of Mental Disorders) کو امریکی نفسیاتی انجمن American Psychiatric Association

نے تیار کیا ہے اور یہ بنیادی طور پر ذہنی امراض کی تفصیلی تشخیص کے لیے استعمال ہوتا ہے، جس میں علامات کو مخصوص طبی معیار کے مطابق پرکھ کر بیماری کی درست شناخت کی جاتی ہے۔

اس کے برعکس ICD-11 (International Classification of Diseases) کو عالمی ادارہ صحت World Health Organization نے مرتب کیا ہے اور یہ ایک جامع عالمی نظام ہے جو تمام جسمانی اور ذہنی بیماریوں کو کوڈز کی صورت میں درجہ بند کرتا ہے تاکہ دنیا بھر میں صحت کے ریکارڈ اور شماریات میں یکسانیت برقرار رکھی جا سکے۔

دونوں نظاموں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ DSM-5 زیادہ تفصیلی طور پر ذہنی امراض کی تشخیص پر توجہ دیتا ہے جب کہ ICD-11 ایک وسیع تر عالمی درجہ بندی کا نظام ہے جو تمام بیماریوں کو ایک مشترکہ معیار کے تحت منظم کرتا ہے۔

’’ورچوئل آٹزم‘‘کی اصطلاح بنیادی طور پر ان بچوں کے رویوں کو بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے جو حد سے زیادہ اسکرین استعمال کے باعث ایسے علامات اور طرزعمل ظاہر کرتے ہیں جو بظاہر آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر سے مشابہت رکھتے ہیں۔

ان میں سماجی رابطے سے گریز، آنکھوں کے رابطے کی کمی، نام پر فوری ردعمل نہ دینا، بولنے میں تاخیر اور جذباتی اظہار میں کمی شامل ہو سکتی ہے،لیکن اصل اور بنیادی فرق یہ ہے کہ آٹزم ایک نیورو ڈیولپمنٹل (اعصابی نشوونما سے متعلق) کیفیت ہے جس کی وجوہات زیادہ تر جینیاتی اور حیاتیاتی ہوتی ہیں، جب کہ اسکرین کے حد سے زیادہ استعمال سے پیدا ہونے والے رویے زیادہ تر ماحولیاتی، عارضی اور قابلِ اصلاح ہو سکتے ہیں۔

یہ بات سائنسی طور پر بھی اہم ہے کہ اب تک کوئی مضبوط اور حتمی ثبوت موجود نہیں کہ اسکرین خود آٹزم پیدا کرتی ہے، البتہ متعدد تحقیقاتی مطالعات اور مشاہدات سے یہ ضرور واضح ہوا ہے کہ حد سے زیادہ ڈیجیٹل اسکرین کا استعمال بچوں کی زبان سیکھنے، سماجی میل جول، توجہ برقرار رکھنے اور جذباتی اظہار کی صلاحیتوں پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

خاص طور پر جب بچہ طویل وقت تک یک طرفہ ڈیجیٹل مواد دیکھتا رہے اور حقیقی انسانی تعامل بہت کم ہو جائے تو اس کی سماجی نشوونما متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بعض بچوں میں ایسے رویے سامنے آتے ہیں جو آٹزم جیسے محسوس ہوتے ہیں، حالانکہ وہ اصل آٹزم نہیں ہوتے۔آج کے جدید دور میں اس صورتحال کی ایک بڑی وجہ طرزِ زندگی کی تبدیلیاں اور والدین کی مصروفیات ہیں۔

بعض بچوں میں بولنے میں تاخیر دیکھی جاتی ہے، بعض میں سماجی سرگرمیوں سے گریز، جب کہ کچھ بچے اپنے نام پر بھی فوری ردعمل نہیں دیتے۔ اسی طرح چڑچڑاپن، غصہ، عدم برداشت اور توجہ کی کمی جیسے رویے بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ یہ علامات والدین کے لیے تشویش کا باعث بنتی ہیں کیونکہ یہ بظاہر آٹزم سے مشابہ محسوس ہوتی ہیں۔

تاہم ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ جب اسکرین کا استعمال کم کیا جائے، بچے کو کھلے ماحول میں کھیلنے، لوگوں سے ملنے جلنے اور گفتگو کے مواقع دیے جائیں تو اکثر اوقات ان علامات میں واضح بہتری دیکھی جاتی ہے۔

ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہر بچہ جو اسکرین استعمال کرتا ہے اس مسئلے کا شکار نہیں ہوتا۔ اصل مسئلہ اسکرین کا وجود نہیں بلکہ اس کا غیر متوازن، غیر منظم اور حد سے زیادہ استعمال ہے۔

اس میں مواد کا معیار، وقت کی مقدار اور والدین کی نگرانی انتہائی اہم عوامل ہیں، اگر اسکرین کا استعمال تعلیمی، محدود اور نگرانی کے ساتھ ہو تو یہ فائدہ مند بھی ثابت ہو سکتا ہے، لیکن بغیر کسی حد کے اس کا استعمال بچوں کی ذہنی اور سماجی نشوونما پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

بچوں کی ذہنی اور جذباتی نشوونما ایک نہایت حساس اور مرحلہ وار عمل ہے جس میں حقیقی انسانی تعلق بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ زبان سیکھنے کا عمل، جذبات کو سمجھنے کی صلاحیت، دوسروں کے ساتھ ہمدردی اور سماجی رویوں کی تشکیل براہِ راست انسانی تعامل سے جڑی ہوتی ہے۔ جب یہ تعامل کم ہو جائے اور بچہ زیادہ تر وقت اسکرین کے سامنے گزارے تو اس کی شخصیت کی تشکیل متاثر ہو سکتی ہے۔

والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے ساتھ معیاری وقت گزاریں ، ان کے ساتھ بات چیت کریں، انھیں کہانیاں سنائیں، کھیلوں میں شامل کریں اور انھیں حقیقی دنیا سے جوڑیں۔ تعلیمی ادارے بھی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اسکولوں میں ایسی سرگرمیاں متعارف کروانا ضروری ہے جو بچوں کو صرف ڈیجیٹل دنیا تک محدود نہ رکھیں بلکہ انھیں سماجی، جسمانی اور تخلیقی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع دیں۔

 والدین اپنی مصروف زندگی اور وقتی سکون کے لیے بچوں کو موبائل فون یا اسکرین کے حوالے کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں بچے جسمانی سرگرمیوں سے دور اور ذہنی طور پر ایک محدود دائرے میں قید ہوتے جا رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق والدین کو چاہیے کہ وہ اس آسان مگر خطرناک راستے کے بجائے بچوں کو پارک، کھیل کے میدان اور دیگر فزیکل ایکٹیویٹی کی طرف راغب کریں۔ روزانہ کی بنیاد پر کم از کم دو سے تین گھنٹے بچوں کو باہر کھلی فضا میں کھیلنے کا موقع دینا نہ صرف ان کی جسمانی صحت کے لیے ضروری ہے بلکہ ان کی ذہنی نشوونما، سماجی رویوں اور خود اعتمادی میں بھی مثبت کردار ادا کرتا ہے۔