صائمہ صمیم ایک نہیں بہت سی خوبیوں کی مالک ہیں، وہ فکری، جمالیاتی اور فن افسانہ جیسی صلاحیتوں سے مالا مال ہیں۔ بہترین نظامت کار اور ریڈیو پاکستان کراچی کے پروگرام ’’ادب سرائے‘‘ میں میزبانی کے فرائض انجام دیتی رہی ہیں۔
صائمہ صمیم بنیادی طور پر افسانہ نگار ہیں، انھیں افسانے سے عشق ہے بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ افسانہ نگاری ان کی پہلی محبت ہے جسے پروان چڑھانے اور ادبی افق کا تارہ بنانے کے لیے صبح و شام تخلیق کے مراحل سے گزرتی ہیں۔
افسانے کی فصل کو سینچنے اور اس کی آبیاری کرنے کے لیے تازہ لہو پلاتی ہیں، شاید اسی وجہ سے وہ بہترین اور ایسے افسانے لکھ رہی ہیں جو دل کے نہاں خانے میں نشوونما پاتے ہیں اور پھر دوسروں کے قلب میں جگہ بنا لیتے ہیں۔
دوسرے کون ہیں بھلا؟ افسانوں کے قارئین جو ایک بار پڑھنے کے بعد دیر تک اپنے دل و جگر میں سنبھال کر رکھتے ہیں اور کڑوے کسیلے ، کچھ کھٹے میٹھے ذائقوں کا لطف بھی لیتے ہیں اور کرب کی سیاہ کوٹھری میں اترنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، اپنی مرضی اور خوشی سے کہ انھیں افسانے کے باطن سے زمانے کے دکھوں، ناانصافی، بددیانتی، حلال و حرام رشتوں کی خوشبو اور بدبو کو سونگھنے کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے اور قاری کو یہ انداز پسند ہے کہ یہ معاشرے کے رنگ ہیں جن کو افسانہ نگار نمایاں کرتا ہے۔
تو صائمہ جی! ایسے ہی افسانے لکھتی ہیں۔ مجھے ان کے افسانوں کا مجموعہ ’’رودالی‘‘ پڑھنے کا اتفاق ہوا، اس بات کو کافی دن گزر گئے ہیں یہ ماہ و سال کا چکر بھی سالوں اور صدیوں تک کا سفر آسانی سے طے کروا دیتا ہے، پتا ہی نہیں چلتا کب صبح ہوئی، کب شام۔
بس وقت تو اپنی پیدائش کے ساتھ ہی پَر لگا کر آیا تھا، لہٰذا طائران خوش نوا کی طرح نیچی پرواز سے سفر کرتا ہے لیکن شہباز اور شاہین کی اڑان تو بلند تر ہوتی ہی چلی جاتی ہے اور وقت کی رفتار تو اس سے بھی تیز ہے ،وقت جا کر واپس ہی نہیں آتا ہے ،دور بہت دور خلاؤں میں گم ہو جاتا ہے اور اپنا وجود ہمیشہ کے لیے ختم کر دیتا ہے۔
تو میں عرض کر رہی تھی کہ صائمہ صمیم مستقل لکھ رہی ہیں ان کی نگاہ ادب پر گہری اور دنیا بھر کے ادب کا طواف کرنے والی ہے، وہ باخبر اور باہوش ہیں۔ کام اور کام کرنے کو اہمیت دیتی ہیں۔ ’’پچھلے پہر کی خوشبو‘‘ جی ہاں یہ بھی ان کا افسانوی مجموعہ ہے اور تیسرا بھی عنقریب آپ کے ہاتھوں میں ہوگا ،یہ چین سے بیٹھنے والی ہرگز نہیں۔
ایک ناول بھی لکھ رہی ہیں عنوان ہے ’’آدھی صدی کی عورت۔‘‘ گزشتہ سالوں میں انھوں نے افسانے کی ترویج و ترقی کے حوالے سے ایک بہت دل فریب کام انجام دیا، وہ تھا ’’چاک ادبی فورم۔‘‘ اس فورم کے تحت وہ تین کامیاب پروگرام کر چکی ہیں۔
چاک فکشن ایونٹ کا چرچا تقریباً ایک ماہ پہلے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ صائمہ اور ان کی ٹیم کی انتھک محنت اور ادب سے محبت کے نتیجے میں پروگرام کامیابی سے ہمکنار ہوتا ہے، شہر کی علمی و ادبی شخصیات شرکت کرتی ہیں، اس کے علاوہ صائمہ اپنے ادب دوستوں کو تفریح فراہم کرنے کے لیے گاہے بہ گاہے کوئی نہ کوئی پروگرام ترتیب دیتی رہتی ہیں۔
کبھی عید ملن پارٹی تو کبھی ساحل سمندر اور کشتی کے سفر کے دوران مشاعرہ۔ اب آتے ہیں ان کی کتاب ’’خیال مکرر‘‘ کی طرف نام سے ہی ظاہر ہو رہا ہے کہ انھوں نے سینئر اور اردو تاریخ کے زندہ جاوید افسانہ نگاروں کے تعارف اور ان کے افسانوں کے ساتھ افسانوں کا خلاصہ لکھ کر آج کے مشینی دور میں پڑھنے والوں کے لیے آسانی پیدا کر دی ہے کہ اس دور کا قاری ہر کام جلدی کرنے کا عادی ہے وہ جلد سے جلد نتیجہ اخذ کرنا چاہتا ہے۔
مائیکرو فکشن، افسانچے اور اسی قبیل کے افسانے اس کی ضرورت کو باآسانی پورا کرتے ہیں لیکن ہمارے وہ طالب علم اور قارئین بھی اسی دھرتی کی پیداوار ہیں جو جدید و قدیم افسانے دلچسپی سے پڑھتے ہیں اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے تخلیق کے مراحل سے گزرتے ہیں، انھیں اردو ادب سے گہرا لگاؤ ہے وہ باقاعدگی سے فکشن کی ہر صنف کا مطالعہ کرتے ہیں۔
مصنفہ نے اپنے مضمون ’’خیال مکرر کا خیال‘‘ میں اس بات کی وضاحت کی ہے اور افسانے کی مختصراً تاریخ بھی بیان کی ہے کہ اردو کا پہلا افسانہ نگار کون ہے؟ ترقی پسند تحریک 1936 کا ذکر اور اس کا آغاز اور ترقی پسند تحریک میں شامل ہونے والے مصنفین کا احوال بھی درج کیا ہے۔
پھر فسادات 1947 کے افسانہ نگاروں اور اس کے بعد ترقی پسند رجحانات اور ان رجحانات سے متاثر ہونے والے افسانہ نگاروں کے نام بھی لکھ کر قاری کے ذہن میں پیدا ہونے والی الجھن کو دور کر دیا ہے۔ وہ لکھتی ہیں، ’’ایک مختصر سا تعارف اس لیے پیش کیا گیا کہ ہمیں پتا چلے کہ ادیب اپنے ماحول سے کس قدر متاثر ہوتا ہے، اس کا قلم اس کی سوچ اور خیال، تجربے اور مشاہدے و علمیت کے نتیجے میں افسانہ تخلیق کرتا ہے۔
خیال مکرر اسی سوچ کا احاطہ کرتی ہے کہ خیال در خیال مکرر کو کیسے پیش کیا جائے۔‘‘ صائمہ نے بہت مدلل اور جامع انداز میں آج کی اس نسل کو سمجھانے کے لیے ایک راستہ اور ایک موڑ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ کس طرح افسانہ لکھا اور اس میں مہارت حاصل کی جا سکتی ہے۔
یقینا یہ ایک اچھا قدم ہے۔ ممتاز نقاد ڈاکٹر اسلم جمشید پوری کا افسانہ ’’عیدگاہ‘‘ ایک بہترین افسانہ ہے، انھیں دیہات کی بولی بولنے اور لکھنے پر خاصی مہارت حاصل ہے۔ یہ افسانہ موجودہ حالات کا عکاس ہے، اب عیدگاہ سے واپسی اسی طرح ہوتی ہے۔
خصوصاً ان جگہوں پر جہاں ہندو مسلم فسادات اور تعصب و نفرت کی فضا پروان چڑھ چکی ہو۔ صائمہ کو افسانہ نگاری سے عشق ہے ،اسی عشق کی بدولت ان کی تنظیم چاک فکشن فورم کا وجود عمل میں آیا ہے اور یہ ایک اچھی روایت ہے گزشتہ سالوں میں افسانے کی نشستوں کے حوالے سے ہر ہفتہ یا ہر ماہ باقاعدگی سے محفلیں سجا کرتی تھیں۔
امراؤ طارق کی ادبی تنظیم ’’چوپال‘‘ صبا اکرام، اے خیام، شہزاد منظر، شمیم منظر، ابن عظیم فاطمی، پروفیسر علی حیدر ملک کا فکشن گروپ اور جمیل زبیری بھی افسانہ کی مجالس کا انعقاد کیا کرتے تھے۔ ان تنظیموں میں ہم نے بھی بارہا شرکت کی اور افسانے سنائے، داد و تنقید کی صورت میں سینئر افسانہ نگاروں کی آرا سامنے آئیں۔
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ گزرے بسرے دنوں کی یادوں کو روشن کرنے کے لیے افسانوں کی محفلوں کا انعقاد ضروری ہے۔ حال ہی میں ممتاز شاعر و افسانہ نگار م۔م مغل نے ’’تہذیب انٹرنیشنل‘‘ کے زیر اہتمام ’’شام فسوں‘‘ کا اہتمام کیا تھا۔
اس کے علاوہ حلقہ ارباب ذوق کے جنرل سیکریٹری زیب اذکار حسین زوم پر تواتر سے ادبی و تنقیدی اور شعری محافل کا اہتمام کرتے ہیں جوکہ قلم کاروں کے لیے باعث تقویت ہے۔