جدید دنیا اور قدیم نظام

آزادی تو بے شک ملی لیکن یہ پتا ہی نہ چلا کہ ریاست کے خدوخال کیا ہوںگے


جاوید قاضی May 17, 2026

دنیا میں بڑی تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد سیاسی، سماجی اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے چھوٹی بڑی واضح تبدیلیاں آئی ہیں۔جیسا کہ دنیا کی سرحدیں تبدیل ہوئیں۔ ایٹمی طاقتوں میں اضافہ ہوا، کمپیوٹر ٹیکنالوجی متعارف ہوئی،گلوبل اور فنانشل مارکیٹ وجود میں آئیں۔

گلوبلائزیشن ہوئی اور سوویت یونین کا ٹوٹنا وغیرہ وغیرہ۔اقتدار کا انتقال بائیں بازو سے دائیں بازو کی طرف ہوا۔ڈاکٹر امرتا سین یہ سمجھتے ہیں کہ جمہوریت بیسویں صدی کا سب سے بڑا مظہر ہے جو دنیا کے تقریباً اسی فیصد ممالک میں پھیلا۔

اس میں بگاڑ بھی پیدا کیے گئے، نفرتوں کے بیانیے کے ذریعے، مذہب کارڈ کے ذریعے، مودی، ٹرمپ، ہنگری کے وکٹر اوربان جیسے، جن کا جنم تو جمہوری نظام میں ہوالیکن انھوں نے جمہوری اقدار کی نفی کی۔ہمارے ملک میں جمہوری نظام پہلے دن سے کمزور ثابت ہوا۔

آزادی تو بے شک ملی لیکن یہ پتا ہی نہ چلا کہ ریاست کے خدوخال کیا ہوںگے۔یہ ملک ایسے امراء اور جعلی شرفاء کے طبقے کے ہتھے چڑھ گیا جس کا تحریک آزادی سے کوئی تعلق نہ تھا۔ آزادی کے لیے کوئی قربانی نہ تھی۔

اس موقع پرست طبقے نے اس ملک کو عالمی سرمایہ داری نظام کے مفادات کی خاطر فرنٹ لائن اسٹیٹ بنا دیا، امریکا کی قیادت میں ساری دنیا کے سرمایہ دار، جاگیردار، قبائلی سردار و مذہبی پیشوا متحد ہوچکے تھے ۔ ان کو کوئی سروکار نہ تھاکہ اس ملک میں عوام کی منتخب کردہ حکومت قائم ہو۔اپنے مفادات کی تکمیل کے لیے ان کو یہاں آمریت کی ضرورت تھی۔

سوچنا یہ ہے کہ کیا آنے والے بدلاؤ کے لیے ہماری تیاری ہے؟ کیا ان تبدیلیوں کے تقاضوں کو ہم سمجھ رہے ہیں۔اس ملک میں ان ضرورتوں کو سمجھتے ہوئے ہمیں اپنے بیانیے ، منفی سوچ، معیشت، سماجی اقدار میں تبدیلی کی اشد ضرورت ہے۔

جمہوری نظام کی اصل بنیاد یعنی اسیکولر سوچ کو نہ جانے ہم نے کہاں دفنا دیا۔اس سوچ کو لاگو کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس بدلتی دنیا میں ہم اپنے وجود کو برقرار رکھ سکیں۔

ان تبدیلیوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کس طرح سے یہ دنیا ان اسی سالوں میں ایک نئے موڑ پر کھڑی ہے،لیکن اس کو سمجھنے سے پہلے اس سوال کا جواب بھی ضرورری ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟

ہماری سیاسی صورتحال 2022 میں ایک تاریک موڑ پر تھی اور ہم جس تباہی کے دہانے کھڑے تھے ،وہ ہمارے سیاسی اسٹرکچر کا تسلسل تھا کیونکہ حادثات اچانک ر ونما نہیں ہوتے ، یہاں بانی پی ٹی آئی کو ایک منصوبہ بندی کے تحت لایا گیا تاکہ جمہوریت کو یر غمال بنایا جائے۔

یہاں اس بات کو سمجھنے کو ضرورت ہے کہ بلآخر اس تما م منصوبہ بندی کی فارن فنڈنگ کون کررہا ہے؟مگرہمیں کیا ہمیں تو جمہوریت کو یر غمال بنانا ہے اور وہ جمہوریت بھی کیا تھی جہاں ساٹھ فیصد نشستیں جدی پشتی ہیں۔

سردار ،وڈیرہ، پیر گدی نشین، قبائلی سردار اور مشر جیسا بھی ہو مگر ووٹ اس کی امانت ہے۔مڈل کلاس بیانیہ کا ووٹ جیسا کہ کراچی کا ووٹ یا پی ٹی آئی کا، وہ بھی جدی پشتی کے تابع رہ گیا۔جنرل فیض حمید کے زمانے میں پوری پارلیمان کی کوئی اہمیت نہ تھی۔

خان صاحب کی بیوی اور ایک مخصوص مائنڈ سیٹ کا حامل مختصر سا گروہ عوام کی قسمت کا فیصلہ کررہا تھا۔ پھر ہوا کیا؟ محب وطن لوگوں کو حالات کا رخ سمجھ آیا، حالات میں بگاڑ پیدا ہوا۔حیرانی تب ہوئی جب ابھی نندن کا واقعہ پیش آیا، حالت بگڑے اب یہاں کس چیز کی پردہ داری تھی وہ سمجھ نہیں آیا۔

خیر ہوئی، حالات قابو میں آگئے، کوئی معجزہ ہی تھا کہ اتنے بڑے Deadlock سے ہم نکل آئے۔ ورنہ آج خیبر سے کراچی تک طالبان سڑکوں اور چوراہوں میں دندناتے پھرتے اور جو بولتا اسے کھلے میدانوں اور چوکوں میں نشانے عبرت بنا دیتے۔

 1971 کے بعد 2022 میں ایسے حالات پیدا ہوئے جس کی تباہی سے ملک کو نکالنا تھا۔عدالتیں آزاد نہ تھیں، چند جج صاحبان نے پورے عدالتی نظام کو یر غمال بنایا ہوا تھا۔سوشل میڈیا باہر سے کنٹرول کیا جارہا تھا اور خان صاحب نا فرمانی پر اترے ہوئے تھے۔

اس دوران میں نو مئی کا سانحہ پیش آیا۔اس بغاوت کو کنٹرول کرنے کے لیے کتنی قیمت ادا کرنی پڑی ، وہ سب کے سامنے ہے۔آج جسے ہائبرڈ نظام کہا جارہا ہے ، اس کے بھی یہی لوگ ذمے دار تھے ، جنھوں نے خان صاحب کو ریلیف دینے کے لیے قانون کے تمام تقاضوں کو پیروں تلے روند ڈالا۔ جھنوں نے اس ملک کے عوام کے مفادات کے خلاف دیدہ دلیر سے کام کیا، دہشت گردوں کی سپورٹ کی۔

پھر ڈالرکی اونچی اڑان پر قابو پا لیا گیا۔افراط زر میں کمی ہوئی،ہماری خارجہ پالیسی نے حیران کن کامیابیاں حاصل کیں۔مئی 2025 میںہم نے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا اور ایران ، امریکا جنگ میں غیرمعمولی سفارت کاری کرکے دنیا کو حیران کردیا۔

اب دنیا ملٹی پولر ورلڈ میں داخل ہو چکی ہے جو پہلے بائی پولر تھا۔اب امریکا سپر پاور نہیں رہا۔ خطے میںاسرائیل کی جارحیت کوختم ہونا ہوگا۔ یورپ ان کو چھوڑ چکا ہے ۔نیٹو کا خاتمہ ہو چکا ہے،امریکا اس وقت تنہا ہے۔

ایران و امریکا کی جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے،خاص کر پٹرول کا بحران پیدا ہو چکا ہے اور یہ بھی ایک یقینی عمل ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے گا،مگر پاکستان اب اس موڑ پر ہے جہاں امریکا، پاکستان کو ڈکٹیٹ نہیں کر سکتا۔ہم ایران سے تجارت کر سکتے ہیں اور ہم سینٹرل ایشیا کی منڈی تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔

ہم جہاں نقصان میں ہیں وہ ہے پاکستان کا کمزور ڈھانچہ جو شدید بگاڑ کا شکار ہے۔شمالی مغربی سرحدیں تاحال پوری طرح محفوظ نہیں ہیں، یہاں سرحدوں پر عسکری اور وفاقی ریونیو اتھارٹیز کا فول پروف اور مضبوط انتظامی اور دفاعی کنٹرول ناگزیر ہے تاکہ کراس بارڈ قانونی ٹریڈ کے سوا کر قسم کی تجارت بند کی جاسکے۔

شمال مغربی سرحدی علاقے کی پسماندگی کی بنیادی وجہ بے لگامی سرحدی آمدو رفت اور اسمگلنگ ہے، انسانی ترقی کے تمام اقدام ناقص ہیں۔ تعلیم، صحت اور انفرا اسٹرکچر تباہ حال ہے۔

اقرباء پروری، کرپشن اور مافیا کا راج ہے اور یہ سب کچھ جمہوریت کے لبادے میں ہو رہا ہے اور ہماری جمہوریت چوہدریوں، سرداروں، وڈیروں کی خانقاہوں اور اوطاقوں میں پروان چڑھتی ہے،ہمارا ملک کبھی 7 فیصد کی شرح نمو پر نہیں جا سکتا، روزگار کے ذرائع اور مواقعے پیدا نہیں ہورہے ہیں،صنعتوں کا جال نہیں بچھایا جا سکتا اور اسی طرح اس دور کی سب سے بڑی ایجاد مصنوعی ذہانت سے استفادہ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔

ہم نے یہ بھی دیکھا کہ مڈل کلاس ووٹر نے کراچی میں کیا کیا،نو مئی کو کیا کیا اور بلوچستان میں وہ کیا کر رہے ہیں؟ خیبر پختونخوا میں کیا کارنامے انجام دیے جا رہے ہیں؟ان تمام حقائق کو دیکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم سماجی طور پر ہندوستان بلکہ بنگلا دیش سے بھی کمزور ہیں۔

یہاں لوگ بیانیے پر ووٹ نہیں دیتے بلکہ جدی پشتی اعتبار سے دیتے ہیں۔ہندوستان بیس یا پچیس سالوں سے 7فیصد شرح نمو پر آگے نکل رہا ہے۔ ہمارا ملک 7فیصد شرح نمو پر نہیں پہنچ سکتا۔ہندوستان کی معیشت 1990 سے پانچ گنا آگے ہے۔1990 میں چین میں 30% لوگ غربت کی لکیر کے نیچے زندگی بسر کر رہے تھے۔

آج ان کی معیشت دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے۔بنگلا دیش دس یا پندرہ سالوں سے سات فیصد شرح نمو پر آگے بڑھ رہا ہے۔ان ممالک میں جدی پشتی سیاست کا وجود نہیں ہے۔

دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے،خلیج اب وہ خلیج نہیں رہا۔دبئی کی حیثیت پہلے جیسی نہیں رہی۔ ان تبدیلیوں نے ہمیں ایک امید اور موقعہ دیا ہے کہ ہم ایران سے سینٹرل ایشیا کی منڈی تک پہنچیں، ہم کراچی کی رونقیں بحال کریں اور گوادر پورٹ کو ایک مصروف پورٹ بنائیں۔

بین الاقوامی نظام ملٹی پولر میں تبدیل ہو رہا ہے۔ ٹیکنالوجی بہت بڑی تبدیلیاں لا رہی ہے۔ہمارے لیے بھی ترقی کے راستے کھل رہے ہیں اور ہم جیسے ممالک کو اب کوئی روک نہیں سکتا بس اگر ہم آگے بڑھنا چاہیںتو،لیکن ہمارے ہائبرڈ جمہوری نظام میں جو عدلیہ کا حال ہے،آئین کے ساتھ ہم کیا کر رہے ہیں، ایسے حالات میں ہم ترقی کے یہ مواقعے گنوا دیں گے۔