خیبرپختونخوا میں دہشتگردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشنز، 736 سے زائد خوارج ہلاک

دہشتگردوں نے حکمت عملی بدل کر سافٹ ٹارگٹس کو نشانہ بنانا شروع کر دیا سکیورٹی حکام



خیبرپختونخوا اور سرحدی علاقوں میں دہشتگردوں کے خلاف جاری بڑے پیمانے کے سیکیورٹی آپریشنز کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں، جن کے مطابق 26 فروری 2026 کو شروع کیے گئے “آپریشن غضب للحق” کے دوران اب تک 736 سے زائد دہشتگرد اور ان کے افغان سہولت کاروں کو ہلاک جبکہ 1043 سے زائد کو زخمی کیا جا چکا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائیوں کے دوران دہشتگردوں کے زیر استعمال 286 افغان پوسٹس تباہ، 44 پوسٹس پر قبضہ جبکہ 249 بکتر بند گاڑیاں اور ٹینک بھی تباہ کیے گئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کی معاونت کرنے والے 81 انفراسٹرکچر مراکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں دہشتگرد نیٹ ورکس کو شدید عسکری، مالی اور لاجسٹک نقصان پہنچا۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان میں مسلسل دہشتگرد حملوں، سرحد پار کارروائیوں اور افغان سرزمین کے استعمال پر بارہا احتجاج کے باوجود مؤثر اقدامات نہ ہونے کے باعث آپریشن کا آغاز کیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن کے ابتدائی مرحلے میں دہشتگرد نیٹ ورکس، سرحدی ٹھکانوں، اسلحہ ڈپوؤں اور سہولت کاروں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں مارچ اور اپریل کے دوران دہشتگردی کے واقعات میں نمایاں کمی دیکھی گئی اور شدت پسند عناصر روپوش ہونے پر مجبور ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق سرحدی پوسٹس اور فوجی تنصیبات پر حملوں میں مسلسل ناکامی اور بھاری جانی نقصان اٹھانے کے بعد شدت پسند گروہوں نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے سویلینز اور لوکل لاء انفورسمنٹ اداروں خصوصاً خیبرپختونخوا پولیس کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا پولیس نے محدود وسائل کے باوجود مؤثر مزاحمت اور جرات کا مظاہرہ کیا، تاہم فورس کو اسلحہ، حفاظتی سامان، افرادی قوت اور بنیادی انفراسٹرکچر کی کمی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ پولیس کی بڑی نفری وی آئی پیز، ایم این ایز، ایم پی ایز، عدلیہ اور دیگر اہم شخصیات کی پروٹوکول ڈیوٹی پر تعینات ہونے کے باعث فیلڈ آپریشنز متاثر ہو رہے ہیں۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان آرمی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے روزانہ 180 سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کر رہے ہیں، جن کے نتیجے میں رواں سال 800 سے زائد دہشتگرد مارے گئے جبکہ سینکڑوں مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں بعض افغان شہری بھی شامل ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں خصوصاً تیرہ وادی میں سینکڑوں ایکڑ پر مشتمل پوست کی فصل تباہ کی گئی جبکہ اسمگلنگ کے خلاف بھی بڑے پیمانے پر کارروائیاں جاری ہیں۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق ان اقدامات سے دہشتگردوں، جرائم پیشہ عناصر اور اسمگلنگ نیٹ ورکس کی مالی معاونت شدید متاثر ہوئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاک افغان سرحد پر نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے اور غیر قانونی دراندازی کی ہر کوشش کو ناکام بنایا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ غیر قانونی افغان باشندوں کی وطن واپسی کا عمل بھی تیز کر دیا گیا ہے اور روزانہ 3500 سے 4000 افراد افغانستان واپس جا رہے ہیں۔