ٹرمپ تذبذب کا شکار، تائیوان نے امریکا سے ہتھیاروں کی فراہمی جاری رکھنے کا مطالبہ کردیا

چین کا مؤقف ہے کہ تائیوان اس کا حصہ ہے اور اگر ضرورت پڑی تو طاقت کے استعمال سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا


ویب ڈیسک May 17, 2026

تائیوان نے امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ تائیوان کو ہتھیاروں کی فراہمی جاری رکھے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ مستقبل میں تائیوان کو نئے ہتھیار فروخت کرنے کے معاملے پر ابھی حتمی فیصلہ نہیں کر سکے۔

یہ بیان صدر ٹرمپ کی چین کے صدر شی جن پنگ سے بیجنگ میں ملاقات کے بعد سامنے آیا، جس نے خطے میں امریکی حمایت سے متعلق نئی غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

تائیوانی صدر لے چنگ تے کی ترجمان کیرن کو نے اپنے بیان میں کہا کہ چین کی بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیاں بحرالکاہل اور آبنائے تائیوان کے استحکام کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکا اور تائیوان کے درمیان اسلحہ فروخت صرف دفاعی تعاون نہیں بلکہ خطے میں خطرات کے خلاف مشترکہ روک تھام کی حکمت عملی بھی ہے۔

رپورٹس کے مطابق گزشتہ برس ٹرمپ انتظامیہ نے تائیوان کیلئے 11 ارب ڈالر کے اسلحہ پیکج کی منظوری دی تھی، جبکہ تقریباً 14 ارب ڈالر کے دوسرے پیکج کی منظوری ابھی باقی ہے۔

تائیوان کے نائب وزیر خارجہ چن منگ چی نے کہا کہ حکومت مسلسل واشنگٹن کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ امریکی مؤقف کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکے۔

دوسری جانب چین مسلسل یہ مؤقف دہراتا رہا ہے کہ تائیوان اس کا حصہ ہے اور اگر ضرورت پڑی تو طاقت کے استعمال سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔

چینی فوج حالیہ دنوں میں بھی تائیوان کے اطراف اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ تائیوانی حکام کا کہنا ہے کہ بیجنگ عسکری دباؤ کے ذریعے “اتحاد” پر مجبور کرنا چاہتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ ممکنہ طور پر تائیوان کیلئے نئے اسلحہ معاہدے کی منظوری مؤخر کر سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب وہ صدر شی جن پنگ کو امریکا کے دورے کی دعوت دے چکے ہیں۔