کیف / ماسکو: یوکرین نے روس پر اب تک کے بڑے ڈرون حملوں میں سے ایک کرتے ہوئے تقریباً 600 ڈرونز سے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کم از کم 4 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔
روسی وزارت دفاع کے مطابق رات بھر میں روس کے مختلف علاقوں، کریمیا، بحیرہ اسود اور بحیرہ آزوف کے اطراف 556 یوکرینی ڈرونز مار گرائے گئے، جبکہ صبح کے بعد مزید 30 ڈرونز کو تباہ کیا گیا۔
حکام کے مطابق حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں ایک بھارتی شہری بھی شامل ہے، جو روس میں کام کر رہا تھا۔ ماسکو ریجن کے گورنر آندرے ووروبیوف نے بتایا کہ ایک ڈرون نجی گھر پر گرنے سے ایک خاتون ہلاک ہوئی جبکہ دو مرد بھی جان سے گئے۔
روس کے مطابق یہ حملے 14 مختلف علاقوں میں کیے گئے، جبکہ ماسکو اور اس کے گردونواح میں 80 سے زائد ڈرونز کو فضائی دفاعی نظام نے تباہ کیا۔ حملوں کے نتیجے میں 12 افراد زخمی بھی ہوئے۔
ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانن نے بتایا کہ کچھ ڈرونز آئل اینڈ گیس ریفائنری کے قریب تعمیراتی مقام پر گرے، جہاں کارکن زخمی ہوئے، تاہم ریفائنری کی پیداوار متاثر نہیں ہوئی۔ حملوں میں تین رہائشی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔
دوسری جانب یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے روس پر کیے گئے حملوں کو مکمل طور پر جائز ردعمل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ روس مسلسل یوکرین کے شہروں اور آبادیوں پر حملے کر رہا ہے، جس کا جواب دینا ضروری تھا۔
یوکرینی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ ماسکو ریجن پر یہ حملہ 2022 میں جنگ شروع ہونے کے بعد اب تک کا سب سے بڑا حملہ تھا۔ یوکرینی حکام کے مطابق ان کی حکمت عملی روسی فوجی اہداف کو طویل فاصلے تک نشانہ بنانا ہے۔
ادھر روس نے بھی یوکرین پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یوکرینی فضائیہ کے مطابق روس نے 287 ڈرونز فائر کیے، جن میں سے 279 کو تباہ کر دیا گیا۔
دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کی کوششیں تاحال ناکام دکھائی دے رہی ہیں، جبکہ امریکا کی ثالثی میں ہونے والی عارضی جنگ بندی بھی ختم ہوچکی ہے۔ اس کے بعد روس اور یوکرین نے ایک بار پھر ایک دوسرے پر شدید حملے شروع کر دیے ہیں۔