32نئے انتظامی یونٹس کا فارمولا

پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث جاری ہے۔ کچھ دوستوں کی رائے کہ موجودہ چار صوبوں کو ایک مقدس حیثیت حاصل ہے اس لیے ان سے چھیڑ چھاڑ ممکن نہیں ہے۔


[email protected]

پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث جاری ہے۔ کچھ دوستوں کی رائے کہ موجودہ چار صوبوں کو ایک مقدس حیثیت حاصل ہے اس لیے ان سے چھیڑ چھاڑ ممکن نہیں ہے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ آج دنیا میں گورننس کے تقاضے بدل گئے ہیں۔ اس لیے پاکستان کو بڑے بڑے نہیں چھوٹے چھوٹے صوبوں کی ضرورت ہے۔

چھوٹے انتظامی یونٹس عوام کی بہتر خدمت کر سکتے ہیں۔ ایک رائے ہے کہ یہ چار صوبے پاکستان کی بقا کی ضمانت ہیں۔ اگر ان میں ردو بدل کیا گیا تو بقا کو خطرہ ہو جائے گا، دوسری رائے یہ ہے کہ بقا عوام کی فلاح میں ہے، صوبوں میں نہیں۔ عوام کی فلاح اور بہتری کے لیے جو بھی کرنا پڑے کرنا چاہیے۔ اس لیے آج وقت کا تقاضہ ہے کہ ہم ان بڑے بڑے چار صوبوں کی بجائے چھوٹے انتظامی یونٹس کی طرف جائیں۔ اس سے پاکستان کی معاشی ترقی بہتر ممکن ہو سکے گی۔

یہ بات بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے اٹھارویں ترمیم سے وفاق سے مالی خود مختاری صوبوں کے لیے تو حاصل کر لی۔ لیکن وہ یہی خود مختاری صوبوں سے نیچے مقامی حکومتوں کو دینے کے لیے تیار نہیں۔ پنجاب،سندھ، کے پی اور بلوچستان کہیں بھی کوئی ایسا مقامی حکومتوں کا نظام موجود نہیں جہاں مقامی حکومتیں مالی اور انتظامی طور پر خود مختار نظر آئیں۔

صوبائی حکومتوں نے مالی خود مختاری اسلام آباد سے تو چھین لی ہے لیکن اسے صوبائی حکومتوں میں قید کر لیا ہے۔ کسی بھی صوبے کا کوئی مالی طور پر خود مختار صوبائی فنانس کمیشن موجود نہیں۔ جیسے نیشنل فنانس کمیشن موجود ہے ویسا کوئی بھی صوبائی فنانس کمیشن موجود نہیں۔ صوبائی حکومتیں فنڈز کی مالک بن گئیں اور اختیار کسی کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس لیے اٹھارویں ترمیم کے اصل مقاصد حاصل نہیں ہو سکے ہیں۔ یہ آدھا تیتر اور آدھا بٹیر بن گئی ہے۔ اس لیے اس کا فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوا ہے۔

ایک رائے یہ بھی ہے کہ نئے صوبے بنانا اسٹبلشمنٹ کا ایجنڈا ہے۔ بھائی کیا پنجاب میں با اختیار بلدیاتی نظام بنانے سے اسٹبلشمنٹ نے روکا ہوا ہے۔ کتنے سال سے پنجاب میں بلدیاتی نظام ہی موجود نہیں ہے۔ لیکن جہاں ہے وہاں بھی ڈمی ہے۔ کسی بھی صوبے کا بلدیاتی نظام ایسا نہیں کہ اسے ماڈل قرار دیا جا سکے۔ تحریک انصاف نے با اختیار بلدیاتی اور مقامی حکومتوں کا نعرہ لگایا تھا۔ لیکن پہلے ایک نظام بنایا پھر اس میں ترمیم کر کر کے اس کا حلیہ ہی بگاڑ دیا۔ آج وہ ایک ناکارہ نظام بن چکا ہے۔ کیا یہ اسٹبلشمنٹ کا قصور ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں با اختیار مقامی حکومتوں کا نظام بنانے کے لیے تیار نہیں تواس کی ذمے داری اسٹبلشمنٹ پر تو نہیں ڈالی جا سکتی۔ اب یہ کام بھی اسٹبلشمنٹ نے تو نہیں کرنا ہے۔

یہ رائے بھی غلط ہے کہ یہ صرف پنجاب کو تقسیم کرنے کی سازش ہے۔ نئے صوبے بنیں تو کسی انصاف کے فارمولہ کے تحت ہی بنیں گے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ پنجاب میں نئے صوبے بن جائیں سندھ میں نہ بنیں، کے پی میں نہ بنیں ، بلوچستان میں نہ بنیں۔ اگر پنجاب آبادی کے لحاظ سے سے بڑا صوبہ ہے اس لیے اس کے چھوٹے انتظامی یونٹس بننے چاہیے۔ تو بلوچستان رقبہ کے لحاظ سے اتنا بڑا ہے کہ اس کے چھوٹے انتظامی یونٹس بھی ناگزیر ہیں۔ اسی طرح سندھ کی تقسیم کی تو آوازیں پنجاب سے بھی مضبوط ہیں۔

شہری اور دیہی سندھ کی تقسیم کی باتیں تو موجود ہیں ۔ اسی طرح اس کے انتظامی یونٹس کی باتیں بھی موجود ہیں۔ ہزارہ صوبے کی تحریک ہمارے سامنے ہے۔ اس لیے تمام صوبوں میں نئے انتظامی یونٹس کے لیے رائے اور دلائل موجود ہیں۔ جو لوگ صوبوں کو مقدس حیثیت دیتے ہیں انھیں سمجھنا چاہیے کہ صوبے مقدس نہیں پاکستان مقدس ہے۔ یہ بھی عجب روش چل نکلی ہے کہ ہم صوبائیت میں صوبوں کو پاکستان سے پہلے رکھنے لگ گئے ہیں۔ سب سے پہلے پاکستان ۔ صوبوں کی کوئی حیثیت نہیں ہونی چاہیے۔ صوبے ہمارے پہچان نہیں ہو سکتے۔ ہماری پہچان پاکستان ہے اور پاکستان ہی ہونا چاہیے۔

آج کل یہ تجویز زیر غور ہے کہ پاکستان میں کل 32ڈویژن موجود ہیں۔ اس لیے پاکستان میں چار صوبوں کو ختم کر کے ہر ڈویژن کو ایک انتظامی یونٹ میں تبدیل کر دیا جائے۔ اس طرح چاروں صوبوں میں ان کے ڈویژن ہی انتظامی یونٹ بن جائیں گے ۔ ڈویژن کی سطح پر ایک انتظامی ڈھانچہ پہلے سے موجود ہے۔ اسی انتظامی ڈھانچہ کو صوبائی انتظامی ڈھانچے میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ اس طرح پنجاب میں دس ڈویژن ہیں۔ پہلے نو ڈویژن تھے اب گجرات بھی ڈویژن بن گیا تو دس ڈویژن ہو گئے ہیں۔

ان میں لاہور ، راولپنڈی فیصل آباد، گوجرانوالہ، گجرات، سرگودھا، ساہیوال، ملتان، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان شامل ہیں۔ اس طرح پنجاب کے دس انتظامی یونٹ بن جائیں گے۔ اختیارات بھی نچلی سطح تک پہنچ جائیں گے اور لوگوں کے مسائل بھی ان کی دہلیز پر حل ہو سکیں گے۔ ابھی تو ایک فرد اپنے مسئلے کے حل کے لیے اٹک سے لاہور آتا ہے، رحیم یار خان سے بھی لاہور آتا ہے اور ڈیرہ غازی خان سے بھی لاہور آتا ہے۔

اسی طرح سندھ میں بھی سات ڈویژن موجود ہیں۔ سندھ کے دوست جب سندھ کی نئے انتظامی یونٹس میں تقسیم کی بات کی جائے تو جذباتی ہو جاتے ہیں۔ پہلی بات انھیں یہ سمجھنی چاہیے کہ پنجاب سندھ کے حصے کو اپنے اندر شامل کرنے کا خواہاں نہیں۔ سندھ سندھیوں کا ہی ہے۔ نئے انتظامی یونٹس سے سندھ کمزور نہیں مضبوط ہوگا۔ وہاں کے لوگوں کی تقرری بہتر ممکن ہو سکے گی۔

وہاں نئی حکومتیں بنیں گی وہ بھی سندھی ہی ہونگی کوئی پنجابی حکومتیں وہاں نہیں آجائیں گی۔ اس لیے اس کو صوبائیت کی نذر سے دیکھنا بند کریں۔ سندھ میں کراچی ، حیدرآباد، میر پورخاص، شہید بے نظیر آباد، سکھر، لاڑکانہ اور بھنبھور ڈویژن ہیں۔ اس طرح وہاں ان سات ڈویژن پر انتظامی یونٹس بن جائیں گے۔ سندھ میں کراچی بھی روتا ہے کہ اس کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے اور دیہی سندھ کی بری حالت سب کے سامنے ہے۔ اگر وہاں سات انتظامی یونٹ بن جائیں گے تو بہتر گورننس ممکن ہو سکے گی۔پیپلزپارٹی کی بھی ایک نہیں کئی حکومتیں بن جائیں گی۔

اسی طرح بلوچستان رقبہ کے لحاظ سے بہت بڑا ہے۔ آبادی بے شک کم ہے۔ لیکن رقبہ اتنا بڑا ہے کہ گورننس عملی طور پر نا ممکن ہے۔ کوئٹہ بیٹھ کر تربت پر حکومت ممکن نہیں۔ اس لیے بلوچستان کو چھوٹے انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنے سے وہاں ترقی ممکن ہو گی۔ پھر وہاں جو شورش ہے نئے انتظامی یونٹس بننے سے وہ بھی ختم ہو جائے گی۔ بلوچستان میں کوئٹہ، قلات، مکران ، نصیر آباد ، سبی ژوب، لورالائی اور رخشان ڈویژن ہیں۔ میں سمجھتا ہوں بلوچستان کے سات ڈویژن بننے سے وہاں نہ صرف ترقی ہوگی بلکہ دشمن کی تمام سازشیں بھی خود بخود ناکام ہو جائیں گی۔ یہ پاکستان کا بہترین مفاد ہے۔

اسی طرح کے پی میں بھی سات ڈویژن ہیں۔ ان میں پشاور، مالا کنڈ، مردان، ہزارہ، کوہاٹ ، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان شامل ہیں۔ وہاں  دہشت گردی جیسے مسائل کا حل بھی چھوٹے انتظامی یونٹس میں ہی ہے۔ لوگ مقامی سطح پر اپنے امن وامان کے بہتر فیصلے کر سکتے ہیں۔ ترقی بھی بہتر ہو سکے گی۔

ایک رائے یہ بھی ہے کہ پاکستان میں چند خاندانوں کی حکومت ہے۔ حکمرانی ان سے باہر جاتی ہی نہیں ہے۔ نئے چھوٹے انتظامی یونٹ بننے سے نئے حکمران سامنے آئیں گے۔ نئی قیادت سامنے آئے گی۔ خاندانوں کی اجارہ داری ختم ہوگی۔ سیاسی جماعتیں بھی نئی قیادت سامنے لانے پر مجبور ہو جائیں گے ۔ جن کا سیاسی کیریئر وزیر پر ختم ہو جاتا تھا وہ بھی وزیر اعلیٰ بن سکیں گے ۔ دنیا میں کئی ممالک نے بڑے بڑے صوبوں سے چھوٹے انتظامی یونٹ بنائے ہیں۔ ان کے تجربات کامیاب رہے ہیں۔ پاکستان کو بھی ایسا کرنا چاہیے۔ شائد یہی وقت کی ضرورت ہے۔