وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد چیمہ نے کہاہے کہ زیادہ سے زیادہ ترقیاتی پیش رفت کےلئے بیرونی اقتصادی معاونت سے چلنے والے منصوبوں کو وفاقی حکومت کی ترجیحات سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہے۔
انہوں نے یہ بات ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی) کی صدر زو جیایی سے ملاقات میں کہی۔ملاقات میں باہمی تعاون اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفاقی وزیر نے زوجیایی کو عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور اس امید کا اظہار کیا کہ ان کی قیادت میں پاکستان اور اے آئی آئی بی کے درمیان شراکت داری مزید مستحکم ہوگی۔اے آئی آئی بی کی صدر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان بینک کا اہم تزویراتی ترقیاتی شراکت دارہے جس کے لیے بینک کا مجموعی پورٹ فولیو تقریباً 3.5 ارب ڈالر پر مشتمل ہے۔
انہوں نے پاکستان کی آئندہ تین سے پانچ سال کی ترقیاتی ترجیحات کے بارے میں دریافت کیا تاکہ اے آئی آئی بی کی مستقبل کی معاونت کو قومی ترجیحات کے مطابق ہم آہنگ بنایا جا سکے۔
صدر اے آئی آئی بی نے اس خواہش کا بھی اظہار کیا کہ بینک پاکستان میں اپنی سرگرمیوں کو خودمختار مالی معاونت سے آگے بڑھاتے ہوئے غیر خودمختار شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرے تاکہ نجی شعبے کے ساتھ تعاون کو فروغ اور ترقیاتی اشتراک کا دائرہ وسیع ہو۔وفاقی وزیر نے پاکستان میں اے آئی آئی بی کے جاری 1.387 ارب ڈالر کے پورٹ فولیو کو سراہتے ہوئے ملک کی ترقیاتی ترجیحات کے لیے بینک کی مسلسل معاونت پر شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے وفاقی سطح کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں خصوصاً ریلوے، سڑکوں اور توانائی کے شعبوں میں حکومت کی حکمتِ عملی پر روشنی ڈالی اور ایسے مؤثر اور اعلیٰ اثرات کے حامل منصوبوں کی ضرورت پر زور دیا جو معیشت کے لیے نمایاں فوائد کا باعث بن سکیں۔
احد چیمہ نے پاکستان ریلوے کے نظام میں موجود وسیع امکانات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فریٹ موومنٹ اور لاجسٹکس کی جدید خطوط پر بحالی سے کارکردگی میں نمایاں بہتری اور مجموعی اقتصادی پیداواری صلاحیت مضبوط ہوگی۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ اے آئی آئی بی کی معاونت کو پاکستان کی بنیادی ڈھانچے کی ترجیحات سے ہم آہنگ کیا جائے جن میں مین لائن-1 ریلوے منصوبہ، نیشنل ہائی وے (این فائیو) فیز ٹو اور بجلی کی ترسیل و تقسیم کے نظام کی جدید کاری جیسے انقلابی منصوبے شامل ہیں۔
انہوں نے توانائی، ٹرانسپورٹ اور شہری ترقی کے شعبوں میں اے آئی آئی بی کے اہم کردار کو بھی سراہا۔ وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت آئندہ تین سے پانچ سال کے دوران ایک عملی اور حقیقت پسندانہ حکمتِ عملی اپنانا چاہتی ہے جس کے تحت محدود مگر مضبوط اور نتائج پر مبنی منصوبوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی اقتصادی معاونت سے چلنے والے منصوبوں کو وفاقی حکومت کی ترجیحات سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ ترقیاتی اثرات حاصل کیے جا سکیں۔وفاقی وزیر نے پاکستان میں اے آئی آئی بی کے دفتر کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ قریبی رابطہ کاری اور مؤثر اشتراک کو فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے بالخصوص زرعی شعبے میں نجی شعبے کے ساتھ تعاون بڑھانے کی حوصلہ افزائی کی تاکہ ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوں، ویلیو چینز مضبوط ہوں اور پائیدار اقتصادی ترقی کو فروغ مل سکے۔
احد چیمہ نے پاکستان کے ترجیحی بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے اے آئی آئی بی سے تیز رفتار تعاون اور مزید معاونت کی درخواست کا اعادہ کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت تزویراتی ترقیاتی شراکت داریوں کے ذریعے پائیدار اقتصادی ترقی کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔