قربانی کے جانوروں کو گرمی اور ہیٹ اسٹروک سے کیسے محفوظ رکھیں؟ اہم احتیاطی تدابیر

ہیٹ ویو کے خطرات کے باعث جانوروں کی مناسب دیکھ بھال پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہوگئی ہے


ویب ڈیسک May 20, 2026
(فوٹو: انٹرنیٹ)

عیدالاضحیٰ قریب آتے ہی ملک بھر میں مویشی منڈیوں کا رخ کرنے والوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے، جہاں لوگ سنتِ ابراہیمی کی ادائیگی کے لیے قربانی کے جانور خریدتے ہیں۔ تاہم بڑھتی ہوئی گرمی اور ہیٹ ویو کے خطرات کے باعث جانوروں کی مناسب دیکھ بھال پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہوگئی ہے، کیونکہ معمولی غفلت بھی جانور کی صحت کو شدید متاثر کرسکتی ہے۔

ماہرینِ حیوانات کے مطابق منڈی سے گھر لائے جانے والے جانور پہلے ہی ماحول کی اچانک تبدیلی، سفر کی تھکن اور شور شرابے کی وجہ سے ذہنی دباؤ یا اسٹریس کا شکار ہوتے ہیں۔ خاص طور پر بچوں کا ہجوم، شور یا جانور کے ساتھ غیر ضروری چھیڑ چھاڑ اس کی بے چینی میں مزید اضافہ کر سکتی ہے۔

جانوروں کے امراض کے ماہر ڈاکٹر کے مطابق نئے خریدے گئے جانور کو فوراً نہلانا انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے، کیونکہ سفر اور گرمی کی وجہ سے اس کا جسمانی درجہ حرارت پہلے ہی بلند ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں فوری غسل جانور کے لیے جسمانی جھٹکے یا بیماری کا باعث بن سکتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ جانور کو پہلے پرسکون ماحول دیا جائے تاکہ اس کا درجہ حرارت معمول پر آ سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ قربانی کے جانور کو ایک دم زیادہ خوراک دینے کے بجائے صبح و شام مناسب مقدار میں چارہ فراہم کیا جائے۔ پانی بھی متوازن انداز میں پلایا جائے تاکہ جانور کا نظامِ ہاضمہ متاثر نہ ہو۔ شدید گرمی میں صاف، ٹھنڈا مگر بہت زیادہ برف والا پانی دینے سے گریز کیا جائے۔

ہیٹ ویو کے دوران جانوروں کو سایہ دار، ہوادار اور ٹھنڈی جگہ پر رکھنا بے حد ضروری ہے۔ اگر جانور میں سانس پھولنے، زیادہ ہانپنے، کمزوری یا بے چینی کی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر اسے ORS، گلوکوز یا الیکٹرولائٹ محلول دیا جاسکتا ہے تاکہ جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی پوری ہو سکے۔

ویٹرنری ماہرین کے مطابق ہیٹ اسٹروک کی صورت میں جانور کو پہلے ری ہائیڈریٹ کرنا ضروری ہوتا ہے، کیونکہ شدید گرمی میں جانور پانی کی کمی کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد ہی دوا یا دیگر طبی اقدامات مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ بعض صورتوں میں جانور کی جسمانی بحالی کے لیے فزیوتھراپی بھی ضروری ہو سکتی ہے۔

مزید برآں، ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ جانور کے رہنے کی جگہ پر مناسب ہوا کا گزر، دھوپ سے بچاؤ، صفائی اور مچھروں یا کیڑوں سے تحفظ کا انتظام بھی ضروری ہے۔ جانور کو دوپہر کے شدید گرم اوقات میں باہر باندھنے سے گریز کیا جائے۔

قربانی کا جانور صرف مذہبی فریضے کا حصہ نہیں بلکہ ایک امانت بھی ہے، جس کی صحت، آرام اور حفاظت کا خیال رکھنا ہر صاحبِ قربانی کی ذمے داری ہے۔ مناسب دیکھ بھال نہ صرف جانور کو بیماریوں سے محفوظ رکھتی ہے بلکہ عید کے دن تک اسے صحت مند اور بہتر حالت میں رکھنے میں بھی مدد دیتی ہے۔