وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف آپریشن غضب للحق پوری قوت اور عزم کے ساتھ جاری ہے جبکہ پاکستان ایک 'نیٹ ریجنل اسٹیبلائزر' کے طور پر خطے اور دنیا میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے اپنا کردارادا کر رہا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کیا اور نیشنل ایکشن پلان کی صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت اورکمانڈ اینڈ سٹاف کالج میں زیر تربیت افسروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے ہر قیمت چکانے کو تیار ہے، آپریشن غضب للحق پوری قوت سے جاری رہے گا اور بلوچستان میں معدنیات سے منسلک منصوبوں پر کام جاری رکھنے کیلئے محفوظ ماحول کی فراہمی ناگزیر ہے۔
اس موقع پر وزیراعظم نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں، آپریشنل تیاریوں اور قومی سلامتی کے لیے قربانیوں کو سراہا۔
وزیراعظم نے معرکہ حق کا حوالہ دیتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی تاریخی کامیابی کو سراہتے ہوئے کہا کہ بھارت کی بلااشتعال اور جارحانہ کارروائیوں کے مقابلے میں پاکستان نے ذمہ دارانہ طرز عمل، تحمل اور دانش مندی کا مظاہرہ کیا، جس سے عالمی برادری نے بھی تسلیم کیا۔
انہوں نے کہا کہ افغان طالبان میں موجود دہشت گرد پراکسیوں کے خلاف اور معصوم شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے آپریشن غضب للحق بھرپور عزم کے ساتھ جاری ہے، جس کے تحت دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور معاونت فراہم کرنے والے ڈھانچوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
وزیراعظم نے مقبوضہ جموں و کشمیر اور فلسطین کے عوام کے لیے پاکستان کی غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ بھی کیا اور دوست ممالک سے آئے ہوئے افسران کی موجودگی کا ذکر کیا۔
وزیراعظم نے عسکری سفارت کاری اور دفاعی تعاون کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان ایک “نیٹ ریجنل اسٹیبلائزر” کے طور پر خطے اور دنیا میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
اس سے قبل کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ آمد پر وزیراعظم شہباز شریف کا استقبال چیف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کیا، وزیراعظم کے ہمراہ وفاقی وزرائے دفاع، داخلہ و اطلاعات اور وزیراعلیٰ بلوچستان بھی موجود تھے۔
وزیراعظم کا نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی سے خطاب
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت کوئٹہ میں نیشنل ایکشن پلان کی صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں بلوچستان میں سیکیورٹی، ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت، منصوبہ بندی اور دیگر امور پر بریفنگ دی گئی۔
وزیراعظم نے بلوچستان کی رخشان ڈویژن میں فرنٹیئر کورتعینات کرنے کی ہدایت کی جس سے بلوچستان میں معدنیات کے تحفظ کے لیے راہداری قائم ہو گی، اس سیکیورٹی راہداری میں فرنٹیئر کور کے اضافی ونگز، شاہراہوں پر سیکیورٹی چیک پوسٹس، سرویلنس گرڈ، سرحدوں پر پوسٹس وغیرہ شامل ہوں گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل بالخصوص معدنیات سے مالامال ہے، بلوچستان میں محفوظ ماحول فراہم کرنا معدنیات سے منسلک منصوبوں پر کام کرنے والی مقامی اور بین الاقوامی کمپنیوں کا ملک میں اعتماد برقرار رکھنے کے لیے نا گزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی عفریت کے مکمل خاتمے کے لیے پولیس اور دیگر فورسز کی بہترین ٹریننگ اور نئی ٹیکنالوجی انتہائی اہم ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ نومبر 2024 سے اب تک بلوچستان میں ایک بھی پولیو کیس رپورٹ نہیں ہوا، بلوچستان میں اس وقت 99 فیصد سکول کھلے ہیں اور تعلیمی سر گرمیاں جاری ہیں۔