سابق وزیر توانائی سندھ امتیاز شیخ نے پروٹیکٹیڈ بجلی صارفین کے لیے سبسڈی ختم کرنے اور سیپریٹ میٹر اسکیم پر پابندی سے متعلق خبروں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
امتیاز شیخ نے کہا کہ 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین سے سبسڈی واپس لینا غریب اور متوسط طبقے کے ساتھ کھلی زیادتی ہوگی۔ ملک میں پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری، طویل لوڈشیڈنگ اور بجلی کے بھاری بلوں نے عوام کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے، ایسے میں کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین پر مزید بوجھ ڈالنا عوام دشمن اقدام ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پروٹیکٹیڈ صارفین وہ طبقہ ہے جو انتہائی محدود آمدن میں اپنے گھریلو اخراجات پورے کرتا ہے۔ اگر ان کی سبسڈی ختم کی گئی تو لاکھوں خاندان شدید مالی بحران کا شکار ہوجائیں گے۔ ایک طرف کئی کئی گھنٹے کی لوڈشیڈنگ جاری ہے جبکہ دوسری جانب عوام بھاری بھرکم بل بھرنے پر مجبور ہے۔
امتیاز شیخ نے کہا کہ دیہاڑی دار مزدور، کم آمدن والے ملازمین اور سفید پوش طبقہ آخر یہ دوہرا بوجھ کیسے برداشت کرے گا۔ سیپریٹ ریزیڈنشل کنکشن پر پابندی سے غریب صارفین کے بجلی بلوں میں غیر معمولی اضافہ ہوگا اور عام آدمی کے لیے بجلی کا استعمال مزید مشکل بن جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ بجلی کے بلوں میں فکسڈ ٹیکس، سرچارجز اور دیگر اضافی ٹیکسز نے پہلے ہی عوام کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ ہر ماہ آنے والے بل سفید پوش طبقے کے لیے ڈراؤنا خواب بن چکے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کسی بھی ایسے فیصلے کی حمایت نہیں کرے گی جس سے غریب اور متوسط طبقے پر اضافی بوجھ پڑے۔
امتیاز شیخ کا کہنا تھا کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے نام پر صرف عام صارفین کو قربانی کا بکرا بنایا جارہا ہے جبکہ بجلی چوری، لائن لاسز اور ناقص پالیسیوں پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جارہی۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ پروٹیکٹیڈ صارفین کی سبسڈی برقرار رکھی جائے اور بجلی کے بلوں میں شامل غیر ضروری ٹیکسز کا خاتمہ کرکے عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے تاکہ مہنگائی کے اس طوفان میں عام آدمی کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔