بھارتی پنجاب کے شہر لدھیانہ سے تعلق رکھنے والی ابھرتی ہوئی پنجابی گلوکارہ اندر کور پراسرار حالات میں مردہ حالت میں پائی گئی ہیں، جبکہ اہلخانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں شادی سے انکار پر چند روز قبل اغوا کیا گیا تھا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق گلوکارہ کی لاش نہر نیلون سے برآمد ہوئی، جس کی شناخت بعد ازاں ان کے اہلخانہ نے کی۔ پولیس نے لاش کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے سمرالا سول اسپتال منتقل کر دیا۔
اندر کور کے بھائی جوتندر سنگھ کی جانب سے درج کرائی گئی شکایت میں بتایا گیا کہ گلوکارہ 13 مئی کی رات تقریباً ساڑھے آٹھ بجے گھر سے سامان خریدنے کے لیے اپنی فورڈ فیگو گاڑی میں نکلی تھیں، لیکن اس کے بعد واپس نہیں آئیں۔
اہلخانہ نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ بھلور کے رہائشی سکھوندر سنگھ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر انہیں اغوا کیا۔ خاندان کے مطابق ملزم اندر کور سے شادی کرنا چاہتا تھا، تاہم گلوکارہ کی جانب سے رشتہ مسترد کیے جانے پر وہ ناراض تھا اور اسی رنجش کے باعث اس نے یہ قدم اٹھایا۔
خاندان کا مزید دعویٰ ہے کہ سکھوندر سنگھ کینیڈا سے پنجاب آیا، اسلحے کے زور پر گلوکارہ کو اغوا کیا، بعد ازاں انہیں قتل کرکے لاش نہر میں پھینک دی اور پھر واپس کینیڈا فرار ہو گیا۔
اہلخانہ نے پولیس کی کارروائی پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ 15 مئی کو ملزمان کے خلاف مقدمہ درج ہونے کے باوجود فوری اور مؤثر کارروائی نہیں کی گئی، جس کی وجہ سے ملزم فرار ہونے میں کامیاب رہا۔
جمال پور پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او بلبیر سنگھ نے مقدمہ درج ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں اور کیس کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
اندر کور پنجابی موسیقی کی ایک ابھرتی ہوئی آواز سمجھی جاتی تھیں اور سوشل میڈیا پر بھی ان کے مداحوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی تھی۔ ان کی اچانک اور افسوسناک موت نے مداحوں اور موسیقی سے وابستہ حلقوں کو صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔