کراچی: بدنام زمانہ خاتون منشیات فروش انمول عرف پنکی کو پروٹوکول دینے کے معاملے پر انکوائری مکمل کرلی گئی ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ کی جانب سے واقعے کی انکوائری مکمل کرنے کے بعد رپورٹ اعلیٰ افسران کو ارسال کردی گئی ہے۔
انکوائری رپورٹ میں ایس ایس پی سٹی علی حسن ، ایس پی انوسٹی گیشن سٹی سمیت 17 پولیس افسران و اہلکاروں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے جبکہ کمیٹی نے ضلعی ایس ایس پی ، ایس ایچ او گارڈن اور ایس ائی او گارڈن کو واقعے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
انکوائری رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ پنکی کو لانے اور عدالت لے جانے تک کا گارڈن تھانے کا سی سی ٹی وی ریکارڈ غائب کردیا گیا ہے۔
رپورٹ میں ایس ایچ او گارڈن حنیف سیال کے خلاف محکمانہ کارروائی کے ساتھ قانونی کارروائی اور کردار مشکوک ہونے پر مزید علیحدہ انکوائری کی سفارش کی گئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا کہ پروٹوکول دینے پر معطل ہونے والی دونوں خواتین پولیس اہلکار ہائی پروفائل کیس کے لیے تربیت یافتہ نہیں تھیں اور نہ ہی انہیں ملزمہ کے حوالے سے آگاہ کیا گیا تھا۔
انکوائری رپورٹ میں لکھا گیا کہ ملزمہ کی عدالت میں پیشی کے دوران پروٹوکول فراہم کرنے سے پولیس کی ساکھ خراب ہوئی جبکہ گرفتاری کے بعد ملزمہ کا سی آر او نہیں کرایا گیا۔
انکوائری رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ آپریشن پولیس کی جانب سے گرفتاری کے بعد انوسٹی گیشن پولیس کو آگاہ تک نہیں کیا گیا۔