مشرق وسطیٰ کی فضا اس وقت ایسی بے یقینی سے لبریز ہے جس میں جنگ کی آہٹ اور سفارت کاری کی سرگوشی ایک ساتھ سنائی دیتی ہے۔ عالمی سیاست کے افق پر بہت کم لمحے ایسے آتے ہیں جب ایک متوقع حملہ صرف میزائلوں یا عسکری حکمت عملی کا معاملہ نہ رہے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کی ترسیل، سفارتی توازن اور علاقائی اقتدار کی سمت کا تعین کرنے لگے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ انکشاف کہ ایران پر مجوزہ فوجی حملہ خلیجی قیادت کی درخواست پر مؤخر کر دیا گیا، اسی نوعیت کا ایک لمحہ ہے۔ بظاہر یہ ایک وقتی فیصلہ محسوس ہوتا ہے، لیکن درحقیقت اس کے پس منظر میں طاقت، خوف، معاشی مفادات، سفارتی دباؤ اور علاقائی بقا کی ایک طویل داستان پوشیدہ ہے۔
امریکا اور ایران کے تعلقات گزشتہ چار دہائیوں سے بداعتمادی، پابندیوں، خفیہ محاذ آرائی اور بالواسطہ جنگوں کے گرد گھومتے رہے ہیں، مگر موجودہ بحران ماضی کے کئی تنازعات سے اس لیے مختلف ہے کہ اب دنیا کی معاشی ساخت پہلے جیسی نہیں رہی۔ عالمی منڈیاں پہلے سے کہیں زیادہ باہم مربوط ہیں، تیل کی رسد میں معمولی خلل بھی کئی معیشتوں کو ہلا دیتا ہے اور جنگوں کے اثرات سرحدوں کے اندر محدود نہیں رہتے۔ یہی وجہ ہے کہ اس مرتبہ خلیجی ریاستوں نے خود امریکا کو جنگ سے باز رہنے کا مشورہ دیا۔
قطر کے امیر، سعودی ولی عہد اور اماراتی صدر کی جانب سے حملہ مؤخر کرانے کی کوشش اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ آج کی جنگیں فاتح کم اور تباہی زیادہ پیدا کرتی ہیں۔ یہ خلیجی ممالک ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں ان کی ترجیح عسکری تصادم نہیں بلکہ معاشی استحکام، سرمایہ کاری، سیاحت، مصنوعی ذہانت، توانائی کی نئی منڈیاں اور عالمی مالیاتی مرکز بننے کی خواہش ہے۔ سعودی عرب کا وژن 2030، متحدہ عرب امارات کی تجارتی حکمت عملی اور قطر کی سفارتی فعالیت سب اسی نئے خلیجی تصور کا حصہ ہیں۔ یہ ممالک بخوبی جانتے ہیں کہ اگر ایران کے ساتھ وسیع جنگ چھڑ گئی تو ان کے اربوں ڈالر کے منصوبے، عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد اور داخلی استحکام سب خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔
اسی لیے وہ ایک ایسے توازن کے خواہاں ہیں جس میں امریکا سے تعلقات بھی برقرار رہیں اور ایران کے ساتھ مکمل تصادم بھی نہ ہو۔امریکی صدر ٹرمپ کی حالیہ حکمت عملی بھی اسی پیچیدہ توازن کی عکاس ہے۔ ایک طرف وہ عسکری تیاری مکمل رکھنے کی بات کرتے ہیں، دوسری طرف مذاکرات کے دروازے بند نہیں کرتے۔ یہ انداز دراصل امریکی طاقت کے بدلتے ہوئے مزاج کو ظاہر کرتا ہے۔ عراق اور افغانستان کی جنگوں نے امریکا کو یہ سبق دیا کہ عسکری برتری ہر مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتی۔ اربوں ڈالر خرچ کرنے اور ہزاروں جانوں کے ضیاع کے باوجود واشنگٹن کو مطلوبہ سیاسی نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔
اسی لیے اب امریکا براہِ راست جنگ کے بجائے دباؤ، پابندیوں، سفارت کاری اور محدود عسکری خطرے کے امتزاج کو ترجیح دیتا ہے۔ٹرمپ کے لیے داخلی سیاسی عوامل بھی کم اہم نہیں۔ امریکی معیشت اس وقت مہنگائی، توانائی کی قیمتوں اور کاروباری بے یقینی جیسے مسائل سے دوچار ہے، اگر مشرق وسطیٰ میں دوبارہ جنگ چھڑتی ہے اور تیل کی قیمتیں بے قابو ہو جاتی ہیں تو اس کا اثر براہِ راست امریکی عوام پر پڑے گا۔ پیٹرول مہنگا ہوگا، صنعتی لاگت بڑھے گی، افراطِ زر میں اضافہ ہوگا اور سیاسی طور پر وائٹ ہاؤس شدید دباؤ میں آ جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا ایران کے خلاف سخت بیانیہ برقرار رکھتے ہوئے بھی مکمل جنگ سے گریز کر رہا ہے۔ایران نے بھی اس بحران میں جو طرزِ عمل اختیار کیا ہے، وہ محض جذباتی ردعمل نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا تزویراتی رویہ ہے۔
صدر مسعود پزشکیان کا یہ کہنا کہ مذاکرات کا مطلب ہتھیار ڈالنا نہیں، ایرانی ریاستی نفسیات کی درست ترجمانی ہے۔ انقلابِ ایران کے بعد سے تہران نے ہمیشہ خود کو ایک مزاحمتی قوت کے طور پر پیش کیا ہے جو بیرونی دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے استقامت کو ترجیح دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جوہری پروگرام ایران کے لیے محض تکنیکی معاملہ نہیں بلکہ قومی وقار، خودمختاری اور دفاعی تحفظ کی علامت بن چکا ہے۔ایران بخوبی جانتا ہے کہ اگر اس نے یورینیم افزودگی کے حق سے مکمل دستبرداری اختیار کی تو داخلی سطح پر اسے شدید سیاسی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ ایرانی نظام میں سخت گیر حلقے پہلے ہی مغرب پر عدم اعتماد رکھتے ہیں۔ ایسے میں کسی بڑے سمجھوتے کو کمزوری کے طور پر دیکھا جائے گا۔
اسی لیے تہران مذاکرات میں لچک دکھاتے ہوئے بھی بنیادی اصولوں پر سخت مؤقف اپنائے ہوئے ہے۔روس کا حالیہ بیان اسی عالمی صف بندی کا حصہ ہے جو بتدریج زیادہ واضح ہوتی جا رہی ہے۔ سرگئی لارووف کا یہ کہنا کہ ایران کو پرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودگی کا مکمل حق حاصل ہے، صرف قانونی مؤقف نہیں بلکہ جغرافیائی سیاست کا اظہار بھی ہے۔ روس نہیں چاہتا کہ امریکا مشرقِ وسطیٰ میں مکمل طور پر اپنی شرائط مسلط کر دے۔ ماسکو کے لیے ایران ایک اہم تزویراتی شراکت دار ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب روس خود مغربی پابندیوں اور یوکرین جنگ کے دباؤ کا شکار ہے۔
چین بھی اگرچہ نسبتاً خاموش انداز میں، مگر اس بحران پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ بیجنگ کی سب سے بڑی دلچسپی توانائی کے محفوظ راستوں اور خطے کے استحکام میں ہے۔ چین دنیا کا ایک بڑا تیل درآمد کنندہ ہے اور خلیج میں کسی بھی جنگ کا براہِ راست اثر اس کی معیشت پر پڑ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین مسلسل مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کی حمایت کرتا ہے۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات کی بحالی میں چینی کردار اس بات کا ثبوت تھا کہ بیجنگ اب صرف معاشی قوت نہیں بلکہ سفارتی اثرورسوخ بھی بڑھا رہا ہے۔ اس پورے بحران کا سب سے حساس پہلو آبنائے ہرمز ہے۔
ایران کی جانب سے وہاں سے گزرنے والے جہازوں کے لیے پیشگی اجازت لازم قرار دینا عالمی سیاست کو ایک نیا پیغام دے رہا ہے۔ دنیا کے تیل کی بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے، اگر یہاں کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کا اثر نیویارک سے بیجنگ اور لندن سے ٹوکیو تک محسوس کیا جائے گا۔ دوسری جانب ایران نے ’’پرشیئن گلف اسٹریٹ اتھارٹی‘‘ قائم کر کے یہ واضح کیا ہے کہ وہ صرف عسکری طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ انتظامی کنٹرول کے ذریعے بھی اپنی برتری منوانا چاہتا ہے۔ جہازوں سے تفصیلی معلومات طلب کرنا اور پیشگی اجازت کو لازمی قرار دینا دراصل ایک نئی قسم کی بحری سفارت کاری ہے۔
تہران دنیا کو یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ اگر اس کے مفادات خطرے میں ڈالے گئے تو عالمی تجارت بھی معمول کے مطابق نہیں چل سکے گی۔امریکا کی جانب سے ایرانی تیل پر عائد پابندیوں میں عارضی نرمی کی پیشکش اسی حقیقت کا اعتراف محسوس ہوتی ہے۔ واشنگٹن جانتا ہے کہ مکمل دباؤ کی پالیسی اب مطلوبہ نتائج نہیں دے رہی۔ ایران پابندیوں کے باوجود نہ صرف اپنے نظام کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا بلکہ اس نے علاقائی اثرورسوخ بھی قائم رکھا۔ دوسری طرف عالمی معیشت بھی مسلسل کشیدگی کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ اب امریکا محدود نرمی اور مشروط مفاہمت کی راہ اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے۔پاکستان کے لیے یہ صورتحال غیرمعمولی حساسیت رکھتی ہے۔
ایک طرف ایران ہمسایہ ملک ہے، دوسری طرف سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات پاکستان کے اہم معاشی شراکت دار ہیں۔ ایسے میں اسلام آباد کے لیے کسی ایک فریق کی کھلی حمایت ممکن نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی توازن کو برقرار رکھنے کی کوشش ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف، اسحاق ڈار اور خلیجی قیادت کے درمیان رابطے اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان خود کو ایک ذمے دار اور مصالحت پسند ریاست کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے۔ دنیا اس وقت ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں جنگیں صرف توپوں اور میزائلوں سے نہیں بلکہ معیشت، توانائی، اطلاعات، بحری راستوں اور سفارتی اتحادوں کے ذریعے لڑی جاتی ہیں۔ ایران، امریکا، روس، چین، خلیجی ریاستیں اور پاکستان سب اپنے اپنے مفادات کے تحت ایک پیچیدہ شطرنج کھیل رہے ہیں۔
اس شطرنج میں ہر چال کا اثر صرف میدان جنگ تک محدود نہیں بلکہ عالمی مالیاتی نظام، تیل کی قیمتوں، تجارتی راستوں اور سیاسی استحکام تک پھیل جاتا ہے۔فی الحال ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تمام فریق جنگ کے دہانے تک جا کر واپس پلٹ آنے کی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں، مگر تاریخ بارہا ثابت کر چکی ہے کہ ایسے نازک بحرانوں میں ایک غلط اندازہ، ایک غیر متوقع حملہ یا کسی فریق کی جذباتی پیش قدمی حالات کو اچانک بے قابو کر سکتی ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ موجودہ سفارتی کوششیں محض وقتی مہلت حاصل کرنے کا ذریعہ نہ بنیں بلکہ ایک ایسے مستقل فریم ورک کی بنیاد رکھیں جس میں خطے کے تمام ممالک کی سلامتی اور خودمختاری کا احترام شامل ہو۔
اگر طاقت کے اس کھیل میں صرف عسکری برتری کو فیصلہ کن معیار بنایا گیا تو پھر نہ آبنائے ہرمز محفوظ رہے گی، نہ خلیجی استحکام، نہ عالمی معیشت اور نہ وہ سفارتی پل جن پر اس وقت دنیا کا امن کھڑا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کو اس وقت جنگ جیتنے والے سپہ سالاروں سے زیادہ ایسے مدبر رہنماؤں کی ضرورت ہے جو یہ سمجھ سکیں کہ بعض اوقات سب سے بڑی فتح دشمن کو شکست دینا نہیں بلکہ پوری دنیا کو تباہی سے بچا لینا ہوتی ہے۔