لیل و نہار کا جنگ آزادی نمبر (حصہ اول)

عظیم شاعر فیض احمد فیض کی نگرانی میں سید سبط حسن اور ان کی ٹیم نے جدوجہد آزادی کے 100 سال مکمل ہونے پر جنگ آزادی نمبر شائع کرنے کا فیصلہ کیا۔



ڈاکٹر سید جعفر احمد حقیقی عوامی دانشور ہیں، وہ ہمیشہ تاریخی دستاویزات کی تلاش میں رہتے ہیں اور اگر کوئی تاریخی دستاویز انھیں مل جائے تو اس کو کتابی شکل دے دیتے ہیں، وہ آجکل انسٹی ٹیوٹ آف ہسٹاریکل اینڈ سوشل ریسرچ کے ڈائریکٹر اور ایک یونیورسٹی کی سوشل سائنس کی فیکلٹی کے ڈین ہیں۔ اس انسٹی ٹیوٹ نے ڈاکٹر سید جعفر احمد کی ترتیب و تدوین اور تعارف پر مبنی ہفت روزہ لیل و نہار کا ’’جنگ آزادی ۱۸۵۷ء ‘‘نمبر شائع کیا ہے۔ ہفت روزہ لیل و نہار پروگریسو پیپرز لمیٹڈ (P.P.L) کے تحت 1957میں لاہور سے شائع ہوتا تھا۔ لیل و نہار کے ایڈیٹر سید سبط حسن اور چیف ایڈیٹر فیض احمد فیض تھے۔

انگریزی کا اخبار پاکستان ٹائمز اور روزنامہ امروز بھی اسی ادارے کے تحت شائع ہوتا تھا۔ ممتاز ترقی پسند سیاسی رہنما میاں افتخار الدین اگرچہ پی پی ایل کے مالک تھے مگر اس ادارے کے اخبارات میں ایڈیٹر کا ادارہ انتہائی مضبوط تھا۔ جنرل ایوب خان نے 1957 میں مارشل لاء کے نفاذ کے بعد پی پی ایل کو سرکاری تحویل میں لے لیا۔ ہفت روزہ لیل و نہار اردو کا انتہائی معیاری رسالہ تھا۔

لیل و نہار 1959 میں بند ہوا۔ 1970میں فیض احمد فیض اور سید سبط حسن نے کراچی سے ہفت روزہ لیل و نہار دوبارہ شائع کیا مگر جب مارچ 1971 میں جنرل یحییٰ خان نے مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کیا تو لیل و نہار نے اس آپریشن کی مخالفت کی گئی۔

ہفت روزہ لیل و نہار دوبارہ بند ہوگیا۔ انگریز راج کے خلاف ہندوستان کی آزادی کے لیے مئی 1857 میں تاریخی جدوجہد کی گئی۔ اس جدوجہد کے نتیجے میں انگریزوں نے بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو معزول کردیا اور دہلی پر قبضہ کرلیا گیا۔ 1857کی جنگ آزادی کے بارے میں بھارت میں بہت زیادہ لکھا گیا مگر پاکستان میں ہندوستان کی آزادی کی تاریخی جدوجہد کے موضوع پر خاطرخواہ کام نہیں ہوا۔

عظیم شاعر فیض احمد فیض کی نگرانی میں سید سبط حسن اور ان کی ٹیم نے جدوجہد آزادی کے 100 سال مکمل ہونے پر جنگ آزادی نمبر شائع کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس خصوصی شمارہ میں 31آرٹیکلز ہیں۔ اس خصوصی شمارہ میں لکھنے والوں میں سید قاسم محمود، ظہیر دہلوی، امداد صابری، مولانا غلام رسول مہر، شیخ محمد اسماعیل، ڈبلیو ایس آریڈن، سرسید احمد خان، ڈاکٹر عبدالسلام خورشید، ڈاکٹر سید عبداﷲ، اظہار کاظمی اور شوکت تھانوی شامل ہیں۔ کچھ مضامین لیل و نہار کے ادارتی عملے نے تحریر کیے۔

ڈاکٹر جعفر احمد نے اس کتاب میں معروف مصنف قاسم محمود کا آرٹیکل لیل و نہار کے جنگ آزادی نمبر کا پس منظر اعلیٰ صحافتی اقتدار کی پیروی کرتے ہوئے شائع کیا ہے۔ قاسم محمود لکھتے ہیں کہ سید سبط حسن نے اس لیل و نہار میں ملازمت کی پیشکش کی تھی مگر میں نے منٹو صاحب سے وعدہ کیا تھا کہ کبھی ملازمت نہیں کروں گا۔ اس بناء پر میں نے یہ پیشکش قبول نہیں کی، مگر پھر سبط حسن صاحب نے کہا یہ ملازمت چھوڑی ہے، یہ تو پیشکش ہے۔ میں نے 1857ء کی جنگ آزادی پر مربوط کام کیا۔ میں نے ایڈیٹر صاحب سے یہ درخواست کی کہ ایڈیٹر کے ساتھ نائب ایڈیٹرز کے نام بھی ہر شمارے میں شائع کیے جائیں۔

لیل و نہار کے تازہ شمارہ میں ایک چھوٹے سے بکس میں اعلان کیا جائے کہ جنگ آزادی نمبر سید قاسم محمود نے ایڈٹ کیا۔ یہ درخواست پہلے ایڈیٹر سبط حسن، پھر فیض احمد فیض اور پھر میاں افتخار الدین نے اپنے اپنے دلائل کے ساتھ مسترد کردی، یوں جنگ آزادی نمبر کی اشاعت کے بعد لیل و نہار سے میرا تعلق نہ تھا مگر میرا افسانہ شائع ہوتا رہا۔ اس شمارہ کا پہلا آرٹیکل ’’اگ دوڑی رگ احساس میں گھر سے پہلے ‘‘کے عنوان سے شائع ہوا۔ اس آرٹیکل میں 1764 میں بنگال آرمی کی پہلی بغاوت سے لے کر 8 دسمبر 1857تک ہندوستان کے مختلف علاقوں میں ہونے والی بغاوتوں کی فہرست شائع کی گئی ہے۔

ایک اور آرٹیکل ’’کیا 1857 کی جنگ قومی جنگ تھی؟‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ اس آرٹیکل میں جنگ آزادی سے متعلق یہ سوالات اٹھائے گئے تھے۔ (1) بغاوت کسی باقاعدہ منصوبہ کے تحت شروع نہیں ہوئی، اس کا کوئی واضح مقصد نہ پروگرام نہ منشور تھا۔2) (یہ بغاوت ہمہ گیر نہ تھی بلکہ اس کا دائرہ عمل مخصوص علاقہ تک محدود تھا۔ 3)) اس تحریک کے رہنماؤں نے بغاوت ہونے کے بعد بغاوت کی ذمے داری لینے سے انکار کردیا۔ (4) اس بغاوت کی کوئی مرکزی لیڈرشپ نہیں تھی؟ مصنف کا کہنا تھا کہ یہ اعتراضات تاریخی اعتبار سے درست ہیں اور اگر سو فیصد درست ہوں تو بھی ان سے جنگ آزادی کا کردار متاثر نہیں ہوتا، البتہ ناکامی کے اسباب کی نشاندہی میں ضرور مدد ملتی ہے۔

مشکل یہ ہے کہ نام نہاد مورخین ہمار ی جنگ ِ آزادی پر تبصرہ کرتے وقت دیگر ممالک کے انقلابات کی تاریخ کو بھو ل جاتے ہیں۔ انھیں یہ یاد نہیں رہتا کہ یہ جنگ آج نہیں بلکہ آج سے سو سال پیشتر لڑی گئی تھی۔ عام علمی صلاحیت کے حامل تاریخ دان بھی مانے گا کہ 1857کی جنگ کا مقصد انگریز راج سے نجات حاصل کرنا تھا۔ اس مسلح جدوجہد نے ہندوستان میں پہلی بار خوداعتمادی اور انگریزوں سے مقابلہ کرنے کی سکت پیدا کی۔ 1857نہ ہوتا تو 1947بھی نہ ہوتا۔

اس آرٹیکل کے اختتام سے پہلے 7 وجوہات تحریر کی گئی ہیں، جن کی وجہ سے یہ جدوجہد ناکام ہوئی۔ ان وجوہات کے مطابق انگریز والیان ریاست کو اپنا حلیف بنالیا تھا۔ مجاہدین کی صفوں میں انگریزوں کے جاسوس اور نمک خوار سرگرم عمل رہے۔ اسی طرح ہندوستانی فوجیوں نے دفاعی پوزیشن اختیار کی۔ جدید وسائل مثلاً تار اور ڈاک پر انگریز فوج کا قبضہ برقرار رہا۔ ریلیں بھی ان کے پاس تھیں تاکہ ان کو ہر مقام سے منٹ منٹ کی خبریں ملتی رہیں اور اس کے مطابق اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے رہیں۔

انگریزوں نے فوجی کمک اور سامان رسد کی فراہمی کے لیے کلکتہ، مدراس اور بمبئی کی بندرگاہوں کو محفوظ رکھا، اگر بمبئی، مدراس، بنگال اور پنجاب میں بھی جنگ آزادی اتنے پیمانہ پر لڑی گئی ہوتی جس پیمانہ پر دیگر صوبوں میں لڑی گئی تھی تو انگریز کا ملک میں رہنا مشکل ہوجاتا۔ اس آرٹیکل میں مزید تحریر کیا گیا ہے کہ ان دنوں بعض فرقہ پرست اور متعصب عناصر یہ ثابت کرنے کے لیے درپے ہیں کہ 1857 کی جنگ آزادی میں فقط مسلمانوں نے نمایاں حصہ لیا اور وطن فروش سب کے سب ہندو تھے۔ اس کے برعکس ہندوستان میں بعض فرقہ پرست عناصر یہ ثابت کرنے کے درپے ہیں کہ جنگ آزادی میں فقط ہندوؤں نے نمایاں حصہ لیا، حالانکہ یہ دونوں باتیں سرے سے غلط او ر بے بنیاد ہیں۔

جنگ آزادی کا روشن پہلو یہ ہے کہ ہندو اور مسلمانوں نے ایک جان دو قالب ہو کر انگریزوں کا مقابلہ کیا۔ ’’سرخ کنول‘‘ کے عنوان سے شائع ہونے والے آرٹیکل میں یہ پیراگراف دلچسپ ہے۔ بنگال کے حرف پیشہ بابو، منشی، مدرس، علماء، سیاسی پیداے غرضہ اس علاقے کے سارے لوگ جب 1857 میں کمپنی سرکار کے خلاف بغاوت کے لیے اٹھے تو ان کے جلوس کنول کا سرخ پھول تھا۔ سرخ پھول باغی فوج کا ہراول دستہ تھا، وہ خفیہ پیغام رسائی کرتا، اپنی دل کشی او رشادانی کے ساتھ کنول کا پھول غیور بنگالیوں کو یاد دلاتا کہ بنگال، اس کا رنگ و نگہت، دلکشی اور بہادری اب تمہاری نہیں غیروں کی ملکیت ہے۔

(جاری ہے)