تاریخ بعض اوقات بہت آہستہ لکھتی ہے،مگر جب لکھتی ہے تو اس کی سیاہی مٹتی نہیں۔ وہ نہ جذبات دیکھتی ہے نہ سفارت کاری کی مجبوریوں کو رعایت دیتی ہے، نہ ہی طاقت کے توازن کو اخلاقیات پر فوقیت دیتی ہے۔ وہ صرف یہ سوال پوچھتی ہے تم انسانیت کے ساتھ تھے یا خاموش تماشائی بنے رہے؟
غزہ میں جاری تباہی، بھوک ، بے گھری اور لاشوں کے انبار نے دنیا کے ضمیر کو ایک بار پھر امتحان میں ڈال دیا ہے۔ اس بار منظر نامہ مکمل طور پر یکساں نہیں۔کچھ حکومتیں وہ ہیں جو روایتی سفارتی زبان کے پردے میں چھپنے کے بجائے کھل کر بول رہی ہیں۔ وہ طاقت کے مراکز سے فاصلہ اختیار کر کے اس انسانی المیے پر سوال اٹھا رہی ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں تاریخ اپنا فیصلہ لکھنا شروع کرتی ہے۔
یورپ کے نقشے پر اگر ہم دیکھیں تو اسپین نے حالیہ عرصے میں جس واضح انداز میں اسرائیلی پالیسیوں پر تنقید کی ہے، وہ محض ایک سفارتی بیان نہیں بلکہ سیاسی جرات کا اظہار ہے۔ یورپی یونین کے اندر رہتے ہوئے یہ مطالبہ کرنا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کی جائے، آسان فیصلہ نہیں تھا۔ یہ وہ قدم ہے جو طاقت کے مراکز کے خلاف اخلاقی لکیر کھینچتا ہے۔
اسی طرح آئرلینڈ وہ ملک ہے جو برسوں سے فلسطینی مسئلے پر نسبتاً واضح اور انسانی حقوق کے زاویے سے بات کرتا رہا ہے۔ اس نے بار بار یہ سوال اٹھایا کہ کیا بین الاقوامی قانون صرف کمزوروں کے لیے ہے؟ کیا انسانی جانوں کی قیمت جغرافیے کے مطابق بدلتی ہے؟
ناروے اور سلووینیا نے بھی یورپی سفارت کاری کے اندر رہتے ہوئے ایک مختلف آواز بلند کی ہے۔ یہ وہ آواز ہے جو جنگی بیانیے کے شور میں دبنے سے انکار کرتی ہے۔ یہ حکومتیں جانتی ہیں کہ عالمی سیاست میں قیمت چکانی پڑتی ہے، مگر وہ یہ قیمت انسانی ضمیر کے لیے ادا کرنے کو تیار دکھائی دیتی ہیں۔ شمالی یورپ میں آئس لینڈ کی قیادت خاص طور پر اس کی نئی وزیر اعظم Kristrún Frostadóttir بھی اسی ابھرتی ہوئی اخلاقی سیاست کی علامت کے طور پر دیکھی جا رہی ہیں۔
ایک چھوٹا ملک محدود وسائل مگر آواز اتنی اونچی کہ وہ عالمی طاقتوں کے بیانیے میں دراڑ ڈال دے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ اخلاقی جرات کا تعلق آبادی یا فوجی طاقت سے نہیں ہوتا۔ اسی صف میں ساؤتھ افریقہ کا کردار بھی نمایاں ہے جس نے بین الاقوامی عدالت انصاف میں اسرائیل کے خلاف قانونی موقف اختیار کر کے ایک تاریخی مثال قائم کی ہے۔ یہ وہی ملک ہے جس نے نسل پرستی کا درد خود جھیلا ہے اس لیے شاید وہ انسانی تکلیف کو زیادہ گہرائی سے سمجھتا ہے۔
برازیل اور ترکیہ نے بھی کھل کر انسانی بحران پر احتجاج کیا ہے اور سفارتی سطح پر دباؤ کی سیاست کو آگے بڑھایا ہے۔ اختلافات اپنی جگہ مگر ایک انسانی لکیر ہے جو ان حکومتوں نے واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ تمام ممالک ایک ہی صف میں کھڑے نہیں نہ ہی ان کے مفادات یکساں ہیں، مگر ایک چیز مشترک ہے انھوں نے خاموش رہنے کے آسان راستے کے بجائے بولنے کا مشکل راستہ چنا ہے۔ اور یہاں سوال یہ نہیں کہ وہ مکمل طور پر درست ہیں یا ان کی پالیسی میں تضادات نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ جب عالمی طاقتیں خاموش تھیں تب کون سا دروازہ کھلا رکھا گیا تاکہ انسانی المیے کی آواز دنیا تک پہنچ سکے؟
تاریخ ہمیں بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ بڑے سانحات کے وقت غیر جانبداری اکثر طاقتور کے حق میں چلی جاتی ہے۔ جنوبی افریقہ کی نسل پرستی ہو یا ویتنام کی جنگ عراق پر حملہ ہو یا لاطینی امریکا میں آمریت بعد میں سوال یہی اٹھتا ہے کہ کس نے آواز اٹھائی اور کس نے صرف توازن دیکھا۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ریاستیں ہمیشہ اخلاقیات کے مطابق عمل نہیں کرتیں۔ وہ مفادات اتحاد اور معاشی دباؤ کے تحت فیصلے کرتی ہیں، مگر اسی دنیا میں کبھی کبھار کچھ حکومتیں اس دائرے کو توڑ کر انسان کو مرکز میں رکھ دیتی ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں سیاست اخلاقیات کے قریب آتی ہے۔
غزہ کے تناظر میں یہ آوازیں ابھی اقلیت میں ہیں مگر تاریخ ہمیشہ ابتدا اقلیت سے ہی کرتی ہے۔ ساری دنیا میں لوگ غزہ کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔ ہر دردمند دل رکھنے والا غزہ کے ساتھ ہے، مگر بہت کم ممالک ہیں جن کی حکومتیں کھل کر غزہ میں ہونے والے مظالم پر نہ صرف آواز اٹھا رہی ہیں بلکہ کسی نقصان کی پرواہ کیے بغیر اپنے موقف پہ ڈٹی ہوئی ہیں۔ اکثریت اکثر بعد میں شامل ہوتی ہے جب نقصان واضح ہو چکا ہوتا ہے جب تصویریں محفوظ ہو جاتی ہیں جب سوال محفوظ کتابوں میں درج ہو جاتے ہیں۔ اصل امتحان یہی ہے کہ انسانیت کا وزن کون اٹھاتا ہے جب پورا نظام اسے ہلکا ثابت کرنے پر لگا ہو۔
شاید آنے والی نسلیں جب تاریخ کا یہ دور پڑھیں گی تو وہ صرف جنگی بیانات نہیں دیکھیں گی۔ وہ یہ بھی دیکھیں گی کہ کن حکومتوں نے اس وقت کہا تھا انسان پہلے ہے سیاست بعد میں۔ تاریخ ہمیشہ ان ممالک کو یاد رکھے گی جو آج غزہ کے لیے کھڑے ہیں اس کی پرواہ کیے بغیر کے ان کو اس کی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔
حق کو جھٹلایا نہیں جاسکتا ،یزید کے پاس ہزاروں کی فوج تھی اور حسین اپنے خاندان اور چند رفقاء کے ساتھ کربلا میں شہید ہوگئے۔ انھوں نے سچ کا اور حق کا راستہ چنا۔ تاریخ میں اور انسانوں کے دلوں میں حسین زندہ ہیں اور یزید کا کہیں نام و نشان نہیں۔ آج کا یزید بھی کل کہیں نہیں ہوگا،تاریخ صرف حق کا ساتھ دینے والے کو یاد رکھتی ہے۔
تاریخ ہمیشہ یہ ثابت کرتی آئی ہے کہ ظلم انسانیت کے اجتماعی ضمیر کو ہمیشہ کے لیے شکست نہیں دے سکتا۔ معصوم بچوں کی سسکیاں ماؤں کی بے بسی اور ملبے تلے دبے خواب صرف خبروں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ وہ آنے والے وقت میں سوال بن جاتے ہیں۔ غزہ آج محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ انسانیت کے اخلاقی شعور کا استعارہ بن چکا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب قوموں اور قیادتوں کا اصل چہرہ تاریخ کے سامنے آتا ہے کہ انھوں نے طاقت کا ساتھ دیا یا مظلوم کا۔ آنے والی نسلیں شاید ہتھیاروں کی گونج بھول جائیں مگر حق کے لیے بلند ہونے والی آوازوں کو کبھی فراموش نہیں کریں گی۔