خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کی مراعات ودیگر اخراجات کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی گئی۔
ایڈووکیٹ محمد ناصر خان کی جانب سے دائر درخواست میں خیبر پختونخوا اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر ایکٹ 2026 کو چیلنج کیا گیا ہے، درخواست میں وفاق، حکومت خیبر پختونخوا اور اسپیکر صوبائی اسمبلی کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست میں کہا گیا کہ خیبر پختونخوا اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر مراعاتی ایکٹ 2026 آئین سے متصادم ہے، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا مراعاتی قانون بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، نیا قانون پبلک آفس ہولڈرز، ان کے خاندانوں اور عملے کو فائدہ پہنچانے کے لیے بنایا گیا۔
درخواست گزار کا کہنا ہے کہ قانون کے ذریعے عوامی خزانے کو نقصان پہنچا کر مخصوص طبقے کو فائدہ دیا گیا، فنانس کمیٹی کو بجٹ مختص کرنے اور اضافی مالیاتی ذمہ داریاں پیدا کرنے کا اختیار نہیں،
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور اسمبلی سیکرٹریٹ فنڈز کی ریکوری اور آڈٹ کا حکم دیں، عدالت مراعاتی ایکٹ کو غیر آئینی قرار دے۔