لاہور کی نجی یونیورسٹی میں بجٹ سیمینار کا انعقاد

ہمیں اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنا ہوگا، فاطمہ اسد


ویب ڈیسک May 21, 2026

لاہور کی نجی یونیورسٹی میں بجٹ سیمینار کا انعقاد ہوا جس میں سیمینار میں سابق وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی، سابق چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی، ماہر معیشت فاطمہ اسد اور ماہر معیشت وائس پریزیڈنٹ آئی سی ایم اے عظیم حسین سمیت دیگر نے شرکت کی۔

تفصیلات کے مطابق شبر زیدی کا خطاب میں کہنا تھا کہ پاکستان کی تمام بڑی صنعتوں کے مالکان میرے کلائنٹ ہیں، وہ سب یہی کہتے ہیں کہ ان کی اسلام آباد سے جان چھڑائیں۔ وہ ٹیکسوں کی بھرمار اور بجلی کی نرخوں سے پریشان ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے لوگ آئی ایم ایف کو سمجھانے کےلئے تیار ہی نہیں ہیں ، ایران جنگ کے بعد دنیا پہلے والی نہیں رہے گی۔ اس جنگ کے بعد کی دنیا سے ہم فائدہ اٹھا سکتے ہیں اگر سمجھداری سے چلیں تو۔

فاطمہ اسد کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ پٹرول اور انرجی کی قیمتوں کے بارے میں تو سوچنا ہی ہے مگر آئی ایم ایف کے بارے میں بھی سوچنا ہوگا۔

ماہر معیشت عمر ظہیر نے کہا کہ پچھلے سہ ماہی میں ہم۔نے طے شدہ سے کم ٹیکس جمع کیا۔ اس کمی کو پورا کرنے کےلئے سپر ٹیکس متعارف کرایا گیا۔

شاہد خاقان عباسی کا خطاب میں کہنا تھا کہ انیس سو نوے میں جب ہماری حکومت آئی تو ریفارمز کی کوشش کی گئی، سنگاپور تین لوگوں کو بھیجا گیا۔ ہمارا ڈیٹا دیکھ کر وہاں کے لوگوں نے کہا کہ آپ تو بینک کرپٹ ہیں آج بھی ویسا ہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں پچھلے اڑتیس سال سے بجٹ کا کسی نہ۔کسی طرح حصہ رہا ہوں، بجٹ خسارہ پورا کرنے کےلئے مزید ٹکس لگا دیتے ہیں اس میں نئی چیز نہیں ہوتی۔ انیس سو نوے میں بھی یہی تھا کہ ایک کمیٹی دو گھنٹے بیٹھ کر بحث کرتی اور پانچ اشیاء پر ٹیکس بڑھا دیتے تھے۔