اداکارہ مومنہ اقبال کو مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے کے ہائی پروفائل کیس میں اس وقت نیا موڑ سامنے آگیا ہے جب ان کے وکلاء نے دعویٰ کیا کہ معاملے کے پس منظر میں سابقہ تعلقات اور بعد ازاں پیدا ہونے والی پیچیدگیاں شامل ہیں۔
وکلاء کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صوبائی اسمبلی کے رکن ثاقب چدھڑ پہلے سے شادی شدہ ہیں اور یہی بات اس تنازع کی بنیادی وجہ بنی۔
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے روبرو پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مومنہ اقبال کے وکلاء عدنان احسان اور رمشا اقبال نے بتایا کہ اداکارہ اور لیگی ایم پی اے کے درمیان 2022 اور 2023 کے دوران تعلقات قائم رہے۔ ان کے مطابق ایم پی اے کی جانب سے مسلسل شادی کی خواہش ظاہر کی گئی اور باقاعدہ رشتہ بھی بھیجا گیا تھا، تاہم بعد میں یہ بات سامنے آئی کہ وہ پہلے سے شادی شدہ ہیں اور مبینہ طور پر تیسری شادی کے خواہاں تھے۔
وکلاء نے مؤقف اختیار کیا کہ جب یہ حقیقت واضح ہوئی تو مومنہ اقبال نے اخلاقی بنیادوں پر اس تعلق کو ختم کر دیا۔ ان کے مطابق صورتحال اس وقت بگڑی جب اداکارہ کی شادی کسی اور جگہ طے پا گئی، جس پر متعلقہ ایم پی اے کی جانب سے مبینہ طور پر دباؤ اور ہراسانی کا سلسلہ شروع ہوا۔ وکلاء نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ اسی دوران سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے اداکارہ کے ہونے والے شوہر کے خلاف مقدمہ درج کروایا گیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ تمام تر دھمکیوں اور دباؤ کے باوجود مومنہ اقبال کی شادی طے شدہ تاریخ یعنی یکم جون کو ہی انجام پائے گی۔ وکلاء کا کہنا تھا کہ ہراسانی، بلیک میلنگ اور دھمکیوں سے متعلق تمام ڈیجیٹل اور دستاویزی شواہد این سی سی آئی اے کے سامنے پیش کر دیے گئے ہیں اور تفتیشی اداروں کا رویہ مثبت رہا ہے، جس سے انصاف کی امید بڑھ گئی ہے۔
دوسری جانب مومنہ اقبال اور ان کے وکلاء نے اس معاملے پر فوری نوٹس لینے پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایک خاتون فنکارہ کے تحفظ کے لیے بروقت اقدامات قابلِ تحسین ہیں۔