’جنسی زیادتی، تشدد، انسانیت سوز سلوک‘،اسرائیلی فوج کی حراست سے رہائی کے بعد سعد ایدھی کراچی پہنچ گئے

قافلےمیں180افراد تھے،2 راتیں بحری جہاز پر گزریں، 35 افراد زخمی ہوئے اور 15 افراد کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی، سعد ایدھی


ویب ڈیسک May 23, 2026

غزہ امدادی قافلے “صمود فلوٹیلا” میں شامل سعد ایدھی وطن واپس پہنچ گئے، اسرائیلی فوج کی حراست سے رہائی کے بعد سعد ایدھی جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچے جہاں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ سعد ایدھی کی اہلیہ اور کم سن بیٹی نے بھی ایئرپورٹ پر ان کا استقبال کیا۔

اس موقع پر سعد ایدھی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا سفر 14 مئی کو شروع ہوا تھا اور غزہ سے 200 ناٹیکل مائل دور اسرائیلی فوج نے انہیں بین الاقوامی سمندر میں گرفتار کیا۔

انہوں نے کہا کہ قافلے میں 180 افراد شامل تھے اور دو راتیں بحری جہاز پر گزریں جبکہ 35 افراد زخمی ہوئے اور 15 افراد کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی۔ سعد ایدھی کے مطابق کھانے میں صرف ڈبل روٹی اور پانی دیا جاتا تھا۔

سعد ایدھی نے کہا کہ ان پر تشدد کیا گیا اور تین روز بعد اسرائیل پہنچنے پر بھی غیر انسانی سلوک جاری رہا۔ انہیں جیل میں بند رکھا گیا جہاں معلوم نہیں تھا کہ کب رہائی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سیل میں بند کر دیا گیا، بھوک ہڑتال کی اور صرف پانی پی کر صبر کیا۔

انہوں نے کہا کہ غزہ کے لیے ان کا مشن غیر مسلح اور انسانی امداد پر مبنی تھا اور وہ بھوک کے شکار مظلوم فلسطینی عوام اور بچوں تک خوراک اور ادویات پہنچانا چاہتے تھے۔

سعد ایدھی کے مطابق اسرائیلی اہلکار لیزر لائٹس مارتے تھے تاکہ وہ سو نہ سکیں جبکہ قید خانے کے فرش پر پانی ڈال دیا جاتا تھا۔

سعد ایدھی نے بتایا کہ انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور کئی کئی گھنٹے گھٹنوں کے بل بٹھا کر مارا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جن افراد کے پاس امریکی یا یورپی پاسپورٹس نہیں تھے، ان پر زیادہ تشدد کیا جاتا تھا جبکہ جو امریکی اپنی حکومت کے خلاف بولتے تھے، انہیں بھی نشانہ بنایا جاتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ان پر چار دن تشدد ہوا جبکہ فلسطینی 80 سال سے ظلم برداشت کر رہے ہیں۔ سعد ایدھی نے کہا کہ امدادی سامان ضائع کر دیا گیا تاہم وہ فلسطین کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے اور کوشش ہوگی کہ امداد دوبارہ فلسطین پہنچائی جائے۔ انہوں نے حکومت پاکستان سے بھی فلسطین کا مسئلہ حل کرانے میں کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔

سعد ایدھی پاکستانی ہیرو ہیں،اپنے دادا کا نام روشن کیا، سابق سینیٹر مشتاق احمد

سابق سینیٹر مشتاق احمد نے کہا  کہ سعد ایدھی پاکستانی ہیرو ہیں اور انہوں نے اپنے دادا کا نام روشن کیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سعد ایدھی نے پاکستان کے 25 کروڑ عوام کی نمائندگی کی جبکہ وہ خود بھی دو مرتبہ گرفتار ہو کر اسرائیلی جیل میں قید رہ چکے ہیں اور اسرائیل کے ظالمانہ ہتھکنڈوں کو جانتے ہیں۔

مشتاق احمد نے کہا کہ اسرائیل میں 11 ہزار فلسطینی قیدی موجود ہیں جن میں 400 کے قریب 10 سال سے کم عمر بچے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے فلسطینی قیدیوں کو پھانسی دینے کا قانون منظور کر لیا ہے جبکہ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق فلسطینی خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سعد ایدھی اور امدادی مشن کے دیگر کارکنان کی رہائی خوشی کی بات ہے تاہم اصل خوشی اس وقت ہوگی جب تمام فلسطینی قیدی آزاد ہوں گے۔ سابق سینیٹر نے کہا کہ حکومت غزہ بورڈ سے الگ ہو اور فلسطین کو آزاد کرایا جائے گا۔ انہوں نے غزہ بحری امدادی قافلے “فلوٹیلا” پر اسرائیلی حملے کی بھی مذمت کی۔

مزدور رہنما ناصر منصور نے سعد ایدھی کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ اسرائیل فلسطین پر مظالم ڈھا رہا ہے اور اسے روکنا ہوگا۔

ایچ آر سی پی کے اسد بٹ نے کہا کہ ایدھی فیملی کو سلام پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے اسرائیل کو دہشت گرد ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلسطین کی آزادی تک جدوجہد جاری رہے گی۔