غزہ فلوٹیلا کے رضاکاروں کیساتھ غیرانسانی سلوک؛ فرانس کی اسرائیلی وزیر پر سفری پابندی

اسپین، برطانیہ اور اٹلی بھی یورپی یونین سے اسرائیلی وزیر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کرچکے ہیں


ویب ڈیسک May 23, 2026
فرانس نے اسرائیلی وزیر پر پابندی عائد کردی

فرانس نے اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانسیسی وزیر خارجہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ آج سے اسرائیلی وزیر ایتمار بن گویر کے فرانس میں داخلے پر پابندی ہوگی۔

انھوں نے مزید کہا کہ فرانسیسی حکومت نے اسرائیلی وزیر پر یہ پابندی اس لیے عائد کی ہے کیوں کہ ایتمار بن گویر نے امدادی بحری بیڑے فلوٹیلا کے زیر حراست رضاکاروں کے ساتھ غیر انسانی اور توہین آمیز سلوک کیا تھا۔

فرانسیسی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ امدادی رضاکاروں کے ساتھ اسرائیلی وزیر قومی سلامتی کا یہ رویہ ناقابل قبول ہے۔ ان رضاکاروں میں سے کچھ فرانسیسی شہری بھی تھے۔

انھوں نے مزید کہا کہ فرانس اور اٹلی نے یورپی یونین سے یہ مطالبہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیر کے خلاف مشترکہ پابندیاں عائد کی جائیں۔

یاد رہے کہ اسرائیلی وزیر قومی سلامتی ایتمار بن گویر نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں غزہ کے لیے امدادی سامان لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے رضاکاروں کو اسرائیلی حراست میں غیر انسانی حالات میں دکھایا گیا۔

اس ویڈیو میں درجنوں رضاکاروں کو گھٹنوں کے بل جھکے، ہاتھ بندھے اور پیشانیاں زمین پر رکھے دیکھا جا سکتا تھا اور اسرائیلی وزیر ان کا مذاق اڑاتے ہوئے اسرائیلی پرچم لہرا رہے تھے۔

اسرائیلی وزیر کی جانب سے جاری کی گئی اس ہتک آمیز میں ویڈیو کے کیپشن پر  “Welcome to Israel” کی عبارت بھی درج تھی جس کے بعد عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا۔

واضح رہے کہ اسرائیلی فوج نے گلوبل صمود فلوٹیلا کے 400 سے زائد رضاکاروں کو بین الاقوامی پانیوں میں روک کر حراست میں لیا تھا اس امدادی بحری بیڑے میں 36 فرانسیسی شہری بھی شامل تھے۔

فرانس نے اگرچہ اس بحری مشن کو غیر مؤثر اقدام قرار دیا تھا لیکن یہ بھی واضح کیا تھا کہ کسی بھی فرانسیسی شہری کو دھمکانے، ہراساں کرنے یا تشدد کا نشانہ بنانے کو برداشت نہیں کیا جا سکتا خاص طور پر اگر یہ کسی سرکاری عہدیدار کی جانب سے ہو۔

اس معاملے پر اسپین نے بھی یورپی یونین سے اسرائیلی وزیر ایتمار بن گویر پر پابندیاں لگانے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ برطانیہ نے متنازع ویڈیو کے بعد اسرائیل کے سینئر سفارتکار کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کروایا تھا۔

خود اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی کہا کہ صمود فلوٹیلا کے رضاکاروں کے ساتھ یہ رویہ اسرائیلی اقدار کے مطابق نہیں تھا تاہم انہوں نے بن گویر کو عہدے سے ہٹانے سے انکار کر دیا تھا۔

یاد رہے کہ “گلوبل صمود فلوٹیلا” ترکیہ سے تقریباً 50 کشتیوں پر مشتمل قافلے کی صورت میں روانہ ہوا تھا جس کا مقصد غزہ کی اسرائیلی ناکہ بندی توڑ کر انسانی امداد پہنچانا تھا۔

غزہ 2007 سے اسرائیلی محاصرے میں ہے اور حالیہ جنگ کے دوران وہاں خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیا کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔