شہدادپور صوبہ سندھ کے ضلع سانگھڑ کا وہ شہر ہے جہاں میرے آباؤاجداد تقسیم ہند کے بعد آ بسے تھے۔ آج بھی ہمارا آبائی گھر اسی شہر میں ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد سے موجودہ وقت تک ہمارے گھر انے نے کئی شکلیں بدلی ہیں مگر اُدھر ہماری جڑوں سے وابستگی کا احساس ہمیشہ ایک سا رہا ہے۔
میں شہر کراچی میں پیدا ہونے اور پلنے والی اس زمین کی بیٹی ہوں مگر شہدادپور کی مٹی سے میرا اُنس بچپن سے رہا ہے، وہاں ہمارا خاندانی مسکن ہونے کے علاوہ شاید اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اُس مٹی میں اس دنیائے فانی سے رخصت ہوچکے میرے خاندان کے سبھی بزرگ مدفون ہیں۔
کراچی ایک میٹرو پولیٹن سٹی ہے، اس کے مقابلے میں شہدادپور ایک بہت چھوٹا اور کم آبادی والا شہر ہے جو کہ ماضی میں شہری معیار پر بھی پورا نہیں اُترتا تھا لیکن زمانہ حال میں اس معاملے میں کافی بہتری آئی ہے۔ کراچی کی زندگی ہمیشہ سے تیز رفتار رہی ہے جب کہ شہدادپور کی فضا میں ٹھہراؤ ہے جس میں اب کہیں جا کر تیزی کی کچھ آمیزش واقع ہوئی ہے۔
زمیں و مکاں اور انسان کے لیے ’’ترقی‘‘ کامیابی کی علامت سمجھی جاتی ہے مگر میری ذاتی رائے ہے کہ ہر شے کو جدیدیت کا لبادہ پہنانا ضروری نہیں ہوتا ہے بعض چیزوں پر اُن کی انفرادیت اور حقیقی پہچان ہی جچتی ہے۔
اپنے دور بچپن میں جب بھی مجھے اسکول سے ایک سے زائد دن کی چھٹی ملتی تھی، میں موقع سے فایدہ اُٹھاتے ہوئے شہدادپور جا پہنچتی تھی۔ بچپن کے زمانے میں شہدادپور جانے کا ایک الگ طرز کا جوش میرے اندر اس لیے بھی ہوتا تھا کہ وہاں صبح ہوتے ہی گھر میں میری دادی (جنھیں خاندان کے سبھی افراد ’’اماں‘‘ اور اردگرد والے ’’بھابھی جان‘‘ کہا کرتے تھے) کے اطراف میں عورتوں اور لڑکیوں کا جھرمٹ جمع ہو جاتا تھا جنھیں اماں اپنے بچپن کے قصے سُنا کر، اُمورِ خانہ داری کے گُر ساتھ اچھی زندگی گزارنے کے اسباق پڑھا کر، تقسیم ہند کی سختیوں کی منظرکشی کرکے اور زندگی نے اماں سے جن قربانیوں کا مطالبہ کیا وہ بیان کرتے ہوئے اُن کی تربیت کیا کرتی تھیں.
یہ سارا منظر میری آنکھوں کو خوب بھاتا تھا۔ میرے بچپن والے شہدادپور میں امن و امان کے حوالے سے بڑے شہروں والے مسئلے بالکل موجود نہیں تھے، تب شہدادپور شوق سے جانے کی میری کئی وجوہات میں سے ایک وجہ وہاں محلے کے بچوں کے ساتھ گلیوں میں بنا کسی خوف و ہراس کے دوڑیں لگانا اور کھیلنا تھا جس کی اجازت اپنی امی کی جانب سے مجھے کراچی میں کبھی نہیں ملی تھی۔
اپنی پیدائش سے پچھلے کچھ سالوں تک اپنے گھر والوں کے ساتھ میں میٹھی عید، بقر عید اور چھوٹے بڑے ہر تہوار شہدادپور میں منایا کرتی تھی، اُدھر تہوار منانے کا جو مزا آتا ہے اُس کا اندازہ بڑے شہروں میں بیٹھ کر کوئی لگا ہی نہیں سکتا ہے۔
شہدادپور کے جس محلے میں ہمارا آبائی گھر ہے اُس کے قریب وسیع دائرے کی شکل میں خالی جگہ موجود تھی جہاں نیم کا ایک درخت لگا ہوا تھا جس کی باقیات آج بھی موجود ہیں، اُسی نیم کے درخت کی مناسبت سے اُس جگہ کو ’’ نیم کے نیچے‘‘ کہا جاتا ہے۔
میرے بچپن میں عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے موقعوں پر نیم کے نیچے میلے کا سماں ہوتا تھا۔آج سے کئی سالوں پہلے شہدادپور کی سڑکوں پر تانگے چلا کرتے تھے، میں نے اپنے بڑوں سے سن رکھا ہے کہ تانگے کی سواری کراچی میں بھی کبھی عام ہوا کرتی تھی مگر وہ میری پیدائش سے قبل کی بات ہے۔
بچپن میں ہم نے شہر ِ شہدادپور میں تانگے دیکھے اور اُن میں خوب سفر بھی کیا ہے بلکہ تانگے کی سواری شہدادپور میں ہمیں حاصل ہونے والی خوشیوں کو دوبالا کر دیتی تھی۔
تانگے شہدادپور کی سڑکوں کی رونق بڑھاتے بڑھاتے یک دم کہیں غائب ہوگئے اور اُن کا متبادل بے ہنگم چنگ چی رکشوں کی صورت میں سامنے آیا جو ہمارے من کو بھائی نہ اُنھیں سواری کے طور قبول کرنے اور تانگے کی جگہ دینے کی ہماری طبیعت نے کبھی اجازت دی۔
شہدادپور میں اچھے معیار کے کئی پرائیویٹ اسکولز بمعہ کالجز اور ایک عدد گورنمنٹ ڈگری کالج موجود ہے جہاں شہدادپور کے نوجوان گریجویشن تک باآسانی تعلیم حاصل کر سکتے ہیں لیکن اُس کے بعد پروفیشنل ڈگری کے حصول کے لیے اُن کو بڑے شہروں کی یونیورسٹیوں کا رُخ کرنا پڑتا ہے۔
زندگی میں آگے بڑھنے اور معاشرے میں اپنا نام بنانے کے لیے آہستہ آہستہ گھونسلوں سے پرندے اُڑ اُڑ کر شہر شہدادپور کے کسی دور میں گنجان آباد علاقوں کو سُونا کر رہے ہیں۔
ہمارا گھر شہدادپور کے جس علاقے میں واقع ہے، وہاں ہر دو گھر کے بعد ایک مکان میں تالا لگا ہوا ہے جس کی حفاظت اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔ شہدادپور کی جو گلیاں میرے بچپن میں صبح سے رات گئے تک ٹھیلوں پر روزمرہ کی چیزیں بیچنے والوں اور جگہ جگہ بنی لوگوں کی ٹولیوں سے سجی اور آباد رہتی تھیں، اب وہ ویرانی کا منظر پیش کر رہی ہیں۔
آج کے شہدادپور میں میرے بچپن والے شہدادپور جیسا کچھ نہیں ہے۔کبھی محبت اور یگانگت سے ساتھ رہنے والے شہدادپور کے شہریوں میں عدم برداشت تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے۔ شہدادپور کے اصل باسی شہر سے کیا چلے گئے اُن کی خلا کو پورا کرنے کے لیے پتا نہیں کہاں کہاں سے کون کون لوگ اُدھر آ کر رہنے لگے ہیں۔
امن و امان کی صورتحال بھی شہدادپور میں بہت خراب ہوچکی ہے، ہر دوسرے دن اخبار میں شہر شہدادپور کے حوالے سے اغواء، قتل، چوری، ڈکیتی اور دیگر جرائم کے رونما ہونے والی دلخراش خبریں پڑھنے کو ملتی ہیں۔