مشرق وسطیٰ اس وقت ایک ایسی خطرناک جنگی کیفیت سے گزر رہا ہے جہاں امریکا، ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پوری دنیا کو اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔
ایران پر امریکی اور اسرائیلی دباؤ، فضائی حملوں، اقتصادی پابندیوں اور خطے میں طاقت کے مظاہرے نے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، تیل کی منڈیوں اور عالمی امن کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ حالیہ مہینوں میں ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست حملوں، میزائل کارروائیوں اور جوابی اقدامات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ یہ تنازع صرف دو یا تین ممالک تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک وسیع علاقائی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
مختلف عالمی تجزیاتی اداروں کے مطابق اس جنگ کے نتیجے میں ہزاروں انسانی جانیں متاثر ہوئیں، معیشتوں کو نقصان پہنچا، تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا اور پورا خطہ غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہوچکا ہے ۔
اس کشیدگی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ مسلم دنیا کے عوام پہلی مرتبہ شدت سے اس حقیقت کو محسوس کر رہے ہیں کہ اگر مسلمان ممالک متحد نہ ہوئے تو بیرونی طاقتیں ایک ایک کرکے انھیں کمزور کرتی رہیں گی۔
ایران کے خلاف کارروائیوں اور خطے میں مسلسل جنگی ماحول نے امت مسلمہ میں ایک نئے شعور کو جنم دیا ہے۔ بہت سے مسلمان اب یہ سمجھنے لگے ہیں کہ سیاسی اختلافات، مسلکی تقسیم اور علاقائی تنازعات سے بالاتر ہو کر ایک مضبوط مسلم پاور بلاک یا مسلم فورس کی تشکیل وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔ یہی احساس آج عالم اسلام میں اتحاد، دفاعی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے مباحث کو مزید تقویت دے رہا ہے۔
تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی کسی مسلم ملک پر بیرونی دباؤ بڑھا، امت مسلمہ کے اندر اتحاد اور بیداری کی ایک نئی لہر پیدا ہوئی۔ ایران کے گرد موجودہ صورتحال نے بھی مسلم دنیا میں اسی قسم کے جذبات کو جنم دیا ہے۔
مختلف مکاتب فکر، سیاسی جماعتیں اور عوامی حلقے اس بات کو محسوس کر رہے ہیں کہ بیرونی قوتوں کی اصل حکمت عملی صرف ایک ملک کو کمزور کرنا نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کو تقسیم اور انتشار کا شکار رکھنا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آج بہت سے مسلمان اپنے داخلی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع تر امت مسلمہ کے مفاد کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہیں۔
امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں سب سے زیادہ نقصان عام عوام کا ہوا ہے۔ ایران میں اہم تنصیبات، شہری علاقوں اور اقتصادی مراکز کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئیں جب کہ اسرائیل بھی مسلسل میزائل حملوں اور دفاعی دباؤ کا سامنا کرتا رہا۔
جنگ نے دونوں اطراف خوف، عدم تحفظ اور معاشی بے یقینی کو جنم دیا۔ عالمی رپورٹس کے مطابق تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا، عالمی منڈیاں متاثر ہوئیں اور آبنائے ہرمز جیسے اہم تجارتی راستوں پر خطرات بڑھ گئے۔
اس وقت عالمی سیاست میں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ امریکا اور اس کے اتحادی مشرق وسطیٰ میں اپنی گرفت برقرار رکھنا چاہتے ہیں جب کہ چین، روس اور دیگر علاقائی قوتیں نئے اتحاد تشکیل دے رہی ہیں۔
ایران اس عالمی کشمکش میں ایک اہم کردار کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اس کی جغرافیائی حیثیت، توانائی کے ذخائر، عسکری صلاحیت اور خطے میں اثر و رسوخ نے اسے عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے اقتصادی پابندیوں، سفارتی تنہائی، میڈیا پروپیگنڈے اور عسکری دھمکیوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
لیکن اس پوری صورتحال کا سب سے حساس پہلو یہ ہے کہ مسلم دنیا کے اندر فرقہ وارانہ تقسیم کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ دشمن قوتیں بخوبی جانتی ہیں کہ اگر مسلمان متحد ہو گئے تو انھیں سیاسی، معاشی اور عسکری سطح پر زیر کرنا آسان نہیں ہوگا۔
اسی لیے باہمی اختلافات کو ہوا دینا، مذہبی منافرت کو بڑھانا اور سوشل میڈیا کے ذریعے اشتعال انگیز بیانیے پھیلانا ایک منظم حکمت عملی کا حصہ محسوس ہوتا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ بعض اوقات مسلمان خود بھی جذبات میں آ کر انھی سازشوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔
پاکستان اس پورے منظرنامے میں ایک انتہائی اہم ملک ہے۔ ایٹمی صلاحیت، جغرافیائی محل وقوع، بڑی مسلم آبادی اور اسلامی دنیا میں اثر و رسوخ کی وجہ سے پاکستان ہمیشہ بیرونی قوتوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب بھی خطے میں کشیدگی بڑھتی ہے تو پاکستان میں دہشت گردی، لسانی تقسیم، سیاسی انتشار اور فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ دشمن کی کوشش ہوتی ہے کہ پاکستان اندرونی مسائل میں الجھ کر اپنے اصل قومی اور دفاعی اہداف سے دور ہو جائے۔
خصوصاً فرقہ وارانہ فسادات ایک ایسا زہر ہیں جو معاشرے کی بنیادیں کھوکھلی کر دیتے ہیں، اگر ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو دشمن سمجھنے لگے تو اس سے بڑا نقصان اور کیا ہو سکتا ہے؟ اسلام نے ہمیشہ اخوت، برداشت اور اتحاد کا درس دیا ہے۔
قرآن مجید مسلمانوں کوحکم دیتا ہے، یعنی(ترجمہ) ’’سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔‘‘ مگر بدقسمتی سے آج بعض عناصر مذہب کے نام پر نفرت کو فروغ دے رہے ہیں، جو نہ صرف اسلام بلکہ قومی سلامتی کے بھی خلاف ہے۔
سوشل میڈیا نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ آج ایک جھوٹی خبر، اشتعال انگیز ویڈیو یا نفرت انگیز بیان چند منٹوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے۔ دشمن قوتیں اسی کمزوری سے فایدہ اٹھا رہی ہیں۔
جعلی اکاؤنٹس، پروپیگنڈا مہمات اور نفرت انگیز مواد کے ذریعے نوجوانوں کے ذہنوں کو متاثر کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں میڈیا، علما، اساتذہ اور والدین کی ذمے داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ نئی نسل کو شعور، تحقیق اور برداشت کا راستہ دکھائیں۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ عالم اسلام کی کمزوری کی ایک بڑی وجہ معاشی اور سائنسی پسماندگی ہے۔ مسلمان ممالک قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود علمی و تکنیکی میدان میں دنیا سے پیچھے ہیں، اگر اسلامی دنیا تعلیم، تحقیق، ٹیکنالوجی اور معیشت پر توجہ دے تو بیرونی دباؤ کا مقابلہ کہیں زیادہ مؤثر انداز میں کیا جا سکتا ہے۔
صرف جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ مضبوط معیشت، جدید تعلیم اور سیاسی استحکام سے ہی حقیقی خودمختاری حاصل ہوتی ہے۔
ایران کے گرد موجودہ کشیدگی نے ایک اور حقیقت بھی واضح کر دی ہے کہ عالمی طاقتیں اپنے مفادات کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہیں۔ انسانی حقوق، جمہوریت اور امن کے نعرے اکثر صرف سیاسی مفادات کے تابع دکھائی دیتے ہیں۔
جب کسی خطے میں وسائل، تیل یا جغرافیائی اہمیت کا معاملہ ہو تو عالمی سیاست کے اصول بدل جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم دنیا کو صرف دوسروں پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے داخلی اتحاد اور خود انحصاری پر توجہ دینا ہوگی۔
پاکستان کے لیے اس صورتحال میں سب سے اہم حکمت عملی اعتدال، قومی اتحاد اور داخلی استحکام ہے۔ ہمیں اپنے سیاسی، مذہبی اور لسانی اختلافات کو دشمن کے ہتھیار بننے سے روکنا ہوگا۔ ریاست، علما، میڈیا اور عوام کو مل کر ایسا ماحول بنانا ہوگا جہاں اختلاف رائے تو موجود ہو مگر نفرت اور تشدد نہ ہو، اگر پاکستان اندرونی طور پر مضبوط ہوگا تو کوئی بیرونی سازش اسے نقصان نہیں پہنچا سکے گی۔
اس کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل کو بھی اپنی ذمے داری سمجھنی ہوگی۔ انھیں جذباتی نعروں، جھوٹی خبروں اور اشتعال انگیز بیانیوں کے بجائے تحقیق، شعور اور دلیل کو اپنانا ہوگا۔ ایک باشعور نوجوان ہی ملک اور امت کا حقیقی سرمایہ ہوتا ہے، اگر نوجوان اتحاد، تعلیم اور مثبت سوچ کو اپنالیں تو دشمن کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہو سکتی۔
آج عالم اسلام جس دوراہے پر کھڑا ہے، وہاں جذبات سے زیادہ حکمت کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ بیرونی طاقتوں کی سب سے بڑی کامیابی مسلمانوں کو آپس میں لڑانا ہے، اگر مسلمان ایک دوسرے کے خلاف نفرت میں مبتلا رہیں گے تو دشمن بغیر جنگ کے ہی کامیاب ہو جائے گا، لیکن اگر امت مسلمہ اتحاد، برداشت اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر آگے بڑھے تو وہ نہ صرف اپنے مسائل حل کر سکتی ہے بلکہ دنیا میں ایک مثبت اور طاقتور کردار بھی ادا کر سکتی ہے۔
وقت کا تقاضا یہی ہے کہ مسلمان اپنے اختلافات کو محدود رکھیں اور مشترکہ خطرات کو پہچانیں۔ ایران کے گرد موجودہ حالات صرف ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے خطے کے امن اور مسلم دنیا کے مستقبل کا معاملہ ہیں، اگر ہم نے تاریخ سے سبق نہ سیکھا تو انتشار، کمزوری اور بیرونی مداخلت کا یہ سلسلہ جاری رہے گا، لیکن اگر ہم اتحاد، بصیرت اور دانشمندی کا راستہ اختیار کریں تو یہی بحران امت مسلمہ کے لیے ایک نئی بیداری، مشترکہ طاقت اور استحکام کا آغاز بھی بن سکتا ہے۔