امریکا 80 برس سے بڑی عالمی طاقت ہے، کوئی ملک ایٹمی طاقت ہونے کی اتنی طاقت نہیں رکھتا تھا، سوائے امریکا کے، جب اس نے ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرائے۔ امریکا بڑی عالمی طاقت اس لیے بنا کیونکہ وہ ایک طاقتور معیشت بھی رکھتا تھا۔
امریکا عالمی طاقت اس لیے بھی بنا کہ دوسری جنگ عظیم میں برطانیہ جو کہ دنیا سب سے بڑی طاقت تھا، وہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ جنگ ضرور جیتا لیکن جرمنی کو شکست دیتے دیتے برطانیہ بذاتِ خود بھاری نقصان کا شکار ہو چکا تھا، اس جنگ میں امریکا کا نقصان آٹے میں نمک برابر تھا۔
دوسری جنگ عظیم میں سوویت یونین بھی امریکا اور برطانیہ کا اتحادی تھا۔ امریکا، یورپ کا سہارا بنا رہا، جب جرمنی میں ہٹلر کو شکست ہوئی اور ایسٹ ایشیا میں جاپان، ساؤتھ کوریا اور تائیوان کا ساتھی رہا۔
ایک طرف کیپٹلسٹ نظام تھا، بیانیہ تھا اور دوسری طرف اشتراکی نظام اور بیانیہ تھا۔ تیسری جنگ عظیم ہوئے بغیر آخرکار امریکا کے مد مقابل کھڑی، اشتراکی طاقت کا خاتمہ ہوا۔ وہ اس لیے کہ وہ اشتراکی طاقت ایٹمی طاقت تو ضرور تھی مگر اس کی معیشت امریکی معیشت کی طرح مضبوط نہ تھی بلکہ سوویت یونین کی معیشت، جاپان، برطانیہ، جرمنی یا فرانس کی معیشت سے بھی کمزور تھی۔
سوویت یونین کی معیشت اتنی بھی مضبوط نہ تھی کہ ایک عالمی طاقت کے خرچے برداشت کر سکے۔ چین، سوویت یونین کا اتحادی نہ رہا کیونکہ چین میں بھی اشتراکی معیشت میں ماؤزتنگ کے مکتبہ فکر کے تحت ترامیم آچکی تھیں۔
چین ڈینگ زیاؤ پینگ کے مکتبہ فکر پر چل پڑا تھا۔ اس طرح عالمی سیاسی نظام میں ایک خلاء پیدا ہوا اور امریکا دنیا کی واحد سپرطاقت کے طور پر ابھرا، یہ نوے کی دہائی تھی۔ اس دہائی میں لبرل معیشت کو فروغ ملا یعنی فری مارکیٹ اور مارکیٹ ہی قیمتوں کا ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کے تحت تعین کرے گی۔ مارکیٹ اس ضمن میں بے رحم ہوتی ہے، اگر نقصان ہوا یا مارکیٹ میں مندی آگئی تو ’’مزدوروں کو نکال دو‘‘ کی پالیسی اڈاپٹ کرنی پڑجاتی ہے۔
دنیا میں گلوبلائزیشن کا جنم ہوا یعنی آزاد تجارت۔ اگر چین کا مزدور سستی چیز بناتا ہے اور امریکا کا مزدور مہنگی تو چین سے خریدو۔ چین، سوویت یونین کا اتحادی نہ تھا لہٰذا چین کے لیے امریکا نے اپنی منڈیاں کھول دیں۔ اس تجارت سے امریکا کے عوام کو بڑا فائدہ پہنچا کہ وہ اپنی مقامی مہنگی چیزیں خریدنے سے آزاد ہو گئے اور اس کا نقصان یہ ہوا کہ امریکا کی صنعتیں بیٹھ گئیں کیونکہ امریکا کی اپنی صنعتیں بھی وہی مصنوعات بناتی تھیں جس کا تقابل چین سے تھا۔
پوری دنیا کی شرح نمو بڑھنے لگی۔ اس بات سے امریکا کو نہ ہی کوئی نقصان تھا اور نہ ہی کوئی فرق پڑا، وہ اس لیے کہ ٹیکنالوجی میں اس کا کوئی ثانی نہ تھا۔ سافٹ ویئر ٹیکنالوجی میں امریکا نے انقلاب برپا کردیا۔ میڈیکل سائنس، کمپیوٹر، سافٹ ویئر اور چِپ وغیرہ اس ٹیکنالوجی میں امریکا سب سے آگے تھا۔ امریکا کی کرنسی یعنی ڈالر دنیا کی کرنسی تھی۔
تیس برس گزر گئے، اس اثناء میں چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن کر ابھرا۔ چین نے یورپین یونین کو پیچھے دھکیل دیا اور ہر وہ چیز جس میں امریکا کو مہارت حاصل تھی، چین اس کے مد مقابل آگیا۔ کل کا سوویت یونین اور آج کا روس، ایٹمی طاقت ہونے کے باعث، تیل اور گیس کے ذخائر ہونے کی وجہ سے پہلے نمبر پر نہ سہی مگر آج تیسری فوجی طاقت بن کر ابھرا ہے۔
یورپ اور امریکا نے سر توڑ کوشش کی کہ وہ روس پر معاشی پابندیاں لگا کر اس کو کمزور بنائیں۔ روس اس بات کو سمجھ رہا تھا کہ امریکا اور چین کے درمیان جو طاقت کا توازن پیدا ہو رہا ہے، وہ اس توازن میں اپنے لیے درمیان کا راستہ نکال سکتا ہے اور روس نے کریمیا جو کہ یوکرین کا حصہ تھا، اس پر قبضہ جما لیا۔
ایران اور روس کے تعلقات استوار ہوئے۔ ان کے درمیان کیسپین سمندر بھی تھا۔ کل تک عراق امریکا کے نشانے پر تھا اور آج ایران ہے۔ ایران پر امریکا کی طرف سے اقتصادی پابندیاں پہلے سے ہی عائد تھیں۔
نائن الیون تک امریکا مسلم دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کر کے ایران کو تنہا کرتا رہا۔ نائن الیون کے واقعے کے بعد دنیا میں مذہبی انتہا پرستی کو بتدریج کم کرنے کی پالیسی بنی۔ سوویت یونین کو افغانستان میں شکست دینے کے لیے مجاہدین کو لانے کی سازش کی گئی۔
اب امریکا عالمی طاقت تو ہے لیکن ماضی کی طرح ایسا نہیں کہ اس کے مدمقابل کوئی نہیں جس کو وہ بغیر جنگ کے ہی شکست دے۔ اب اس کے مد مقابل ہے چین، جو نہ صرف ایک دفاعی طاقت ہے بلکہ دنیا کی مضبوط معاشی طاقت بھی ہے اور نیٹو کمزور ہو چکا ہے۔
امریکا کے ساتھ اب نہ ہی کینیڈا ہے، نہ یورپین یونین ہے۔ برطانیہ، یورپین یونین کو چھوڑ کر سنگین غلطی کرچکا ہے۔ اسرائیل بھی اب خلیج میں بڑی طاقت نہیں رہا، اسے ایران چیلنج کر چکا ہے۔
خلیج میں اسرائیل کے سامنے اب قطر، سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ، نیٹو جیسے اتحاد کی صورت میں موجود ہیں اور دوسری طرف اسرائیل، بحرین، کویت، متحدہ عرب امارات اور ہندوستان ایک دوسرے کے اتحادی ہیں۔
پاکستان اس بات کو خوب سمجھتا ہے کہ خلیج کا وہ حصہ جو پاکستان کے ساتھ ا تحاد میں ہے، ایران سے جڑتا ہے یا پھر ایران جنگ کی صورت میں ان پر حملہ نہیں کرے گا اور نہ ہی وہ امریکا کو اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال کرنے دے گا۔
اسرائیل کا اسٹیٹس اب یورپ کے لیے مہذب ریاست کا نہیں رہا۔ اسپین اور یورپین یونین اسرائیل کے خلاف ایک معقول اور واضح مؤقف رکھتے ہیں۔ دنیا کے تجزیہ نگار یہ سمجھتے ہیں کہ اگر امریکا نے اب ایران پر جنگ مسلط کی تو روس اس جنگ میں اپنا بھرپورکردار ادا کرے گا اور ایران کا ساتھ دے گا۔
ٹرمپ کے دورۂ چین کے بعد جس طرح پیوٹن کا استقبال چین میں کیا گیا ہے، اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ چین بھی ایران کا ساتھ دے گا، اگر امریکا نے زیادہ تیزی دکھائی تو یہ بھی ممکن ہے کہ خلیج میں دوسرے ممالک بھی ایران کی حمایت کریں۔ ایران کی طرح تیل ڈالر میں نہیں بلکہ کسی اور کرنسی میں بیچنا شروع کردیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے بڑی عجلت سے کام لیا۔ ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کیا، بڑا سرمایہ لگایا۔ اسی طرح اسرائیل نے بھی بڑا خرچہ کیا۔ اس جنگ کی تھکاوٹ کے آثار دونوں پر نمایاں ہیں۔ روس اور چین کبھی یہ نہیں چاہیں گے کہ ایران کی ہار ہو۔ چین کی تیل کی رسد کو شدید نقصان پہنچے گا۔
اس منظرنامے میں پاکستان کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ امریکا کی چین کے ساتھ دوستی کی ڈپلومیسی کا دروازہ1972 میں ذوالفقار علی بھٹو نے کھولا تھا اور ہنری کسنجر رات کی تاریکی میں چک لالہ ائیربیس سے بیجنگ پہنچے تھے، وہ ذوالفقار علی بھٹو ہی تھے جنھوں نے پاکستان اور چین کی دوستی کے بیج بوئے تھے، پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا۔
پھر امریکا نے بھٹو کے خلاف اپنی سازشیںرچائیں۔ جنرل ضیاء الحق کے ذریعے ان کو تختہ دار تک پہنچا دیا۔ وہ دوستی جس کی بنیادیں ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی تھیں، پاکستان کو آج اس کا ثمر نصیب ہوا ہے۔
آج پاکستان، امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ ہمارے اسٹرٹیجک مفادات چین سے وابستہ ہیں مگر سفارت کاری کے اس عمل میں ہم ایران اور امریکا کا اعتماد بھی جیت رہے ہیں، اگر بھٹو نے پاکستان کو ایٹمی طاقت نہ بنایا ہوتا تو کیا آج ایسا ہونا ممکن تھا؟
اس خطے میں پاکستان کے اختلافات صرف افغانستان اور ہندوستان سے ہیں۔ سینٹرل ایشیا کے لیے پاکستان کے ذریعے تجارت کے راستے کھلیں گے۔ اب امریکا کا وہ اثر ورسوخ نہیں رہا کہ وہ پاکستان کو ایران کے ساتھ تجارت کرنے سے روک سکے، مگر ایران کو بھی دنیا میں اپنا امیج درست کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ کوئی انتہاپرست ریاست نہیں ہے۔
یہ جنگ اس لیے کی گئی تھی کہ امریکا دنیا کو یہ باور کرا سکے کہ وہ واحد سپر طاقت ہے، چونکہ ایران کو شکست نہ ہو سکی لہٰذا امریکا کا یہ تاثر ختم ہو چکا ہے۔