ساٹھ ستر برس کی آبلہ پائی کے بعد مسافر نے پلٹ کر دیکھا، اس کی بنائی ہوئی دنیا آب و تاب سے چمک رہی تھی۔ اطمینان کی مسکراتی ہوئی کرن اس کی کشادہ پیشانی پر جگ مگائی اور وہ اس مسکراہٹ کے ساتھ اپنے راستے پر پھر رواں ہو گیا۔ اس مسافر کا نام ہے، الطاف حسن قریشی۔
لمبی لڑائی لڑنے اور بے پناہ محبت سمیٹنے والے سپاہی کی کیفیت دم رخصت کیا ہوتی ہے؟ میں اس سوال کے جوار بھاٹے میں ڈوبتا ابھرتا قریشی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہ نسبتا اونچے تکیے کے ساتھ ٹیک لگائے نیم دراز تھے۔ اتنے میں چچا جان السلام علیکم کہہ کر برادرم طیب اعجاز قریشی بھی محفل میں شریک ہو گئے۔ علامہ عبد الستار عاصم گل دستہ میز پر ٹکانے کے بعد اپنی نشست پر پر سکون ہو گئے تو میں نے اپنا سوال قریشی صاحب کی خدمت میں پیش کیا۔ قریشی صاحب نے میری بات سنی، مسکرائے اور اپنی عادت کے مطابق لفظ دھیمے لہجے میں کہا کہ ہم نے ابھی کیا ہی کیا ہے، کام تو ابھی باقی ہے۔ الطاف حسن قریشی کون تھے اور کیا تھے، یہ سمجھنے کے لیے ان کا یہی جملہ ہمارا مدد گار بن سکتا ہے۔
الطاف حسن قریشی کے کام بلکہ خدمت کو سمجھنے کے لیے پاکستان کے ابتدائی زمانے کو سمجھنا ضروری ہے۔ ایک نئی مملکت ظہور میں آئی تو اس کے ساتھ ہی بہت سی تمنائیں بھی انگڑائی لے کر جوان ہو گئیں۔ اس نوزائیدہ ملک میں بہت سارے طبقات تھے جو اسے اپنی خواہشات کے تابع رکھنے کے خواہش مند تھے۔ ان میں کچھ لوگ مغربی تہذیب کے پروردہ تھے اور کچھ سرخ تہذیب کے خواب دیکھتے تھے۔ ان میں ایک طبقہ اور بھی تھا جو چاہتا تھا کہ یہ ملک جس فطری خواہش اور وعدے کے ساتھ وجود میں آیا ہے، اس ملک کو وہی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ الطاف حسن قریشی بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ قریشی برادران نے یہ منظر کھلی آنکھ سے دیکھا اور فیصلہ کیا کہ انھیں بھی اس کش مکش میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ ' اردو ڈائجسٹ' اس عزم کی عملی شکل تھی۔
قریشی برادران اور خاص طور پر الطاف حسن قریشی کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ' اردو ڈائجسٹ' کو پڑھا اور سمجھا جائے۔ اس ماہ نامے کا ساتھ ستر برس کا سفر بتاتا ہے کہ یہ پرچہ نہ محض کاروبار تھا اور نہ محض صحافت، یہ ایک تحریک تھی، علمی اور تہذیبی تحریک۔
مشرقی تہذیب کے احیا کے تعلق سے ماضی پرستی کا تصور ابھرتا ہے لیکن قریشی برادران اور ان کی صحافت اپنی تہذیبی بنیادی سے منسلک رہتے ہوئے جدت اور ترقی کی علم بردار تھی۔ اس پرچے نے زبان و ادب پر توجہ دی۔ جدید رجحانات متعارف کرائے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے سفر کا حال بیان کیا اور اس کے ساتھ ہی قوم کے سیاسی روز و شب پر بھی نگاہ رکھی۔ یہ تحریک صرف اردو ڈائجسٹ تک محدود نہ رہی۔ یہ سفر ماہ نامے سے شروع ہو کر ہفت روزے تک پہنچا پھر روزنامے میں منقلب ہو گیا یعنی ماہ نامہ اردو ڈائجسٹ کے بعد ہفت روزہ زندگی اور ہفت روزہ زندگی کے بعد رونامہ جسارت ملتان۔
قریشی صاحب لاہور سے نکل کر ملتان کیوں پہنچے؟ اس سوال پر غور ضرور کرنا چاہیے۔ پاکستان کے دو صحافتی مرکز تھے، لاہور اور کراچی۔ کراچی سے شائع ہونے والے اخبار ملک کے دوسرے حصوں میں دوسرے یا تیسرے روز پہنچا کرتے۔ یہی معاملہ لاہور کے اخبارات کا تھا، قریشی نے سوچا کہ کیوں نہ صحافتی مرکز ملک کے عین وسط میں قائم کیا جائے تاکہ اخبار بہت کم وقت میں سارے ملک میں کم و بیش ایک وقت میں پہنچ جائے۔ یہ فیصلہ قریشی صاحب کے ذہن رسا کو سمجھنے میں مدد کرتا ہے۔
قریشی صاحب کو دائیں بازو کا ترجمان سمجھا گیا۔ یہ درست ہے۔ ان کا رجحان دائیں جانب تھا اور اس وجہ سے وہ فطری طور پر جماعت اسلامی کے قریب تھے لیکن اگر ان کی صحافت کے سیاسی اثرات اس دائرے سے بڑھ کر تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ قریشی کی صحافت نے پاکستان کوسیاسی قیادت فراہم کی ہے۔ اس میں پہلا نام کسی اور کا نہیں ذوالفقار علی بھٹو کا ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر متعارف تھے۔ وہ ایوب خان کے وزیر خارجہ بن چکے تھے لیکن کیا وہ ایوب خان کی جگہ بھی لے سکتے ہیں یعنی متبادل قیادت بھی بن سکتے ہیں؟ اس سوال کا جواب وہ انٹرویو فراہم کرتا ہے جو قریشی صاحب نے بھٹو صاحب سے کیا تھا۔ اس انٹرویو کا ماجرا دل چسپ ہے۔ معاہدہ تاشقند کے بعد قریشی صاحب نے بھٹو صاحب سے انٹرویو کیا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب بھٹو صاحب کی ایوب خان سے کھٹ پٹ شروع ہو چکی تھی۔ انھوں نے اسی ذہنی کیفیت میں انٹرویو میں یہ کہہ دیا کہ بھارت نے اگر کوئی گڑبڑ کی تو ہم اسے چھٹی کا دودھ یاد دلا دیں گے۔ یہ انٹرویو اردو ڈائجسٹ میں شائع ہوا تو یوں سمجھئے کہ آگ لگ گئی۔ Pakistan Time اس وقت ملک کا معتبر ترین انگریزی اخبار تھا۔ اس نے یہ باتیں بینر ہیڈ لائین کے طور پر شائع کیں تو طوفان آ گیا۔ یوں قوم نے یہ جانا کہ ایوب خان کا متبادل کون ہو سکتا ہے۔
قریشی صاحب نے نے قوم کو ایک راہ نما تو دے دیا لیکن اس کے ساتھ ہی ایک حادثہ بھی ہو گیا۔ ایوب خان نے انٹرویو پڑھا تو وہ بھٹو صاحب پر خفا ہوئے کہ یہ تم نے کیا کہہ دیا، تردید کرو۔ بھٹو صاحب نے قریشی صاحب سے کہا کہ وہ تردید شائع کریں۔ قریشی صاحب نے کہا تردید تو اس بات کی ہوتی اگر یہ بات میں نے آپ کے منھ میں ڈالی ہوتی ہے جو بات آپ نے کہی ہے، اس کی تردید میں کیوں کروں؟ اس پر ایوب خان نے بھٹو صاحب برطرف کر دیا، یوں وہ متبادل سیاسی قیادت کے طور پر عوام میں مقبول ہو گئے۔
بھٹو صاحب مقبول تو ہو گئے لیکن وہ قریشی صاحب کو کبھی معاف نہ کر سکے لہٰذا جب وہ اقتدار میں آئے تو قریشی کو اپنے بڑے بھائی اعجاز حسن قریشی اور ساتھی مجیب الرحمن شامی سمیت جیل کی راہ دیکھنی پڑی۔ یہ سلسلہ ان کے پورے عرصہ اقتدار میں جاری رہا۔ قریشی صاحب کئی برس جیل میں رہے۔ ہفت روزہ اور ماہ نامہ بند کرایا اور پریس بھی بار بار ضبط کرایا۔ آزمائش کے ان زمانوں میں بھی قریشی صاحب کی ہمت اور انفرادیت سامنے آئی ۔ ان کا ایک پرچہ بند ہوتا تو وہ کسی دوسرے نام سے پرچہ شائع کر دیتے۔ نئے نام سے پر ہے ضرور شائع ہوتا لیکن سرورق پر زندگی یا اردو ڈائجسٹ کا نام بھی موجود ہوتا جیسے زندگی، پابندی اٹھنے کے بعد شائع ہو گا (اشتہار)۔ قریشی صاحب ہتھیار نہیں ڈالتے تھے، اپنی تخلیقی صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے برانڈ کو نگاہوں سے اوجھل نہیں ہونے دیتے تھے۔
قریشی صاحب نے ہمیں صرف بھٹو صاحب کی نہیں دیے۔ ایک اور لیڈر بھی دیا۔ یہ اصغر خان تھے۔ بھٹو صاحب کے زمانے میں یہ سوال پیدا ہوا کہ ان کا متبادل کون ہو؟ یہ سوال اس لیے پیدا ہوا کہ بھٹو صاحب کے انداز حکومت سے قوم کے ایک بڑے طبقے میں تحفظات پیدا ہو گئے تھے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ احساس بھی موجود تھا کہ ان کے مقابلے میں ان کے پائے کا کوئی لیڈر موجود نہیں ہے۔ عین اسی زمانے میں قریشی صاحب کی نظر اصغر خان پر پڑی۔ اصغر خان ایک بہادر اور نیک نام شخص تھے جو ریٹائرمنٹ کے بعد سیاست کا رخ اگرچہ کر چکے تھے لیکن انھیں ابھی تک کوئی خاص اہمیت نہیں مل سکی تھی۔ قریشی صاحب جیسے ہی ان کا انٹرویو کیا، بھٹو صاحب کی طرح اصغر خان کی قسمت کا ستارہ بھی روشن ہو گیا اور وہ بھٹو صاحب کے متبادل کے طور پر نمایاں ہو گئے۔
قریشی صاحب نے صرف پاکستان کے تہذیبی اور سیاسی منظر نامے ہی کو متاثر نہیں کیا بلکہ دائیں بازو کی صحافت کو بھی پیشہ وارانہ حیثیت عطا کی۔ قریشی صاحب کی صحافت سے قبل دائیں بازو کی نظریاتی صحافت سیاسی جماعتوں کے زیر اثر تھی اور پیش تر لکھنے والوں کی تحریروں پر سیاسی پروپیگنڈے کا رنگ دیکھا جا سکتا تھا۔ قریشی نے دائیں بازو کا مؤقف رکھتے ہوئے بھی صحافت کو آزادانہ اور غیر جانب دارانہ آہنگ دیا۔ ان کی خدمت ایسی ہے جس پر پی ایچ ڈی کی سطح کا کام ہونا چاہیے۔ انھوں نے صرف یہی نہیں کیا بلکہ دائیں بازو کے صحافی کو اعتماد بھی دیا جس سے قومی صحافت کے منظر نامے پر رنگا رنگی پیدا ہو گئی۔
ان کی زندگی کے آخر کے آتے آتے صحافت کا انداز بدل چکا تھا اور قویٰ بھی پرانے زمانے کی مہم جو صحافت کے لیے سازگار نہ تھے لیکن اس کے باوجود انھوں قلم رکھا نہیں بلکہ کالم نگاری شروع کر دی۔ ان کی کالم نگاری بھی ان کے پرچوں کی طرح ایک مقصد کے تحت تھی۔ انھوں تھوڑے سے پرسوں میں ملک کی متبادل تاریخ لکھ ڈالی۔ ان کے کالموں سے کئی کتابیں وجود میں آئیں جن کی وجہ ہماری قومی تاریخ کے متبادل بیانیہ میسر آیا۔ اس ضمن میں ' میں نے آئین بنتے دیکھا' نامی میرے دل کے سب سے زیادہ قریب ہے۔ یہ محض ایک کتاب نہ تھی کتابی سلسلہ تھا جس کی ابھی تک پہلی جلد شائع ہو سکی۔ پہلی جلد میں انھوں نے قیام پاکستان سے پہلے کا ماجرا بیان کیا ہے۔ یہ کتاب اس تمام پروپیگنڈے کا حقائق اور تحقیق کی روشنی میں جواب ہے جو آج بھی پاکستان کے وجود پر کیا جاتا ہے۔
قریشی صاحب قلم کے دھنی تھے۔ تاریخ انھیں ایک ایسے صاحب قلم کے طور پر یاد رکھے گی جس نے زندگی کی آخری سانس تک قلم ہاتھ نہیں رکھا اور وہ جنوں کی حکایات قلم بند کرتا رہا لیکن کسی نفسی دیکھئے کہ اتنی خدمت کرنے کے باوجود وہ سمجھتے تھے کہ میں نے ابھی کیا ہی کیا ہے؟