ٹرمپ اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئے دباؤ ڈال رہا ہے، وزیراعظم مسترد کریں، حافظ نعیم

ابراہیمی معاہدہ درحقیقت سرنڈر کی دستاویز ہے، غاصبانہ فیصلے کو کسی صورت تسلیم نہیں کیا جائے گا، امیر جماعت اسلامی


ویب ڈیسک May 26, 2026
فوٹو: فائل

جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسلمان ممالک کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی تجویز پر ابراہیمی معاہدے کو ہتھیار ڈالنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف واضح طور پر ٹرمپ کا ناجائز مطالبہ مسترد کرنے کا اعلان کریں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان  نے کہا کہ ابراہیمی معاہدہ درحقیقت سرنڈر کی دستاویز ہے، غاصبانہ فیصلے کو کسی صورت تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے والا امریکی صدر ایک بار پھر مسلم ممالک کے بازو مروڑ رہا ہے، امریکی صدر نیتن یاہو سے مل کر غزہ کو تباہ کرنے کے بعد اب مسلمان ممالک پر ابراہیمی معاہدے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستانی قوم کسی صورت بھی بیت المقدس پر اسرائیلی قبضے کو جائز اور قانونی شکل دینے کے غاصبانہ فیصلے کو تسلیم نہیں کرے گی، فلسطین پورے کا پورا فلسطینیوں کا ہے اور بیت المقدس اس کا دارالحکومت ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے، یہی قائداعظم کا مؤقف تھا اور یہی ہر پاکستانی کا مؤقف ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف واضح طور پر ٹرمپ کے ناجائز مطالبے کو مسترد کرنے کا اعلان کریں۔