عیدالاضحیٰ: قربانی، ایثار اور ہمارے معاشرتی رویے

عیدالاضحیٰ ہمیں صرف ایک مذہبی فریضہ ادا کرنے کا نہیں بلکہ بہتر انسان بننے کا پیغام دیتی ہے


ویب ڈیسک May 27, 2026

عیدالاضحیٰ مسلمانوں کے لیے صرف ایک مذہبی تہوار نہیں بلکہ قربانی، محبت، ایثار اور انسانیت کا ایک عظیم پیغام بھی ہے۔ یہ دن ہمیں حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی بے مثال فرمانبرداری اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے مکمل سرِ تسلیم خم کرنے کی یاد دلاتا ہے۔

ہر سال جب ذوالحج کا مہینہ آتا ہے تو دنیا بھر کے مسلمان اس عظیم سنت کو ادا کرنے کی تیاریوں میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ گھروں، بازاروں اور گلیوں میں ایک خاص رونق دکھائی دیتی ہے، بچے جانوروں کے ساتھ مانوس ہوجاتے ہیں اور ہر طرف عید کی خوشبو محسوس ہونے لگتی ہے۔

عیدالاضحیٰ کا اصل پیغام صرف جانور ذبح کرنا نہیں بلکہ اپنی خواہشات، انا، لالچ اور منفی رویوں کو بھی قربان کرنا ہے۔ اگر انسان صرف رسم پوری کرلے لیکن اس کے اندر ایثار، ہمدردی اور عاجزی پیدا نہ ہو تو قربانی کی روح ادھوری رہ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے قربانی کے ساتھ غریبوں، رشتہ داروں اور ضرورت مندوں کا خیال رکھنے کی بھی تلقین کی ہے تاکہ خوشیاں صرف چند گھروں تک محدود نہ رہیں بلکہ پورا معاشرہ اس میں شریک ہو۔

ہمارے معاشرے میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر کئی خوبصورت روایات بھی دیکھنے میں آتی ہیں۔ لوگ ایک دوسرے کے گھروں میں گوشت تقسیم کرتے ہیں، عزیز و اقارب سے ملاقاتیں ہوتی ہیں اور خاندان اکٹھے ہوکر وقت گزارتے ہیں۔ یہ دن محبتیں بڑھانے اور رشتوں کو مضبوط کرنے کا بہترین موقع ہوتا ہے۔ خاص طور پر بچے اس عید کا بے حد انتظار کرتے ہیں کیونکہ ان کے لیے یہ صرف تہوار نہیں بلکہ خوشیوں بھرا ایک یادگار تجربہ ہوتا ہے۔

تاہم وقت کے ساتھ ساتھ کچھ معاشرتی رویے ایسے بھی سامنے آئے ہیں جنہوں نے اس خوبصورت تہوار کی اصل روح کو متاثر کیا ہے۔ آج کل قربانی بعض اوقات دکھاوے اور مقابلے کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے۔ کہیں جانور کی قیمت فخر سے بتائی جاتی ہے تو کہیں سوشل میڈیا پر نمائش کا رجحان نظر آتا ہے۔ حالانکہ اسلام سادگی، اخلاص اور نیت کی پاکیزگی کا درس دیتا ہے۔ قربانی کا مقصد دوسروں پر اپنی حیثیت جتانا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا ہے۔

اسی طرح صفائی کے معاملے میں بھی اکثر لاپروائی دیکھنے میں آتی ہے۔ جانوروں کی آلائشیں جگہ جگہ پھینک دینا، گلیوں میں گندگی چھوڑ دینا اور ماحول کو آلودہ کرنا نہ صرف غیر ذمے دارانہ عمل ہے بلکہ صحت کے لیے بھی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ عیدالاضحیٰ ہمیں صفائی، نظم و ضبط اور اجتماعی ذمہ داری کا بھی سبق دیتی ہے۔ اگر ہر فرد اپنے حصے کی صفائی کا خیال رکھے تو معاشرہ زیادہ خوبصورت اور صحت مند بن سکتا ہے۔

عید کے دنوں میں ایک اور اہم پہلو غریب اور سفید پوش طبقے کا خیال رکھنا ہے۔ ہمارے اردگرد بہت سے ایسے لوگ ہوتے ہیں جو مہنگائی اور مشکلات کے باعث قربانی نہیں کرسکتے۔ اگر ہم اپنے حصے کی خوشیوں میں انہیں شامل کرلیں، خاموشی سے مدد کریں اور عزتِ نفس کا خیال رکھتے ہوئے گوشت تقسیم کریں تو یہی عید کی اصل خوبصورتی ہے۔

عیدالاضحیٰ ہمیں صرف ایک مذہبی فریضہ ادا کرنے کا نہیں بلکہ بہتر انسان بننے کا پیغام دیتی ہے۔ یہ عید ہمیں سکھاتی ہے کہ اگر معاشرے میں محبت، برداشت، صفائی، احساس اور اخلاص پیدا ہوجائے تو زندگی واقعی خوبصورت بن سکتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم قربانی کی ظاہری رسم کے ساتھ اس کے باطنی پیغام کو بھی اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، کیونکہ اصل قربانی صرف جانور کی نہیں بلکہ اپنے اندر موجود برائیوں کی بھی ہوتی ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

تحریر کردہ
ویب ڈیسک
مصنف کی آراء اور قارئین کے تبصرے ضروری نہیں کہ ایکسپریس ٹریبیون کے خیالات اور پالیسیوں کی نمائندگی کریں۔