عالمی توانائی بحران اور ایران جنگ کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے بعد برطانیہ کے توانائی ریگولیٹری ادارے ’’آف جیم‘‘ نے گھریلو صارفین کے لیے توانائی کی قیمتوں کی حد میں 13 فیصد اضافے کا اعلان کر دیا۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق جولائی کے آغاز سے ستمبر کے آخر تک ہوگا۔
آف جیم کے چیف ایگزیکٹو ٹِم جاروس نے کہا کہ توانائی کی قیمتوں میں یہ اضافہ عالمی مارکیٹ میں جاری غیر یقینی صورتحال اور اتار چڑھاؤ کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران جنگ کے باعث گیس کی عالمی تھوک قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس کے اثرات براہِ راست گھریلو توانائی بلوں پر پڑ رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بجلی اور گیس استعمال کرنے والے اوسط برطانوی گھرانے کے لیے سالانہ توانائی قیمت کی نئی حد 1,862 پاؤنڈ مقرر کی گئی ہے، جو اپریل تا جون کے لیے مقررہ سابقہ حد 1,641 پاؤنڈ کے مقابلے میں تقریباً 221 پاؤنڈ زیادہ ہے۔