معاہدے کے جو نکات ایران منظرعام پر لا رہا ہے وہ سفید جھوٹ ہیں؛ وائٹ ہاؤس

مفاہمتی یادداشت میں امریکی افواج کے انخلا اور ایرانی بحری ناکہ بندی ختم ہونے کرنے پر اتفاق کیا تھا، ایرانی میڈیا


ویب ڈیسک May 27, 2026
کوئی معاہدہ امریکی مفادات کو مدنظر رکھ کر کیا جائے گا؛ ترجمان وائٹ ہاؤس

وائٹ ہاؤس نے ایران کے مجوزہ مفاہمتی یادداشت کے نکات سے متعلق دعوؤں کو مکمل جھوٹ قرار دے دیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس نے ایرانی سرکاری میڈیا کی جانب سے جاری کیے گئے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ایک نئے میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ (MOU) کا مسودہ سامنے آیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ریپڈ رسپانس اکاؤنٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان جاری بیان میں کہا ہے کہ یہ مکمل طور پر من گھڑت اور جعلی ہے۔ عوام کو ایسی خبروں پر یقین نہیں کرنا چاہیے۔

یاد رہے کہ ایرانی سرکاری میڈیا کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکا ایران جنگ بندی معاہدے کی مفاہمتی یادداشت کے ابتدائی نکات سامنے ہیں جن میں امریکی فوجوں کو ایران کے قریبی علاقوں سے انخلا اور ایرانی بحری ناکہ بندی ختم کرنا ہوگی۔

تاہم امریکی حکام نے ان دعوؤں کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات جاری ہیں لیکن کسی بھی معاہدے کی بنیاد امریکی شرائط اور ریڈ لائنز پر ہوگی۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کے بقول صدر ٹرمپ واضح کرچکے ہیں کہ امریکا صرف ایسا معاہدہ کرے گا جو امریکی عوام کے مفاد میں ہو اور جس میں ایران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے امکان کو مکمل طور پر روکا جاسکے۔

خیال رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی کے لیے مذاکرات جاری ہیں تاکہ آبنائے ہرمز کی بندش ختم ہونے اور جنگ بندی معاہدے پر اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔