اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے غزہ میں فوجی کارروائیاں مزید بڑھاتے ہوئے اسرائیلی فوج کو علاقے کے 70 فیصد حصے پر قبضہ کرنے کی ہدایت دے دی ہے۔
یہ بیان انہوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم ایک غیر قانونی اسرائیلی بستی میں پریس کانفرنس کے دوران دیا۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج پہلے ہی غزہ کے تقریباً 50 فیصد علاقے پر کنٹرول حاصل کر چکی تھی، بعد ازاں یہ دائرہ 60 فیصد تک بڑھایا گیا، اور اب انہوں نے فوج کو ہدایت دی ہے کہ غزہ کے 70 فیصد حصے پر قبضہ یقینی بنایا جائے۔
اسرائیلی وزیراعظم کے اس بیان کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب غزہ کی بڑی آبادی پہلے ہی ساحلی پٹی کے ایک محدود حصے تک محصور ہو چکی ہے جہاں خوراک، پانی اور طبی سہولیات کی شدید قلت پائی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اکتوبر 2023 سے جاری جنگ کے دوران غزہ کا بڑا حصہ تباہ ہو چکا ہے جبکہ اسرائیلی فوج اس وقت بھی علاقے کے تقریباً 64 فیصد حصے پر مؤثر کنٹرول رکھتی ہے۔
یاد رہے کہ امریکا کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے تحت اسرائیلی فوج کو ایک مخصوص حد، جسے یلو لائن کہا جاتا ہے، تک واپس جانا تھا، تاہم تازہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل اپنی فوجی پیش قدمی جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔