’دھرندھر‘ کا پروڈکشن ڈیزائنر جنسی ہراسانی کیس میں مجرم قرار

نئی دہلی سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے سینی ایس جوہرے پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے تھے


ویب ڈیسک May 30, 2026

بالی ووڈ فلم ’’دھرندھر‘‘ کے پروڈکشن ڈیزائنر سینی ایس جوہرے کے خلاف جنسی ہراسانی کے مقدمے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ تحقیقاتی کمیٹی نے انہیں الزامات کے سلسلے میں قصوروار قرار دے دیا ہے، جس کے بعد فلمی صنعت میں ان کے خلاف عملی اقدامات بھی شروع کردیے گئے ہیں اور متعدد منصوبوں سے ان کا نام واپس لیا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق نئی دہلی سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے سینی ایس جوہرے پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے تھے۔ شکایت میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ انہیں چندی گڑھ کے ایک ہوٹل کے کمرے میں بلایا گیا، جہاں مبینہ طور پر جنسی ہراسانی، جسمانی تشدد اور زبردستی روک کر رکھنے جیسے واقعات پیش آئے۔ خاتون نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ان کے مشروب میں نشہ آور شے شامل کی گئی تھی، جس کے باعث ان کی طبیعت بگڑ گئی۔

متاثرہ خاتون نے 20 اپریل کو چندی گڑھ کے سیکٹر 17 پولیس اسٹیشن میں باضابطہ شکایت درج کروائی، جس کے بعد ابتدائی تحقیقات کی بنیاد پر مقدمہ قائم کیا گیا۔ پولیس کارروائی کے ساتھ ساتھ خاتون نے فلم ساز ادیتیا دھر اور پروڈیوسر لوکیش دھر کی ملکیت میں قائم پروڈکشن ہاؤس بی 62 اسٹوڈیوز میں بھی شکایت جمع کرائی تھی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پروڈکشن کمپنی کو یہ شکایت اکتوبر 2025 میں موصول ہوئی، جس کے بعد انسدادِ جنسی ہراسانی کمیٹی نے معاملے کی تفصیلی چھان بین شروع کی۔ تقریباً چھ ماہ تک جاری رہنے والی تحقیقات مارچ کے اختتام یا اپریل 2026 میں مکمل ہوئیں، جن کے نتیجے میں سینی ایس جوہرے کو دو مختلف الزامات میں ذمے دار قرار دیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹی کی حتمی رپورٹ شکایت کنندہ کو بھی فراہم کر دی گئی ہے۔ دوسری جانب ایف آئی آر کے اندراج کے بعد چندی گڑھ پولیس نے سینی جوہرے کو گرفتار کیا تھا، تاہم بعد میں انہیں ضلعی عدالت سے ضمانت مل گئی۔

معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد فلمی حلقوں میں بھی اس کے اثرات دکھائی دینے لگے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق مختلف پروجیکٹس سے ان کے کریڈٹس ہٹانے کا عمل جاری ہے۔ فلم ’’دھرندھر‘‘ کے او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر جاری ہونے والے ابتدائی ورژن میں ان کا نام شامل تھا، تاہم بعد میں ریلیز کیے گئے ورژن سے ان کا کریڈٹ حذف کر دیا گیا۔

ادھر معروف پروڈکشن ہاؤس یش راج فلمز نے بھی اپنی آنے والی ویب سیریز ’’اکا‘‘ سے سینی ایس جوہرے کا نام ہٹانے کا فیصلہ کر لیا ہے، جسے فلمی صنعت میں اس کیس کے بعد سامنے آنے والا ایک بڑا ردعمل قرار دیا جا رہا ہے۔