پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے تھیلیسیما میں مبتلا بچی کے والد کو اپنی بچی کی تیمارداری کے لیے رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
فاضل بنچ نے پاکستانی خاتون کی جانب سے اپنے گرفتار افغان شوہر کی گرفتاری کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی اس موقع پر درخواست گزارہ کی وکیل مس ثناء گلزار نے عدالت کو بتایا کہ اسکی موکلہ مسماۃ شبینہ نےایک افغان شہری گل محمد سے شادی کی ہے اور ان کی دو بیٹیاں بھی ہیں۔ تاہم کچھ عرصہ پہلے پشاور پولیس کی طرف سے گل محمد کو چودہ فارن ایکٹ کے تحت قانونی اسناد نہ رکھنے کے جرم میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔
وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار کے شوہر گھر کے واحد کفیل ہیں جبکہ ان کی ایک کمسن بیٹی خون کی بیماری تھیلیسیما کی مرض میں مبتلا ہیں اور گھر میں اور کوئی مرد بھی نہیں جسکی وجہ سے اسکی بیٹی کی صحت پر انتہائی برے اثرات مرتب ہورہے ہیں ۔
سماعت کے دوران مسماۃ شبینہ اپنے بیمار بیٹی کے ہمراہ عدالت میں موجود تھی۔ انہوں نےعدالت کو بتایا کہ شوہر کی گرفتاری کے بعد گھر میں اور کوئی مرد نہیں جس کی وجہ سے ان کی بیمار بیٹی کے صحت روز بروز خراب ہوتی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چونکہ خون کی بیماری کے باعث ان کی بیٹی کو مسلسل خون اور نگہداش کی ضرورت ہے اور انہیں بار بار معائنہ کےلیے ہسپتال لے جانا پڑتا ہے مگر ان کے اور کوئی مالی وسائل بھی نہیں جسکی وجہ سے انہیں کئی قسم کے مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی اگر ان کو شوہر کو رہا نہیں کیا گیا تو وہ بیٹی سے محروم ہوجائینگے۔
چیف جسٹس نے دلائل سننے کے بعد م گل محمد کے فوری رہائی کے احکامات جاری کردیئے تا کہ وہ اپنی بیمار بچی کا علاج کر سکیں۔