ایف آئی اے کے ہاتھوں ایس ایس پی سانگھڑ آفس کے جونیئر کلرک اور دیگر افراد کی گرفتاری کے معاملے میں مرکزی ملزم غلام سرور جعفری اور دیگر ملزمان کے خلاف اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت بھی مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
ایف آئی اے اینٹی منی لانڈرنگ سرکل سکھر میں درج نئے مقدمے کے بعد ملزمان کے خلاف مقدمات کی تعداد 3 ہو گئی ہے۔ اے ایم ایل ایکٹ کے تحت مقدمہ ملزمان سے برآمد ہونے والی ملکی و غیرملکی کرنسی کی بنیاد پر درج کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق برآمد شدہ کرنسی کو مختلف جرائم سے حاصل کردہ پراپرٹی قرار دیتے ہوئے مقدمے کا حصہ بنایا گیا ہے جبکہ جرائم سے حاصل شدہ رقم کے ذریعے جائیدادوں کی ممکنہ خریداری سے متعلق تحقیقات بھی جاری ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اینٹی منی لانڈرنگ کا مقدمہ ایف آئی اے شہید بینظیر آباد میں درج ایف آئی آر کے تسلسل میں درج کیا گیا۔ اس سے قبل حوالہ ہنڈی، فارن ایکسچینج قوانین کی خلاف ورزی اور بھارتی اسمگل شدہ گٹکا کی خرید و فروخت کے الزام میں بھی مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
پہلے مقدمے میں غلام سرور جعفری، پولیس اہلکار ممتاز علی، رانا غلام محی الدین بابر، جمیل احمد، شوقین اور عمران علی کو نامزد کیا گیا تھا۔ ملزمان کے قبضے سے ملکی و غیرملکی کرنسی، بھاری مقدار میں گٹکا، قیمتی گاڑیاں اور متعدد موبائل فونز بھی برآمد کیے گئے تھے۔ ذرائع کے مطابق مزید تحقیقات جاری ہیں۔