پاکستانیوں کی مبینہ بے دخلی کا معاملہ، اماراتی حلقوں نے فرقہ وارانہ الزامات مسترد کر دیے

متحدہ عرب امارات میں مذہب یا فرقے کی بنیاد پر قانونی کارروائی کا تصور ہی موجود نہیں، اماراتی مبصرین


ویب ڈیسک May 30, 2026

دبئی میں پاکستانی شہریوں کی مبینہ بے دخلیوں سے متعلق سامنے آنے والی رپورٹس کے بعد متحدہ عرب امارات کے حکومتی حلقوں سے قریبی تعلق رکھنے والے بعض اماراتی مبصرین اور تجزیہ کاروں نے ان دعوؤں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں کسی بھی شخص کے خلاف کارروائی رنگ، نسل، مذہب یا مسلک کی بنیاد پر نہیں بلکہ صرف قانون اور سیکیورٹی ضوابط کے مطابق کی جاتی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی ایک رپورٹ کے بعد سوشل میڈیا پر اس معاملے پر مختلف آراء اور تبصرے سامنے آئے، تاہم اماراتی حکومت کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ البتہ اماراتی امور پر نظر رکھنے والے مبصرین نے رپورٹ میں بیان کیے گئے فرقہ وارانہ پہلو کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات میں قانون کا اطلاق تمام افراد پر یکساں انداز میں کیا جاتا ہے اور کسی بھی کارروائی کا تعلق قانونی تقاضوں سے ہوتا ہے۔

ان حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی وزارت داخلہ بھی اس بات کی وضاحت کر چکی ہے کہ اگر کسی پاکستانی شہری کے خلاف امارات میں کارروائی کی گئی ہے تو اس کا تعلق ویزا قوانین، سکیورٹی معاملات یا دیگر قانونی شرائط سے ہو سکتا ہے، نہ کہ مذہبی یا مسلکی وابستگی سے۔

اماراتی مبصرین نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ متحدہ عرب امارات میں مذہب یا فرقے کی بنیاد پر قانونی کارروائی کا تصور ہی موجود نہیں۔ ان کے مطابق ریاستی ادارے تمام قومیتوں اور مذاہب کے افراد کے ساتھ یکساں سلوک کرتے ہیں اور قانون کی عملداری کو اولین ترجیح دی جاتی ہے۔

تجزیہ کاروں نے اس موقع پر اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ متحدہ عرب امارات میں اس وقت تقریباً 18 لاکھ پاکستانی مختلف شعبہ ہائے زندگی میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امارات نہ صرف پاکستانی افرادی قوت کے لیے ایک اہم مرکز ہے بلکہ پاکستان کا قریبی معاشی اور سفارتی شراکت دار بھی سمجھا جاتا ہے۔

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے تبصروں میں بھی اس مؤقف کی حمایت کی گئی کہ متحدہ عرب امارات کئی دہائیوں سے مختلف مذاہب، مسالک اور قومیتوں سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد کو محفوظ اور مستحکم ماحول فراہم کر رہا ہے، جہاں قانون کی بالادستی اور سماجی ہم آہنگی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔

بعض اماراتی مبصرین نے مزید کہا کہ اگر کسی فرد کے ساتھ واقعی ناانصافی یا امتیازی سلوک ہوا ہے تو اس کی مکمل تفصیلات شفاف انداز میں سامنے لائی جانی چاہئیں تاکہ حقائق کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ محض الزامات یا غیر مصدقہ دعوؤں کی بنیاد پر کسی بھی معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دینا مناسب نہیں اور اس حوالے سے ٹھوس شواہد سامنے آنا ضروری ہیں۔