ترکیہ کے وزیر خارجہ حاکان فیدان نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لے تو اسے خطے کے ممالک پر مشتمل ایک مشترکہ علاقائی تعاون پلیٹ فارم میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ترک وزیر خارجہ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے فلسطین کے مسئلے کا حل ناگزیر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر فلسطینی ریاست کا مسئلہ حل ہو جاتا ہے تو خطے کے ممالک اسرائیل کی سلامتی اور سیکیورٹی کے حوالے سے بھی مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔
حکان فیدان نے تجویز دی کہ اس ممکنہ علاقائی پلیٹ فارم میں پاکستانی، ترکیہ، سعودی عربیہ، مصر اور خلیجی ممالک شامل ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر حالات معمول پر آجائیں تو ایران بھی اس علاقائی فریم ورک کا حصہ بن سکتا ہے۔
ترک وزیر خارجہ کے مطابق خطے کے تمام ممالک کو ایک دوسرے کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کا احترام کرنے کے اصول پر متفق ہونا چاہیے تاکہ دیرپا امن قائم کیا جا سکے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ٹرمپ نے حال ہی میں مشرق وسطیٰ میں تعلقات معمول پر لانے کے لیے ابراہام اکارڈ کو مزید وسعت دینے کی حمایت کی تھی۔
دوسری جانب غزہ میں جاری جنگ کے باعث انسانی بحران بدستور سنگین ہے۔ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی کارروائیوں میں ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 73 ہزار تک پہنچ چکی ہے جبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ متعدد صحافی بھی اس تنازع میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔