امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے کوئی جلدی میں نہیں ہیں بلکہ فوجی کارروائی ابھی بھی بطور آپشن موجود ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے فاکس نیوز کے ساتھ انٹرویو کے دوران کہا کہ ہم جو چاہتے ہیں وہ آہستہ آہستہ حاصل کر رہے ہیں۔ مذکراتی فریق بہت سخت ہے۔ اس میں کافی وقت لگتا ہے۔ مجھے کوئی جلدی نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میرے خیال میں ہم جو چاہتے ہیں اور اگر ہمیں وہ نہیں ملتا تو ہم اسے ایک اور طریقے سے حاصل کرنے والے ہیں۔
اس سے قبل نیویارک ٹائمز نے تین امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان بار بار بھیجی جانے والی تازہ ترین تجاویز کا جواب دیا ہے تاہم یہ فوری طور پر واضح نہیں ہے کہ اس تجویز میں کیا تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
امریکی آؤٹ لیٹ کے مطابق دو اہلکاروں نے بتایا کہ ٹرمپ ایرانیوں کے فنڈز کو غیر منجمد کرنے کے بارے میں فکر مند تھے۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایک معاہدہ کرنے کو ترجیح دیں گے کیونکہ یہ آبنائے ہرمز کو "فوری طور پر" کھول دے گا، باوجود اس کے کہ ایران کی فوج کو "بنیادی طور پر شکست ہوئی"۔