ٹھوس نتائج کے بغیر امریکا سے کوئی ڈیل نہیں ہوگی، قالیباف کا دوٹوک اعلان

قالیباف کے مطابق ایران اپنے عوام کے حقوق کے تحفظ کو ہر ممکن معاہدے میں بنیادی شرط کے طور پر رکھتا ہے


ویب ڈیسک May 31, 2026

تہران: ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ کسی بھی معاہدے کو اس وقت تک قبول نہیں کرے گا جب تک اس کے ٹھوس اور عملی نتائج سامنے نہ آجائیں۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق محمد باقر قالیباف نے یہ بات پارلیمنٹ کے ایک ورچوئل اجلاس سے خطاب کے دوران کہی۔ اس اجلاس میں انہوں نے دوبارہ اسپیکر منتخب ہونے کے بعد حلف بھی اٹھایا۔

انہوں نے کہا کہ ایران کو مخالف فریق کے وعدوں پر اعتماد نہیں ہے، اس لیے کسی بھی معاہدے میں پیش رفت کا واحد معیار ’حقیقی اور قابلِ تصدیق نتائج‘ ہوں گے۔

قالیباف کے مطابق ایران اپنے عوام کے حقوق کے تحفظ کو ہر ممکن معاہدے میں بنیادی شرط کے طور پر رکھتا ہے، اور جب تک ان حقوق کی ضمانت نہیں ملتی، تہران اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ دشمن کے بیانات اور وعدوں پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا اس لیے ایران صرف اسی صورت میں کسی معاہدے کا حصہ بنے گا جب اس کے عملی نتائج واضح ہوں۔

محمد باقر قالیباف نے مزید کہا کہ سپریم لیڈر کے پیغام کو بارہویں پارلیمنٹ کے لیے روڈ میپ سمجھتے ہیں، پارلیمنٹ کی توجہ امید، مستقبل سازی، معیشت اور عوامی معاشی حالات کی بہتری پر مرکوز رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ رہبرِ انقلاب ایران کے لیے شہید ہوئے، شہید رہبر ایک مضبوط اور خودمختار ایران کے بانی بنے۔ شہید رہبر نے ہمیں سکھایا کہ آخری قطرۂ خون تک دھونس اور جارحیت کے خلاف ڈٹے رہنا ہے۔

قالیباف نے کہا کہ ایرانی عوام کے حقوق کے تحفظ کی یقین دہانی کے بغیر امریکا سے کوئی معاہدہ قبول نہیں کریں گے، دشمن کے وعدوں اور بیانات پر کوئی اعتماد نہیں ہے۔ ہماری واحد کسوٹی عملی اور ٹھوس نتائج کا حصول ہے۔