واشنگٹن: امریکی کانگریس میں پیش کیے گئے ایک نئے دفاعی بل نے امریکا اور اسرائیل کے فوجی تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی راہ ہموار کر دی ہے۔
مجوزہ قانون کے تحت دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تحقیق، ہتھیاروں کی تیاری اور جدید فوجی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو غیر معمولی سطح تک بڑھایا جا سکتا ہے۔
یہ تجویز امریکی مالی سال 2027 کے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ کے مسودے میں شامل کی گئی ہے، جسے ’امریکا-اسرائیل دفاعی ٹیکنالوجی تعاون اقدام‘ کا نام دیا گیا ہے۔
مجوزہ شق کے مطابق امریکی وزیر دفاع ایک خصوصی عہدیدار مقرر کریں گے جو امریکا اور اسرائیل کے درمیان فوجی تعاون کے تمام منصوبوں کی نگرانی اور ہم آہنگی کا ذمہ دار ہوگا۔
اس منصوبے کے تحت دونوں ممالک مشترکہ دفاعی تحقیق، جدید ہتھیاروں کی تیاری، فوجی نظاموں کے انضمام، ڈیٹا شیئرنگ، مصنوعی ذہانت، ڈرون ٹیکنالوجی اور سائبر آپریشنز جیسے شعبوں میں قریبی تعاون کر سکیں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ قانون منظور ہو جاتا ہے تو امریکا اور اسرائیل کے دفاعی تعلقات ایک نئی سطح پر پہنچ جائیں گے، جہاں تعلق صرف فوجی امداد تک محدود نہیں رہے گا بلکہ دونوں ممالک کی دفاعی صنعتیں بھی ایک دوسرے کے ساتھ گہرائی سے منسلک ہو جائیں گی۔
سابق امریکی محکمہ خارجہ کے عہدیدار جوش پال نے اس تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کے ذریعے اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی اور سپلائی چین تک بے مثال رسائی حاصل ہو سکتی ہے، جس سے مستقبل میں امریکی دفاعی پالیسیوں پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل پہلے ہی آئرن ڈوم جیسے میزائل دفاعی نظاموں کی مشترکہ تیاری میں تعاون کر چکے ہیں۔ نئی تجویز اس تعاون کو مزید وسیع کرتے ہوئے جدید جنگی ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں تک پھیلانے کی کوشش ہے۔
بل کو ابھی امریکی ایوان نمائندگان اور سینیٹ سے منظوری حاصل کرنا باقی ہے، تاہم اسے ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتوں کے بعض اہم ارکان کی حمایت حاصل ہے۔