عیدالاضحیٰ پر زیادہ گوشت خوری کے نقصانات، ماہرین نے بچاؤ اور علاج بتا دیا

غیر متوازن غذا کے استعمال سے بدہضمی، گیس، پیٹ درد اور گیسٹرواینٹرائٹس جیسے مسائل عام ہو جاتے ہیں


ویب ڈیسک June 01, 2026
صحت مند انسان کے لیے گوشت کھانے کی مناسب مقدار کی حد 100 گرام ہے،طبی ماہرین ۔ فوٹو: فائل

عیدالاضحیٰ کے موقع پر گوشت کی فراوانی اکثر لوگوں کو بسیار خوری پر مجبور کر دیتی ہے، جس کے نتیجے میں عید کے بعد معدے کے مسائل میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق زیادہ گوشت کھانے اور غیر متوازن غذا کے استعمال سے بدہضمی، گیس، پیٹ درد اور گیسٹرواینٹرائٹس جیسے مسائل عام ہو جاتے ہیں۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ عید کے دنوں میں لوگ اکثر ایک ہی وقت میں زیادہ مقدار میں گوشت کھا لیتے ہیں، جس سے معدے پر شدید دباؤ پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ تلی ہوئی اشیاء، زیادہ مصالحہ اور کم پانی کا استعمال صورتحال کو مزید خراب کر دیتا ہے۔ بعض افراد میں یہ علامات اس حد تک بڑھ جاتی ہیں کہ انہیں فوری طبی امداد کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق بسیار خوری سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ گوشت کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کر کے کھایا جائے اور ہر کھانے کے درمیان وقفہ رکھا جائے۔ ساتھ ہی سبزیوں، دہی، سلاد اور پھلوں کو غذا کا حصہ بنانا چاہیے تاکہ نظامِ ہاضمہ بہتر رہے۔

اگر کسی شخص کو عید کے بعد بدہضمی یا گیسٹرواینٹرائٹس کی علامات ظاہر ہوں جیسے مسلسل قے، دست، پیٹ میں درد یا کمزوری تو فوری طور پر ہلکی غذا اختیار کی جائے۔ اس دوران زیادہ پانی، او آر ایس اور سادہ خوراک کا استعمال مفید ثابت ہوتا ہے، جبکہ تیل اور مصالحے والی اشیاء سے مکمل پرہیز ضروری ہے۔

ڈاکٹروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ شدید علامات کی صورت میں خود علاجی سے گریز کرتے ہوئے فوری طور پر قریبی ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔ عید کی خوشیوں کو برقرار رکھنے کے لیے اعتدال، صفائی اور متوازن غذا ہی سب سے مؤثر طریقہ ہے۔