کشتیاں سبز، بادباں نیلا

دل کو مصروف کیا کارِ جہاں بانی میں  اک یہی کام ہوا ہم سے پریشانی میں


شیخ جابر June 01, 2026

عصر حاضر کا انسان جس گہرے فکری، نفسیاتی اور وجودی بحران سے گزر رہا ہے، اسے عصری فلسفے میں بحران معنویت کا نام دیا گیا ہے۔

مادی ترقی، ٹیکنالوجی کی یلغار اور ڈیجیٹل دنیا کی بہ ظاہر نظر آنے والی ہماہمی کے پیچھے ایک ہولناک اندرونی تنہائی، شہری بے گانگی اور شدید شناختی بحران پوشیدہ ہے۔

انسان اربوں کی آبادی کے شہروں اور کروڑوں کے ڈیجیٹل نیٹ ورکس میں جڑا ہونے کے باوجود خود کو ایک ایسے جزیرے پر تنہا محسوس کرتا ہے جہاں معنی کا کوئی سائبان موجود نہیں ہے۔ ایسے منجمد اور بے مہر عہد میں، ادب اور بالخصوص شاعری محض تفنن ِ طبع یا الفاظ کی جادوگری نہیں رہ جاتی، بلکہ یہ متبادل معنویت کی تلاش کا ایک ناگزیر ذریعہ بن جاتی ہے۔ سچی شاعری انسان کو اس کے گمشدہ اندرون سے ملواتی ہے اور اس خارجی آشوب کے خلاف ایک فکری ڈھال مہیا کرتی ہے۔

اِس فکری پس منظر میں اگر دیکھا جائے تو آج کی اردو شاعری کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ کلاسیکی استعاروں کی روح کو برقرار رکھتے ہوئے جدید ترین انسانی تجربات کا اِحاطہ کس طرح کرتی ہے۔ موجودہ دور کا ایک منفرد زاویہ یہ ہے کہ وہ روایتی پامال استعاروں کو ڈیجیٹل تنہائی اور شہری بے گانگی کے نئے درد میں پھونک رہی ہے۔ ماضی میں ہجر، تنہائی، دشت اور ساحل کے جو مفاہیم تھے، وہ آج کے میکانکی دور میں یکسر بدل چکے ہیں۔ اب تنہائی کسی جنگل یا صحرا میں قید ہونے کا نام نہیں، بلکہ کمرے میں جلتی ہوئی موبائل اسکرین کے سامنے بیٹھے انسان کا مقدر بن چکی ہے۔

اردو شاعری کا مستقبل اب اسی بات پر منحصر ہے کہ وہ اپنی جڑوں (روایت) سے کٹے بغیر اس عصری حسیت کو کس طرح جذب کرتی ہے، اگر ہماری شاعری صرف ماضی کے قصیدوں اور روایتی موضوعات تک محدود رہی تو یہ اپنی معنویت کھو دے گی اور اگر یہ روایت سے مکمل انحراف کر کے مادرِ پدر آزاد جدت طرازی کا شکار ہو گئی تو ثقہ قارئین سے محروم ہو جائے گی۔ مستقبل کے شعری امکانات ان شعراء کے دم سے وابستہ ہیں جو روایت کے سبھاؤ کو جدید فکری لہروں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔

 اِسی فکری لہر اور تسلسل کے تناظر میں جب ہم نوے کی دہائی میں ابھرنے والے ممتاز شاعر محمد علی منظر کے تیسرے شعری مجموعے ’’کشتیاں سبز، بادباں نیلا‘‘ کا مطالعہ کرتے ہیں، تو یہ احساس گہرا ہو جاتا ہے کہ وہ روایت کے گہرے فکری تسلسل اور جدید حسیت کے سنگم پر کھڑے ہیں۔ کراچی پبلی کیشنز کے زیر اہتمام شائع ہونے والا یہ مجموعہ کلام محض غزلوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک تخلیقی وجود کا فکری سفرنامہ ہے۔ محمد علی منظر نے اردو غزل کی کلاسیکی آبرو کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے عہد کے مسائل کو بڑی شائستگی کے ساتھ اپنے شعروں میں سمویا ہے۔

ان کے ہاں زبان کی بدنمائی ہے نہ سستی مقبولیت کے لیے روایت سے سستا انحراف۔ جیسا کہ نامور محقق خواجہ رضی حیدر نے کتاب کے پیش لفظ میں بجا طور پر اشارہ کیا ہے کہ منظر کی شاعری ثقہ قاری کی تلاش کا ایک شائستہ عمل ہے، وہ الفاظ کی لفظی گونج کے اس دور میں اپنے وجود کی گہرائیوں میں سفر کر کے انفرادیت حاصل کرتے ہیں، جس کی گواہی ان کا یہ منفرد شعر بخوبی دیتا ہے۔

دل کو مصروف کیا کارِ جہاں بانی میں

 اک یہی کام ہوا ہم سے پریشانی میں

کتاب کا عنوان ’’کشتیاں سبز، بادباں نیلا‘‘ بہ ذاتِ خود ایک عمیق استعاراتی نظام کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ سبز اور نیلا رنگ حیات، سمندر، آسمان اور امکانات کے رنگ ہیں، لیکن یہ کشتیاں اور بادبان کسی طوفانی سمندر میں معنی اور ساحل کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ منظر کی شاعری کا ایک بڑا اور نمایاں ترین فکری زاویہ ’’احساسِ رائیگانی‘‘ اور ’’تشکیک‘‘ ہے۔ جدید انسان کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود خود کو لاحاصل محسوس کرتا ہے۔ منظر اس آفاقی المیے کو اپنے مخصوص دھیمے اور پرتاثیر لہجے میں یوں بیاں کرتے ہیں کہ

سوائے رائیگانی اور کیا ہے

ہماری زندگانی اور کیا ہے

 اور یہی رائیگانی جب انسانی وجود کے اندرونی رشتوں پر اثر انداز ہوتی ہے، تو تشکیک کی دھند گہری ہو جاتی ہے۔ شاعر جب اپنے ماضی اور حال کا موازنہ کرتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ علم اور آگہی نے اسے یقین دینے کے بجائے مزید سوالات کے گرداب میں ڈال دیا ہے، جہاں وہ پکار اٹھتا ہے۔

کیا تھا میں کیا بنا گئی مجھ کو

 ہائے تشکیک کھا گئی مجھ کو

منظر کی غزلوں میں تنہائی کا جو تصور ملتا ہے، وہ کوئی سطحی یا وقتی اداسی نہیں ہے، بلکہ وہ ایک ایسی پائیدار وجودی حالت ہے جہاں انسان اپنے اردگرد موجود ہجوم کے باوجود اپنے اندر کی آواز سننے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ شہری زندگی کا پھیلاؤ اور در و دیوار کا جمود ان کے ہاں ایک مسلسل چٹکی لیتا محسوس ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’صرف دیوار و در بنا پایا، میں مکاں کو نہ گھر بنا پایا۔‘‘ یہ شعر معاصر شہری زندگی کی اس بے روح ساخت پر ایک گہرا طنز ہے جہاں کنکریٹ کے ڈھانچے تو موجود ہیں مگر ان میں سانس لیتی ہوئی محبتیں اور خلوص ناپید ہو چکے ہیں۔

 اگر تخلیقی اور فنی سطح پر پرکھا جائے تو محمد علی منظر کی گرفت بحور اور آہنگ پر انتہائی مضبوط دکھائی دیتی ہے۔ ان کی غزلوں میں ایک خاموش موسیقی اور غنائیت موجود ہے جو قاری کو اپنے سحر میں لے لیتی ہے۔ زبان و بیان کے معاملے میں وہ حد درجہ محتاط ہیں اور عوامی محاورے کے استعمال میں ثقاہت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔ ان کا استعاراتی نظام بہت وسیع ہے، چڑیا، تتلی، پھول، زرد دھوپ، سمندر اور کینوس جیسے الفاظ ان کے ہاں بار بار نئے معنوی سیاق و سباق کے ساتھ نمودار ہوتے ہیں۔

مثال کے طور پر یہ خوبصورت شعر دیکھیے جہاں وہ خاموشی اور بے زبانی کے عذاب کو لمس کے استعارے سے لافانی بنا دیتے ہیں۔ ’’لمس نے گفتگو مکمل کی، حرف آیا نہ بے زبانی پر۔‘‘ اسی طرح محبت کے باب میں ان کا رویہ روایتی شکوہ شکایت کے بجائے ایک پروقار اور حقیقت پسندانہ اعتراف کا ہے، جہاں وہ اپنی خوش گمانیوں پر بھی تبصرہ کرنے کی جرات رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’’ابھی تک یاد ہیں ہم اس کو منظر، ہماری خوش گمانی اور کیا ہے۔‘‘