بہتر مستقبل اور روزگار کی تلاش میں سال رواں کے ابتدائی چار ماہ میں ڈھائی لاکھ پاکستانی اپنا آبائی وطن چھوڑ کر بیرون ملک منتقل ہونے پر مجبور ہوئے ہیں اور یہ وہ پاکستانی ہیں جو اپنے وطن میں اپنے مستقبل سے مایوس ہو کر سعودی عرب، یو اے ای، قطر، ترکیہ، بحرین، برطانیہ اور امریکا میں قانونی تقاضے پورے کرکے وہاں ملازمتیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں جب کہ کتنے پاکستانی ڈنکی کے ذریعے یا دیگر غیر قانونی ذرائع سے ملک چھوڑ کر گئے اور اپنی مطلوبہ منزل تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔کتنے سمندر کی نذر ہوئے، کتنے بیرون ممالک گرفتار ہوئے ،کتنے لاپتا ہیں، ان کا کوئی ریکارڈ دستیاب نہیں، صرف قانونی طور ملک چھوڑنے والوں کی خبر میڈیا میں نظر آتی ہے۔
اپنی مجبوری کے باعث ملک چھوڑ کر بیرون ملک جانے کا یہ سلسلہ آج سے نہیں عشروں سے جاری ہے جو وطن میں اپنے مستقبل سے مایوس ہو کر اپنے قریبی عزیزوں اور اہل خانہ کو چھوڑ کر بیرون ملک جانے کے لیے ہر جائز و ناجائز طریقے سے باہر جا کر انتہائی محنت اور مشقت سے رقم کما کر اپنے گھر والوں کے لیے جو رقم بھیجتے ہیں وہ حکومت کو زر مبادلہ کی صورت میں ملتا ہے اور حکومتوں کو اپنے ہم وطنوں سے نہیں بلکہ ان کے ذریعے سے بیرون ملک سے آنے والے زرمبادلہ سے زیادہ دلچسپی ہے اور حکمرانوں کو اس سے کوئی سروکار نہیں کہ انھیں زرمبادلہ بھیجنے والے ان کے ہم وطن بیرون ملک کس حال میں جی رہے ہیں اور دن رات سخت محنت کرکے دو، دو شفٹوں میں نوکری کرکے وہاں اپنا وقت صرف اپنے اور اپنے اہل خانہ کے مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔
پاکستان کے عوام پیپلز پارٹی کے سابق وزیر اعظم کا وہ بیان نہیں بھولے کہ’’ جس نے باہر جانا ہے جائے اسے روکا کس نے ہے؟ ‘‘وہ یہ بھول گئے تھے کہ انھیں اقتدار ملنے سے قبل پی پی کے جیالے نعرے لگاتے تھے کہ’’ بے نظیر آئے گی روزگار لائے گی۔‘‘ 2007 میں بے نظیر تو آئی تھیں مگر تیسری بار وزیر اعظم بننے سے قبل ہی شہید کر دی گئی تھیں جس کے نتیجے میں یہ صاحب خود وزیر اعظم بنے تھے اور محترمہ کے شوہر کو صدارت ملی تھی مگر ان کے پانچ سال کے اقتدار میں صرف اپنوں کو ملازمتیں دی گئی تھیں اور باقیوں کو ملازمتیں دینے کی ملک میں کئی منڈیاں ضرور کھلی تھیں جہاں لاکھوں روپے لے کر سرکاری ملازمتیں دینے کا آغاز ہوا تھا جب کہ اس سے قبل بھٹو صاحب اور بے نظیر بھٹو کے تین بار کے اقتدار میں لوگوں کو رقمیں لے کر نہیں اپنا سمجھ کر سرکاری ملازمتیں مل ہی جایا کرتی تھیں اور کبھی نہیں سنا تھا کہ سرکاری ملازمتیں خریدی جاتی ہیں۔
اس وقت پی پی کے جیالوں کو واقعی ملک بھر میں سرکاری ملازمتیں سفارش یا اہلیت پر مفت مل جاتی تھیں اور بیرون ملک جانے کا کوئی رجحان تھا نہ سوچ بلکہ لوگ اپنے ملک میں ملنے والے روزگار سے مطمئن تھے اور اسی ملازمت کو اپنا اچھا مستقبل سمجھتے تھے اور اپنے ہی ملک میں رہنے کو ترجیح دیتے تھے۔
اپنے ملک میں اگرچہ تنخواہیں زیادہ نہیں تھیں اور لوگ اپنے ملک میں ہی رہ کر اپنے مستقبل کو محفوظ سمجھتے تھے اور مطمئن زندگی گزار لیتے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ تو رہ رہے تھے۔ پھر ملک کی آبادی اور حکومتوں کے ذمے داروں کی کرپشن بڑھی۔ سرکاری ملازمتیں ضرورت کے مطابق نہ بڑھ سکیں اور جو سرکاری ملازمتیں دستیاب تھیں وہ میرٹ کی بجائے لاکھوں روپے رشوت پر ملنا شروع ہوئیں تو بے روزگاروں نے سوچا کہ انھیں لاکھوں روپے دے کر سرکاری ملازمت لینے کے بجائے بیرون ملک جا کر کیوں نہ اپنا مستقبل سنوارا جائے جہاں محنت تو ہے مگر تنخواہ اور معاوضہ زیادہ ہے۔
چند سال وہاں کما کر وطن واپس آ کر اپنے بچوں کا مستقبل سنوارنے کا موقعہ مل جائے گا۔ اب یہ سوچ بھی ختم ہو چکی کیونکہ سات عشروں سے ملک کے ہر حکمران نے اپنی اور اپنوں کی قسمت بدل لی۔ کنگلے ارب پتی ہو گئے مگر مجموعی طور پر عوام کی حالت بہتر ہونے کی بجائے بد سے بدتر ہوتی گئی جس کا حل 2008 میں آنے والی پی پی کی حکومت نے بے نظیر بھٹو انکم سپورٹ پروگرام کی صورت میں نکالا تھا اور امیر جماعت اسلامی کے ایک حالیہ بیان میں پیپلز پارٹی کے اس پروگرام کے متعلق کہا ہے کہ’’ اس کے ذریعے قوم کو بھکاری بنا دیا گیا ہے اور غریبوں کے نام پر شروع کیے گئے اس پروگرام میں کرپشن کی شکایات عام ہیں اور پی پی کو ووٹ ضرور مل جاتے ہیں۔‘‘
مسلم لیگ (ن) کی حکومت لوگوں سے روزگار چھیننے اور پی پی کی حکومت ہر ادارے میں اضافی ملازمتیں دینے میں ضرور مشہور ہیں مگر ملک میں روزگار کے ضرورت کے مطابق ذرائع موجود نہیں جب کہ پی ٹی آئی کے ایک سابق وزیر فواد چوہدری اور موجودہ ایک وزیر کہہ چکے ہیں کہ لوگوں کو ملازمتیں فراہم کرنا حکومت کی ذمے داری نہیں ہے۔
ایسے بیانات سے ہی ملک میں بے روزگاری عروج پر ہے اور بلند و بانگ دعوے کرنے والی حکومتوں سے نہ صرف عوام کا اعتماد کب کا اٹھ چکا ہے اور اپنے وطن سے مایوس اپنے مستقبل کے لیے فکر مند لوگوں کے پاس اپنا وطن چھوڑ کر بہتر مستقبل کے لیے بیرون ملک جانے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا اور لوگ کسی نہ کسی طرح باہر جانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اپنے وطن میں لاکھوں روپے دے کر غیر محفوظ ملازمت حاصل کرنے کی بجائے بیرون ملک جانے کو نہ صرف ترجیح دے رہے ہیں بلکہ اپنے ملک سے ہی اتنے مایوس ہیں کہ بیرون ملک رہ کر واپس وطن آنے کا ارادہ بھی ترک کر چکے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں حکومتیں انھیں زرمبادلہ کمانے کی مشین سمجھتی ہیں اور وہ واپسی پر خود کو غیر محفوظ بھی سمجھتے ہیں جن کی حکومت کو کوئی فکر نہیں اور کچھ وقت کے لیے وطن آنے والے تارکین وطن گھر پہنچنے سے پہلے ہی لوٹ لیے جاتے ہیں اور سرکاری ادارے انھیں الگ تنگ کرتے ہیں اور ان حالات کے ذمے دار صرف حکمران ہیں۔