محترمہ مریم نواز سے

آیا ہمارے دیس میں اک خوش نوا فقیر آیا اور اپنی دھن میں غزل خواں گزر گیا


[email protected]

کچھ دن ہوتے ہیں، کسی برخود غلط نے دعوی ٰکیا:

' اقبالؒ کیا ہے، یہ تو غالب کے ایک مصرعے سے برآمد ہو جاتا ہے۔'

علم کی دنیا میں ایسا ہو جائے تو اس پر حیرت نہیں ہونی چاہیے کیوں کہ یہ معاملہ چراغ سے چراغ جلانے جیسا ہے لیکن اگر ایسا کہنے والے نے کبھی ایسا بھی کہہ رکھا ہو کہ غنیمت ہے کہ اقبالؒ کے دریوزہ گر بس اب دو چار ہی بچے ہیں اب ہمارا دور شروع ہوتا ہے تو سمجھ میں آتا ہے کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ الفاظ کے ہیر پھیر کی ضرورت نہیں، یہ کاروبار اقبالؒ شکنی کا ہے۔ ایسا کیوں ہے، اس کی تفصیل دل چسپ بھی ہے اور عبرت خیز بھی۔

خیر، موجودہ زمانے میں تو اقبالؒ کو دائیں بازو یا مذہبی طبقات کے ساتھ نتھی کر دیا گیا ہے اور بعض شدت پسند ملاں کے طرز عمل نے اقبالؒ کو بے پناہ نقصان بھی پہنچایا ہے لیکن اقبالؒ ہمیشہ سے ایسا بدقسمت نہیں رہا۔ فیض احمد فیض ہوں، علی سردار جعفری ہوں یا بالکل ہمارے قریب کے زمانے کے خوش نوا احمد فراز، یہ سب اقبال کے خوشہ چین تھے اور اس کی محبت کا دم بھرتے تھے۔

ہمارے یہ بلند قامت شعرا روایتی طور پر بائیں بازو کی طرف نہ صرف رجحان رکھتے تھے بلکہ اپنی نظریاتی آدرشوں کی خاطر انھوں نے کبھی کسی قربانی سے بھی گریز نہیں کیا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ تینوں بزرگ پختہ نظریاتی تشخص رکھنے والے لوگ تھے لیکن اس کے باوجود ان کے یہاں اقبال ؒکے لیے کبھی منفی جذبات یا یوں کہیے کہ کینہ نہیں پایا گیا۔ کینہ تو دور کی بات ہے ان بلند قامت شعرا نے اقبالؒ کو منظوم خراج عقیدت تک پیش کیا ہے۔ اس ضمن میں فیض کی نظم تو درجہ کمال کو پہنچتی دکھائی دیتی ہے۔ فیض نے کہا تھا:

آیا ہمارے دیس میں اک خوش نوا فقیر

آیا اور اپنی دھن میں غزل خواں گزر گیا

سنسان راہیں خلق سے آباد ہو گئیں

ویران مے کدوں کا نصیبہ سنور گیا

یہ نسبتاً ایک طویل نظم ہے جس میں انھوں نے اقبال کی شاعری ہی نہیں ان کی فکر کی تحسین بھی کی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جس زمانے میں فیض صاحب اقبالؒ کو خراج عقیدت پیش کر رہے تھے، انھیں احساس ہو گیا تھا کہ مستقبل میں کیا ہو سکتا ہے لہٰذا اسی نظم میں انھوں نے کہا:

اب دور جا چکا ہے وہ شاہ گدا نما

اور پھر سے اپنے دیس کی راہیں اداس ہیں

ہمارے دیس کی راہیں کیوں اداس ہیں؟ پوری نظم پڑھیں تو اس سوال کا جواب بھی مل جاتا ہے۔ فیض فرماتے ہیں:

چند اک کو یاد ہیں کوئی اس کی ادائے خاص

دو اک نگاہیں چند عزیزوں کے پاس ہیں

ایسا کیوں ہوا کہ اقبالؒ کی ادائے خاص چند عزیزوں تک ہی محدود کیوں رہ گئیں اور نام نہاد دانش وروں کے مٹھی بھر گروہ نے اقبالؒ کے بارے میں ہذیان کیوں بکنا شروع کر دیا۔ اقبالؒ پر زبان طعن دراز کرنے والے دو طرح کے لوگ ہیں۔ ان میں ایک تو وہ ہیں جو مبینہ طور پر بائیں بازو سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا یہ دعویٰ ضرور ہے کہ وہ بائیں بازو والے ہیں لیکن حقیقت میں یہ نظریاتی لوگ نہیں، ان کا تعلق اس گروہ سے ہے جو اس ملک اور اس کی بنیاد پر کلہاڑا چلانا چاہتا ہے۔

ان کا دم بھرنے والے کچھ جہلا ہیں جنھیں نہ یہ معلوم ہے کہ بایاں بازو کیا ہے اور اس کے نظریات کیا ہیں، بس وہ نفرت کے اندھے ہیں اور اپنی نفرت کی لاٹھی سے انھوں نے ماحول کو خراب کر رکھا۔ ایک اور طبقہ کم سواد بونوں پر مشتمل ہے جو سمجھتے ہیں کہ جب تک اقبالؒ کا نام اور اس کا کام ہے، ان کا چراغ کبھی نہیں جل سکتا۔ اس دیوانگی میں یہ لوگ اردو کا ایک محاورہ بھول جاتے ہیں کہ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ۔

یہ سوال ذہن میں ضرور پیدا ہونا چاہیے کہ اقبالؒ شکنی کی فضا کیوں پیدا ہو رہی ہے؟ ماضی قریب میں اس طرز عمل کی بنیادیں پرویز مشرف کے زمانے تک پہنچتی ہیں جس نے اپنی نام نہاد روشن خیال اعتدال پسندی (Enlighted Moderation )کی خاطر پاکستان کی تہذیبی اقدار پر کلہاڑا چلانے کی کوشش کی تو اقبالؒ بھی اس کی زد میں آ گئے۔

 

اس دور نا مسعود میں کچھ ایسا ماحول بنا کہ حکومت نے اقبالؒ کے یوم ولادت کو سرکاری سطح پر منانا ترک کر دیا اور یہ اعلان بھی کر دیا گیا کہ آئندہ اس قومی تہوار پر تعطیل بھی نہیں ہوا کرے گی۔ اس تاریک دور کے خاتمے کے بعد نواز شریف وزیر اعظم بنے تو یہ چھٹی بحال ہوئی لیکن اقبالؒ شکنی کی جو فضا بن چکی تھی وہ برقرار رہی۔ یہ سب کیوں ہوا، اس کا سبب اگر بدنیتی سے نہیں تو اقبالؒ سے لاتعلقی اور انھیں نہ پڑھے جانے سے ہے۔ اس مرض کا علاج اقبالؒ کو پڑھنے اور سمجھنے میں ہے۔

ہمارے علمی و ادبی ادارے خاص طور پر اقبالؒ کی فکر سے وابستہ ادارے کچھ کام کر رہے ہیں لیکن حکومت پنجاب کے ادارے بزم اقبالؒ نے اس ضمن میں اہم بلکہ غیر معمولی کام کیا ہے جس کا تعلق اقبالؒ کو نئی نسل تک پہنچانے سے ہے۔ بزم اقبال نے پروفیسر ڈاکٹر تحسین فراقی کی زیر قیادت بانگ درا اور اقبال کے دیگر مجموعوں اور خطبوں کے خصوصی ایڈیشن شائع کیے ہیں تا کہ نئی نسل نہ صرف یہ کہ کلام اقبال کی درست خواندگی کر سکے بلکہ اس کا مفہوم بھی سمجھ سکے۔

اس کے ساتھ ہی انھوں نے دروس اقبال منعقد کیے تا کہ نئے ذہن کو اقبال کی فکر سے روشناس کرایا جا سکے۔ ڈاکٹر فراقی نے تین برس کے مختصر عرصے میں بہت سا کام کر ڈالا ہے لیکن ابھی بہت سا کام باقی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ بزم اقبال کے بورڈ آف گورنرز نے سفارش کی کہ ڈاکٹر صاحب کو کم از کم ایک برس کی توسیع دے دی جائے تا کہ ان کے شروع کیے ہوئے منصوبے مکمل ہو سکیں۔ محترمہ مریم نواز بہترین نظریاتی پس منظر رکھنے والی وزیر اعلی پنجاب ہیں۔ ان سے یہ توقع درست ہے کہ تفہیم اقبال کے مشن کی تکمیل کے لیے وہ سب کریں گی جس کی ضرورت ہے۔