متکبر و متلون مزاج ڈونلڈ ٹرمپ

ایران کے ساتھ کسی باعزت معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ خود امریکی صدر کی متلون مزاجی سمجھی جا رہی ہے ۔


[email protected]

ایران کے ساتھ کسی باعزت معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ خود امریکی صدر کی متلون مزاجی سمجھی جا رہی ہے ۔ امریکی صدر ، ڈونلڈ ٹرمپ،اپنے ملکی و غیر ملکی حریفوں اور مخالفین بارے بھی جو زبان استعمال کررہے ہیں، ایسا لہجہ شائد ہی کبھی کسی امریکی صدر یا غیر ملکی حکمران نے اپنے مخالفین کے کے لیے استعمال کیا ہوگا۔ ایران سے حالیہ محاربے کے دوران ، فرسٹریشن میں، ٹرمپ صاحب تو بالکل ہی ہتھے سے اُکھڑتے نظر آئے ہیں ۔

مثال کے طور پر5اپریل  2025ء کو موصوف نے ایران ، ایرانی عوام اور ایرانی حکام کو ، اپنے ایک ٹویٹ میں، جس قابلِ گرفت الفاظ میں پکارا ہے، ساری دُنیا ششدر رہ گئی ۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ٹرمپ صاحب ایران کے خلاف ایسا Abusiveلہجہ اختیار کر سکتے ہیں ۔ اگر کالم میں گنجائش ہوتی تو مَیں یقیناً یہ توہین آمیز الفاط لکھ بھی دیتا ، مگر مجھے اپنی کالمی اخلاقیات پابند کرتی ہیں ۔

اور جب 6اپریل کی پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے ٹرمپ سے اِن الفاظ کی شدت بارے سوال پوچھا تو اُنہوں نے لاپرواہی سے کندھے اچکاتے ہُوئے کہا:’’ مَیں نے کہہ دیا تو بس کہہ دیا۔‘‘ سچ تو یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ قول و فعل میں اپنے مخالفین بارے سفاکیت کے مظاہرے کرتے ہُوئے ہر حد سے متجاوز ہو گئے ہیں ۔ بدنامِ زمانہ ایپسٹین فائلز کے حوالے سے امریکی کانگریس مین(Dan Goldman) نے ٹرمپ بارے جو تہلکہ خیز بیان دیا ہے ، اُس سے یہ بھی عیاں ہوتا ہے کہ یہ صاحب اخلاقی طور پر بھی کس قدر پستی کا شکار ہیں ۔

28فروری 2026ء کوایران پر حملہ کرنے سے قبل ٹرمپ نے ایران کے خلاف سرکاری بیان دیتے ہُوئے سابقہ ایرانی حکام کے امریکہ مخالف بیانات کا جس اسلوب میں ذکر کیا ، اس سے یہ بھی عیاں ہُوا تھا کہ موجودہ امریکی صدر اونٹ کا سا بغض رکھتے ہیں۔ ایران اور ایرانی صدور تو پھر بھی غیر امریکی ہیں ، مگر ٹرمپ صاحب اپنے ہم وطن سیاسی و سماجی حریفوں بارے جن سفاک خیالات کا اظہار کرتے ہیں ، اِن سے ایک دُنیا حیران ہے ۔ مثال کے طور پر : 21مارچ  2026ء کو امریکیFBI کے سابق سربراہ Robert Muellerکی وفات پر اظہارِ افسوس کرنے کی بجائے ٹرمپ نے کہا: ’’اچھا ہُوا ۔

اُس کے مرنے پر مَیں خوش ہُوں ۔ اب وہ زندہ رہ کر معصوموں کو مجروح نہیں کر سکے گا۔‘‘ ٹرمپ نے یہ بیان اس لیے دیا کہ رابرٹ ملر پچھلے امریکی صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی تحقیقات کرتے رہے ہیں ۔ یہ مگر کوئی پہلی افسوسناک مثال نہیں ہے۔2018ء میں معروف امریکی سینیٹر John McCainفوت ہُوئے تو ٹرمپ نے اظہارِ تعزیت کرنے کی بجائے کہا: ’’ جان میکین کے مرنے پر سب مطمئن ہُوئے ہیں ۔ مَیں کبھی بھی جان میکین کو پسند نہیں کرتا تھا۔وہ شخص ہے ہی ایسا تھا۔ ‘‘ سُننے والے حیران ہی تو رہ گئے ۔ جان مکین کے مرنے پر اِن سفاک الفاظ کے ادا کرنے کا پسِ منظر یہ تھا کہ آنجہانی جان مکین نے، ماضی میں، ڈونلڈ ٹرمپ کے مرتب کردہ ایک بِل کی اتنی مخالفت کی تھی کہ ٹرمپ کو پسپائی اختیار کرنا پڑی تھی ۔ ٹرمپ کو یہ شکست بھُولی نہیں تھی ۔

 اِسی پر بس نہیں ۔2019ء میں ممتاز امریکی مقتدر سیاستدان John Dingellکا انتقال ہُوا تو ٹرمپ نے کہا:’’ مجھے یقین ہے کہJohn Dingellجہنم میں گیا ہو گا۔‘‘اِس دل آزار بیان پر آنجہانی امریکی سیاستدان کی بیوہ(Dabbie ) نے ٹرمپ بارے اظہارِ دکھ کرتے ہُوئے کہا تھا:’’ڈونلڈ ٹرمپ نے میرے آنجہانی شوہر بارے جو بیان دیا ہے، اِس سے میرا دُکھ مزید گہرا ہو گیا ہے ۔ مَیں ٹرمپ کے یہ دل آزار الفاظ مرتے دَم تک فراموش نہیں کر سکوں گی ۔‘‘

اکتوبر2021ء میں سابق امریکی وزیر خارجہ Colin Powellفوت ہُوئے تو ڈونلڈ ٹرمپ نے ترنت کہا:’’ گلف وار میں پے در پے کئی نااہلیوں اور نالائقیوں کا مظاہرہ کرنے والا کولن پاول مر گیا۔‘‘ دسمبر2025ء میں مشہور ترین سابق امریکی صدر ، جان ایف کینیڈی ، کی معروفِ عالم پوتی تاتیانہ اسکلوز برگ (Tatiana Schlossberg:( جوامریکہ کی مشہور صحافی اور مصنفہ تھیں) کا کینسر کے موذی مرض میں مبتلا ہو کر انتقال ہُوا تو ڈونلڈ ٹرمپ نے اُن کے خاندان سے اظہارِ تعزیت کرنے کی بجائے ایک ایسا بیان داغ دیا کہ کینیڈی خاندان سمیت سارا امریکہ تھرا کر رہ گیا تھا۔

لگتا ہی نہیں بلکہ اب تو سُننے اور دیکھنے والوں کو حق الیقین ہو گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے سینے میں گوشت پوست کا دل نہیں ، بلکہ شائد پتھر کا ٹکڑا نصب ہے ۔ مثال کے طور پر مارچ2026ء کے پہلے ہفتے عالمی بحری قوانین کی توہین کرتے ہُوئے سفاک امریکی بحریہ نے بین الاقوامی سمندر میں( بھارت میں جنگی مشقیں کرکے واپس آنے والے) ایرانی بحری جہاز IRIS Dena( جو نہتا تھا)کو تارپیڈو مار کر تباہ کر دیا تو اِس سانحہ پر ٹرمپ نے ایک تقریب کے دوران ہنستے ہُوئے کہا:’’مَیں نے اپنے بہادر میرینز سے کہا تھا: بھئی ، ایرانی بحری جہاز کو عملے سمیت پکڑ لینا چاہیے تھا، مگر میرے بہادر ملاحوں نے کہا: تارپیڈو مارنا زیادہ Funتھا۔‘‘خدا کی پناہ ایسا ظلم ، ایسی سفاکی !! جیتے جاگتے ایرانی بحریہ کے جوانوں کو قتل کیا جارہا تھا اور سفاک امریکی صدر اِس خونریزی کو ’’فن‘‘ کا نام دے رہے تھے ۔یاد رہے کہ مذکورہ ایرانی بحری جہاز میں 130سے زائد ایرانی بحریہ کا عملہ تھا۔ امریکی حملے میں 80ایرانی بحری افسران شہید ہو گئے تھے ۔

امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ اور اُن کی سفاک ملٹری اسٹیبلشمنٹ ( جس پر صہیونی اسرائیل کا غلبہ ہے)کی بربریت بارے یہاں کئی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ امریکیوں سے کسی انسانی جذبے اور انسانیت کی توقع رکھنا عبث ہے ۔اِس ضمن میں ایک اور درد ناک مثال پیشِ خدمت ہے : ایران پر صہیونی اسرائیل و مسیحی امریکی جنگ مسلّط کرنے کے بعد(15مارچ2026ء کو)امریکیوں نے ایران کے شہر ’’ میناب‘‘ میں خاص طور پر بچیوں کے ایک اسکول پر حملہ کیا ۔ اِس حملے میں 150سے زائد معصوم ایرانی بچیاں( جن کا جنگ سے قطعی کوئی تعلق ہی نہیں تھا) شہید کر دی گئیں۔

یہ خونریز منظر اور خونی خبر جب عالمی میڈیا کے توسط سے دُنیا بھر میں پھیلی تو ایک کہرام مچ گیا ۔ امریکہ ، کینیڈا، برطانیہ اور مشرقِ وسطیٰ کے ہر بڑے اخبار اور ٹی وی چینل نے اِس المناک اور دل دہلا دینے والی خبر کو رپورٹ کیا ۔ یہ خبر ، ظاہر ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تک بھی پہنچی ۔ اور جب واشنگٹن میں ایک امریکی صحافی نے اِس سانحہ بارے ٹرمپ سے سوال کیا کہ ’’ امریکی میزائل سے ہلاک (شہید) ہونے والی ڈیڑھ سو سے زائد ایرانی اسکول بچیوں بارے آپ کیا کہیں گے ؟‘‘ تو ٹرمپ نے سفاکی سے جواب دیا:’’ یہ میزائل ہم نے یا اسرائیل نے نہیں مارا تھا۔ یہ خود ایرانیوں کی کارستانی ہے ۔‘‘

بے حسی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے ! بِلا شبہ ڈونلڈ ٹرمپ کا تکبر اور غرور اب تو بامِ عروج تک جا پہنچا ہے۔ 21مارچ2026ء کو اُن کے اِس متکبرانہ رویئے کی ایک نئی اور حیرت انگیز جہت سامنے آئی ۔ جاپانی وزیر اعظم سانائی تاکاچی (Sanae Takaichi) ایران ، امریکہ جنگ کے حوالے سے بات چیت کے لیے واشنگٹن گئی ہُوئی تھیں ۔21مارچ کو وہائیٹ ہاؤس کے اووَل آفس میں میزبان ٹرمپ اور مہمان جاپانی وزیر اعظم نے مشترکہ پریس کانفرنس کی ۔ سوال جواب کی نشست کے دوران ایک جاپانی صحافی نے ٹرمپ سے پوچھا:’’جناب والا، آپ نے ایران پر حملہ کرنے سے قبل اپنے یورپی و ایشیائی اتحادیوں کو اعتماد میں کیوں نہ لیا ؟ اپنے اور اسرائیل تک یہ راز کیوں رکھا ؟۔‘‘ ڈونلڈ ٹرمپ نے پلٹ کر (اپنے معزز جاپانی مہمان کی قطعی پروا نہ کرتے ہُوئے) انتہائی سفاکی سے جواب دیا: ’’مَیں نے یہ راز داری جاپانیوں سے سیکھی ہے ۔

جاپان نے بھی تو ( جنگِ عظیم دوم کے دوران) راز داری سے کام لیتے ہُوئے ( امریکی ریاست’’ ہوائی‘‘ کی بندرگاہ) پرل ہاربر پر تباہ کن سپرائز حملہ کیا تھا۔‘‘ پھر ٹرمپ نے جاپانی صحافی کو مخاطب کرتے ہُوئے طنزیہ کہا: ’’ آپ نے مجھے( امریکہ کو) اُس سرپرائز حملے بارے بتایا تھا ؟۔‘‘اور ساتھ بیٹھی جاپانی وزیر اعظم کا حال یہ تھا کہ کاٹو تو لہو نہیں ۔ وہ مگر زبان سے کچھ بولی نہیں۔ جاپانی حزبِ اختلاف اور جاپانی میڈیا نے اپنی وزیر اعظم کی خاموشی اور ٹرمپ کی سفارتی بیہودگی پر سخت احتجاجات تو کیے ، مگر ٹرمپ نے کوئی ندامت محسوس نہیں کی۔

( جاری ہے)