حمید کاشمیری نے قیام پاکستان کے بعد افسانہ نگاری کا آغاز کیا اور قلیل وقت میں نئے لکھنے والوں میں ایک بلند مقام حاصل کر لیا، وہ کالم نویس، صحافی کی حیثیت سے نامور ہوئے لیکن میری رائے میں انھیں جتنی شہرت اور کامیابی ٹیلی وژن کے تمثیل نگار کی حیثیت سے حاصل ہوئی ہے، اتنی کسی اور حقیقت سے حاصل نہیں ہوئی، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس فن کی تکنیک اور اس کے اسرار و رموز سے کماحقہ واقف ہیں اور میں ان کے ٹیلی وژن ڈراموں کی سیریز کافی ہاؤس کی مثال پیش کر سکتا ہوں۔
یہ خراج تحسین تھا، عظیم افسانہ نگار و ناول نگار غلام عباس کا جو انھوں نے محترم حمید کاشمیری کو ان کی حیات ہی میں پیش کیا تھا۔ حمید کاشمیری جنھوں نے یکم جون 1929 کو خوب صورت سیاحتی مقام کوہ مری میں جنم لیا، انھوں نے اپنے تعلیمی مراحل کوہ مری و آس پاس کے علاقوں میں حاصل کیے، انھیں نوجوانی میں ہی کتب بینی کا جنون کی حد تک شوق تھا، چنانچہ وہ کتب بینی کے باعث علم کی اہمیت سے بھی آگاہ ہو گئے تھے ،اسی لیے وہ فروغ علم کے لیے بھی سرگرداں ہو گئے۔
ان کا اولین افسانہ ماہنامہ افکار میں چھپا۔ یہ ذکر خیر ہے 1954 کا، روشن خیال و ترقی پسند حمید کاشمیری کا افسانوی مجموعہ دیواریں اور بعدازاں سرحدیں شائع ہوئے جب کہ کافی ہاؤس ان کے ڈراموں کا مجموعہ ہے جوکہ 1979 میں منظر عام پر آیا جب کہ ایک اور مجموعہ منٹو ادبی عدالت میں 1993 میں شائع ہوا، البتہ وعدے کی قیمت خون یہ 1965 میں چھپنے والی ان کی ایک خوبصورت تحریر تھی جوکہ وادی کشمیر کی مختصر تاریخ تھی۔
یہ ضرور تھا کہ حمید کاشمیری صاحب کی ان تحریروں نے خوب شہرت پائی، حقیقی نام عبدالحمید رکھنے والے حمید کاشمیری کے قریب قریب دس ناول قسط وار ایک ہفتہ روزہ میں شائع ہوئے، البتہ ان کے تین ناول ایسے تھے جنھیں کتابی شکل میں شائع کیا گیا، ان ناولوں میں ادھورے خواب شکست آرزو اور کشکول شامل ہیں۔ حمید کاشمیری نے صحافت کی دنیا میں بھی خوب نام پیدا کیا۔
وہ کئی برس تک مختلف اخبارات میں کالم لکھتے رہے۔ عوامی مسائل کا خوب ادراک رکھتے تھے اور انھیں عوامی مسائل کو منظر عام پر لانے میں خوب دسترس حاصل تھی، اسی لیے ان کے کالم بڑی دلچسپی سے پڑھے جاتے اور بے حد پسند بھی کیے جاتے تھے۔
حمید کاشمیری نے ایک ماہنامہ سفر کہانی کی ادارت بھی کی اور کہانیوں کے انتخاب میں ہمیشہ معیار کو ترجیح دی نہ کہ کسی لکھنے والے کی شخصیت کو۔ حمید کاشمیری نے لغزش، راہیں، سائبان اور دیگر ٹیلی فلمیں بھی بنائیں اور ایک انگریزی دستاویزی فلم بھی بنائی جوکہ بے حد مقبول ہوئی اور کافی پسند بھی کی گئی، البتہ انھوں نے بہت سے ڈرامہ سیریلز و سیریز بھی تحریر کیں جب کہ ایمرجنسی کے نام سے ریڈیو کے لیے ڈرامہ بھی لکھا۔ یہ ڈرامہ 16 اقساط پر مشتمل تھا۔ یہ ڈرامہ بھی بہت پسند کیا گیا۔ ایک اسٹیج ڈرامہ خون اور پانی بھی حمید کاشمیری نے رقم کیا۔ یہاں بھی انھوں نے کمرشلزم کو نہیں معیار کو مدنظر رکھا۔ جب کہ متفرق ڈرامے لکھنے کے علاوہ نامور قلم کاروں کی تحریر کردہ کہانیوں کو بھی انھوں نے بڑے خوبصورت انداز میں ڈرامائی تشکیل دی۔ ان قلم کاروں میں سعادت حسن منٹو، مسعود مفتی، غلام عباس، احمد ندیم قاسمی، خدیجہ مستور اور دیگر قلم کار شامل ہیں۔
حمید کاشمیری نمود و نمائش کے قائل نہ تھے کتابوں سے عشق کرنے والے حمید کاشمیری نے کتابوں کی خرید و فروخت کو بطور پیشہ اختیار کیا اور ان کتابوں کی فروخت سے حاصل کردہ رقم سے اپنے گھر کے اخراجات پورے کرتے رہے۔ قناعت پسندی کا یہ عالم تھا کہ اپنے خاندان کے ساتھ تمام عمر مسٹن اسٹریٹ کے ایک فلیٹ میں مقیم رہے اور خوش رہے۔ وہ اپنے ذاتی مسائل کا ذکر کبھی اپنے دوستوں و احباب سے کرنا پسند نہیں کرتے تھے۔
انھوں نے جو کچھ بھی تحریر کیا اور جو عمل کیا اس میں کوئی فرق نہ تھا، گو ان کے قول و فعل میں کوئی تضاد نہ تھا۔ وہ حق گوئی کے قائل تھے اور اپنے ضمیر کی آواز ہی کو لبیک کہتے تھے۔ وہ ایک باعمل، روشن خیال، ترقی پسند، نظریاتی قلم کار تھے۔ وہ تمام عمر ترقی پسند نظریات کے فروغ کے لیے کوشاں رہے۔ البتہ ماہ جولائی 2003 میں ایک صحافی، ایک ناول نگار، ایک ڈرامہ نگار سب سے بڑھ کر ایک نفیس انسان اس دنیا فانی سے کوچ کر گیا۔ بہرکیف یکم جون کو ان کا 97 واں یوم پیدائش ہے جب کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہفتہ روزہ میں ان کے چھپنے والے ناول جن کی تعداد سات ہے ان کو کتابی شکل میں چھاپا جائے، جیسے کہ دیگر تین ناول چھاپے گئے ہیں۔