کراچی:
کراچی میں ایک بار پھر پانی کابحران کھڑاہو گیا، ہفتے اور اتوارکو 50 سے 60 فیصدعلاقوں میں پانی فراہم نہیں کیاجا سکا، لیکن ہائیڈرنٹس سے پانی کی فراہمی جا ری رہی ہے.
کے الیکٹرک نے دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر بغیر بتائے شٹ ڈائون لیا گیا ،جبکہ اتوارکو این ای کے پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کابریک ڈائون ہوگیا،جس کی وجہ سے دیگر علاقوں میں بھی پانی کی فراہمی بندہوگئی.
شہر میں پانی کی فراہمی تعطل آنامعمول بن گیاہے، جبکہ سرکاری ہائیڈنٹس سے مستقل پانی فراہم کیاجارہا ہے، شہری مہنگے داموں ٹینکرزخریدکراپنی ضروریات پوری کررہے ہیں،شہرمیں پانی نایاب ہوگیاہے.
واٹرکارپوریشن حکام نے ساراملبہ کے الیکٹرک پرڈال دیاہے،جبکہ شہری پانی کی بوند بوندکو ترس گئے ہے۔
واٹرکارپوریشن حکام کا کہناہے کہ ہفتے کوکے الیکٹرک نے جبری طور پر بجلی بندکی جس سے آدھے شہرکو پانی کی فراہمی متاثر ہوگئی تھی، کے الیکٹرک نے 2گھنٹے بعد بجلی بحال کردی تھی، لیکن پھرکچھ دیر بعد این ای کے پمپنگ اسٹیشن پربجلی کابریک ڈائون آگیا،جس سے پانی کی فراہمی مزیدمتاثر ہوگئی.
کراچی میں وہ علاقے زیادہ متاثر ہوئے، جن کو ناغہ سسٹم کے تحت ایک ہفتے میں ایک دن یادودن پانی ملتاہے،جن کانمبر ہفتے اور اتوارکو تھا ان میں پانی نہیں مل سکااور اب ان کواگلے ہفتے پانی ملے گا ۔
واٹرکارپوریشن حکام کے مطابق دھابیجی پمپنگ اسٹیشن سے کسی بھی صورت میں صرف چندمنٹوں کیلیے بھی پانی کی فراہمی بند ہو تو اس کو معمول پر آنے میں 10 سے 20 گھنٹے لگ جا تے ہیں، کے الیکٹرک نے 2 گھنٹوں کاشٹ ڈائون لیا تاہم اب شہر میں پانی کی فراہمی پیر تک معمول پر آنے کاامکان ہے.
اگرکوئی اور مسئلہ نہیں ہوتابجلی کے تعطل آنے کے بعدجو علاقے زیادہ متاثر ہوئے، ان میں گلبرک ، ناظم آباد، نارتھ ناظم آباد،گلشن اقبال ،گلستان جوہر،کورنگی ، لانڈھی ، شاہ فیصل کالونی ،محمودآباد، پی آئی بی کالونی ،لیا قت آباد،حسین آباد،اولڈ سٹی ایریاسمیت دیگر علاقے متاثر ہوئے.
صورتحال پرواٹرکارپوریشن حکام کاکہناہے کہ دھابیجی پمپگ اسٹیشن پر 2 گھنٹے کے الیکٹرک نے شٹ ڈائون لیا،جس کے بعد 21پمپس سے پانی کی فراہمی شروع کی گئی.
کے الیکٹرک کی مین کیبل میں پیداہونیوالے فالٹ کے باعث شہرکو یومیہ 54 ملین گیلن (54 MGD) پانی کی کمی کاسامناہے۔
کراچی واٹر اینڈسیوریج کارپوریشن نے کے الیکٹرک سے مطالبہ کیا ہے کہ شہریوں کو پانی کی فراہمی میں مزیدخلل سے بچانے کیلیے فالٹ کے مستقل خاتمے اور بجلی کی مکمل بحالی کے اقدامات ہنگامی بنیادوں پر مکمل کیے جائیں۔