200 کروڑ روپے منی لانڈرنگ کیس: جیکولین فرنینڈس بری طرح پھنس گئیں

عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں جیکولین کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کا حکم دے دیا ہے


ویب ڈیسک June 01, 2026
اداکارہ کی آنکھ کی پتلی کبھی صحیح نہیں ہوگی: فوٹو: فائل

بالی ووڈ اداکارہ جیکولین فرنینڈس کی مشکلات میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا ہے، کیونکہ 200 کروڑ بھارتی روپے کے منی لانڈرنگ کیس میں عدالت نے ان کے خلاف الزامات عائد کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

یہ کیس مبینہ طور پر معروف ٹھگ سکیش چندر شیکھر اور اس کے بھتہ خوری نیٹ ورک سے جڑا ہوا ہے، جس میں جیکولین فرنینڈس کا نام بھی طویل عرصے سے زیرِ بحث رہا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہفتے کو پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے ادتی سنگھ سے مبینہ طور پر وصول کی گئی 200 کروڑ روپے کی بھتہ خوری سے متعلق منی لانڈرنگ مقدمے میں سکیش چندر شیکھر، ان کی اہلیہ لینا ماریا پال، جیکولین فرنینڈس اور دیگر ملزمان کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے کی منظوری دی۔

ایڈیشنل سیشن جج پرشانت شرما نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ عدالتی ریکارڈ پر موجود شواہد کا جائزہ لینے کے بعد بظاہر یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تمام نامزد ملزمان کے خلاف کارروائی کے لیے کافی مواد موجود ہے۔ عدالت کے مطابق سکیش چندر شیکھر، لینا ماریا پال، دیپک رامنانی، پردیپ رمدانی، بی موہن راج، ارون متھو، ڈی کملیش کوٹھاری، پنکی ایرانی، جیکولین فرنینڈس، پوجا سنگھ، دھرم سنگھ مینا، مہیندر پرساد سندریال، سندر بورا، کومل پودار، جتیندر نرولا، اویناش کمار اور جئے پرکاش سنگھل سمیت دیگر افراد کے خلاف شدید نوعیت کا شبہ موجود ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ مذکورہ ملزمان پر انسدادِ منی لانڈرنگ قانون (PMLA) کی دفعہ 3 کے تحت جرم کے الزامات عائد کیے جائیں، جو اسی قانون کی دفعہ 4 کے تحت قابلِ سزا ہیں۔ تمام ملزمان کو 3 جون کو عدالت میں طلب بھی کر لیا گیا ہے۔

یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ جیکولین فرنینڈس کا نام گزشتہ کئی برسوں سے اس ہائی پروفائل کیس کے ساتھ منسلک ہے۔ اگرچہ انہیں مکوکا کیس میں ملزم قرار نہیں دیا گیا، تاہم انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے اپنی تحقیقات میں ان کے خلاف الگ مؤقف اختیار کیا ہوا ہے۔

ای ڈی کا الزام ہے کہ جیکولین فرنینڈس نے جانتے بوجھتے وہ مہنگے تحائف وصول کیے جو سکیش چندر شیکھر کی مبینہ غیر قانونی آمدن اور بھتہ خوری کے ذریعے حاصل کیے گئے پیسوں سے خریدے گئے تھے۔ تحقیقاتی ادارے کے مطابق اداکارہ کو کروڑوں روپے مالیت کے تحائف دیے گئے جن کا تعلق اس مبینہ مالیاتی نیٹ ورک سے تھا۔

دوسری جانب جیکولین فرنینڈس مسلسل اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات کی تردید کرتی آئی ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ وہ سکیش چندر شیکھر کے مجرمانہ پس منظر اور سرگرمیوں سے مکمل طور پر لاعلم تھیں اور انہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ تحائف کے لیے استعمال ہونے والی رقم کا ذریعہ کیا تھا۔

واضح رہے کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے 17 اگست 2022 کو دائر کی گئی چارج شیٹ میں جیکولین فرنینڈس کو باضابطہ طور پر اس کیس میں نامزد کیا تھا۔ بعد ازاں ضمنی چارج شیٹ میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ اداکارہ نے سکیش چندر شیکھر سے تقریباً 5 کروڑ 71 لاکھ روپے مالیت کے تحائف وصول کیے۔ تاہم جیکولین کا کہنا ہے کہ وہ خود سکیش کی مبینہ دھوکا دہی اور ہیرا پھیری کا شکار ہوئیں اور ان کا کسی غیر قانونی سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں۔

عدالت کی جانب سے فردِ جرم عائد کرنے کے حکم کے بعد اب یہ مقدمہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، جہاں آئندہ سماعتوں میں الزامات اور شواہد کا مزید تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔