مودی حکومت کی تعلیمی بدانتظامی نے بھارت کے امتحانی نظام اور بدترین ادارہ جاتی کرپشن کی حقیقت آشکار کر دی۔
معروف عالمی جریدہ دی گارڈین کے مطابق بھارتی طلباء نے نئے ڈیجیٹل مارکنگ نظام کے تحت بارہویں جماعت کے امتحانی نتائج میں بے ضابطگیوں کی شکایات کے انبار لگا دیے۔
بھارت میں مارکنگ غلطیوں کی شکایات ہونے پر چار لاکھ سے زائد طلبہ نے 11 لاکھ جوابی کاپیوں کی نقول طلب کر لیں۔ متعدد طلباء نے اسکین شدہ جوابی کاپیاں نامکمل ہونے یا ان کے صفحات غائب ہونے کی شکایات کیں۔
طلباء کیجانب سے غلط مارکنگ، دھندلے اسکین اور دوسرے طلبہ کی جوابی کاپیاں موصول ہونے کی شکایات بھی موصول ہوئیں۔ متاثرہ طالبہ کی والدہ نے حکومتی غفلت کو ہزاروں طلبہ کے کیریئر، ذہنی صحت اور مستقبل سے کھیلنے کے مترادف قرار دیا۔
عالمی ماہرین کے مطابق مودی کے زیر اقتدار بھارت میں پیپر لیکس اور مارکنگ اسکینڈلز نے بھارتی طلباء کو جعلی ڈگریاں لینے پر مجبور کر دیا ہے ۔ بھارت میں تعلیمی شفافیت کے فقدان نے جعلی ڈگریوں کے بڑھتے رجحان پر عالمی خدشات مزید بڑھا دیے ہیں۔